13 مئی 2012 - 19:30

بحرين اور سعودي عرب کي حکومتوں نے کئي ماہ کے پس و پيش کے بعد آخر کار باہمي الحاق کے سازشي منصوبے کے بارے ميں اتفاق رائے کا اعلان کرديا ہے-

ابنا: بحرين کے وزيراطلاع رساني نے کہا کہ ملک کي شاہي حکومت نے سعودي عرب کے ساتھ الحاق کي تجويز کو قبول کرليا ہے- اس رپورٹ کے مطابق رياض ميں خليج فارس تعاون کونسل کے اجلاس کے موقع پر بيان ديتے ہوئے بحرين کي وزير اطلاع رساني سميرہ رجب نے کہا کہ سعودي عرب کے ساتھ سلامتي، دفاع، معيشت اور خارجہ امور ميں الحاق کا فيصلہ کيا گيا ہے-

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور ميں چھوٹے ممالک تادير قائم نہيں رہ سکتے اور انہيں اميد ہے کہ خطے کے ديگر عرب ممالک بھي اس اتحاد ميں شامل ہوجائيں گے-  ادھر بحرين کے وزيرخارجہ نے خالد بن احمد بن محمد آل خليفہ نے  بھي اپنے ايک بيان ميں کہا ہے کہ آج کے اجلاس ميں خليج فارس تعاون کونسل کے رکن ملکوں ميں درميان اتحاد کے بارے ميں تبادلہ خيال کيا جائے گا- بحرين اور سعودي عرب کے درميان الحاق کے بارے ميں انہوں نے کہا خليج فارس تعاون کونسل کے رکن ملکوں کے وزارئے خارجہ نے اس مسلئے کا جائزہ ليا ہے اور آج کے اجلاس ميں اس پر بحث کي جائے گي-

ادھر بحرين کے عوام اپنے ملک کے سعودي عرب کے ساتھ الحاق کي  مخالفت  ميں ملک گير مظاہرے کر رہے ہيں- مظاہروں کي اپيل  چودہ فروري نامي  انقلابي نوجوانوں کے اتحاد نے کي ہے

انقلابي نوجوان کے اتحاد کے جاري کردہ بيان ميں کہا گيا ہے کہ اس طرح کا کوئي بھي فيصلہ عوامي خواہشات کے منافي ہے اور اسکي کوئي قانوني حیثيت نہيں ہوگي-واضح رہے کہ بحرين کے عوام فروري دو ہزار گيارہ سے اپنے ملک ميں جمہوريت کے قيام کے لئے تحريک چلا رہے ہيں-

سعودي عرب نے مارچ دوہزار گيارہ ميں بحرين کي شاہي حکومت کو عوامي انقلاب سے بچانے کے لئے اپني فوجيں منامہ روانہ کي تھيں- جس کے خلاف پورے بحرين ميں عوامي مظاہرے اور بھي شدت اختيار کر گئے تھے-

سعودي عرب نے عوام کي سرکوبي اور بحرين ميں اپني فوجي موجودگي کو جواز فراہم کرنے کے لئے بحرين کے ساتھ الحاق کي تجويز پيش کي تھي- سعودي عرب کے بادشاہ ملک عبداللہ نے دسمبر دوہزار گيارہ کو ہونے والے خليج فارس تعاون کونسل کے اجلاس ميں کہا تھا کہ تنظيم کے رکن ملکوں کو تعاون سے آگے قدم بڑھاتے ہوئے اتحاد کي سمت بڑھنا چاہيے-

.......

/169