8 مئی 2012 - 19:30

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ریاست قطر خلیج فارس کی عرب ریاستوں کا امن نیست و نابود کرکے عرب دنیا کے لئے امن کا محور بننے کے خواب دیکھ رہی ہے۔

اہل البیب (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق المنار نیوز ویب بیس نے نہایت واضح تفصیلات اور اہم معلومات کا حوالہ دے کر فاش کیا ہے کہ قطر کے حکمرانوں نے حالیہ چند مہینوں سے خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں انارکی اور عدم استحکام پیدا کرنے کے مذموم منصوبے پرعملدرآمد شروع کیا ہے جس کے ابتدائی اہداف کویت، متحدہ عرب امارات اور عمان ہیں۔اس رپورٹ کے مطابق ان ریاستوں کی خفیہ ایجنسیوں نے گذشتہ چار ماہ کے دوران ایسے دہشت گرد گروپوں کا سراغ لگایا اور ایسے دہشت گرد افراد کو حراست میں لیا ہے جو قطر کی سرپرستی میں ان ملکوں کے اہم شہروں میں تخریبکاراہ جرائم اور بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔ ان افراد نے ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران ہی اعتراف کیا ہے کہ انہیں قطر نے ان ممالک میں روانہ کیا ہے اور قطر ہی ان کی سرپرستی کررہا ہے۔ متحدہ عرب امارات پہلی عرب ریاست ہے جس نے ان دہشت گرد گروہوں کا سراغ لگایا اور انہیں گرفتار کیا۔ اس رپورٹ کے مطابق گرفتار شدگان نے اعتراف کیا ہے کہ انہيں دہشت گردی اور تخریبکاری کی تربیت قطر کے دارالحکومت دوحہ کے نواح میں ایک فوجی اڈے میں دی گئی ہے۔ ان افراد سے متعدد کریڈٹ کارڈز اور بڑی مقدار میں نقد رقوم بھی برآمد ہوئی ہیں۔ کریڈٹ کارڈز بھی فرضي ناموں پر جاری ہوئے تھے جو سرکاری اداروں نے ضبط کرلئے ہیں۔ ان افراد کو امارات میں خفیہ راستوں سے امارات میں داخلے کے وقت ہتھیار، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی دیا گیا تھا اور خفیہ اداروں نے تفتیش کے دوران وہ سارے ہتھیار بھی برآمد کرالئے۔ ان افراد سے تفتیش کے دوران خلیج فارس کی ساحلی ریاستوں بالخصوص کویت کی قومی سلامتی کے بارے میں بھی بہت اہم انکشافات ہوئے اور امارات کے حکام نے یہ معلومات کویتی حکام کے سپرد کیں اور ان ہی معلومات کی بنیاد پر تین خرابکار گروپوں کا سراغ لگایا گیا اور انہیں گرفتار کرلیا گیا اور معلوم ہوا کہ یہ سارے افراد قطر سے کویت آئے تھے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قطر خلیج فارس کی ریاستوں کی سلامتی غارت کرکے اس علاقے میں "امن کی جنت" میں بدلنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس کے اس کام کے اہداف صرف معاشی اور اقتصادی نہیں ہیں کیونکہ خلیج فارس کی ریاستوں میں سرگرم عمل کئی مغربی خفیہ ایجنسیوں نے اپنے دفاتر قطر منتقل کرلئے ہیں۔ بحرین اور کویت سے بھی کئی بیرونی ایجنسیون کے دفاتر دوحہ منتقل کئے گئے ہیں۔ دریں اثناء ابنا کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق قطر میں 12 ہزار امریکی میرینز پہلے سے تعینات ہیں جن کے پاس ایک بہت بڑا زمینی اور ایک فضائی اڈا ہے اور ایک بحری اڈا بھی اس ملک کے شمالی ساحلی علاقے میں بن رہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ یہ اڈا امریکی بحریہ کے لئے بن رہا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ بحرین میں عوامی انقلاب کی کامیابی کی صورت میں اس ملک کے ساحلی علاقے میں تعینات پانچواں امریکی بحری بیڑا اس قطری بحری اڈے میں تبدیل ہوسکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق قطر کو امن کی جنت بنانے کے مقاصد میں فوجی، سیکورٹی، معاشی اور سیاسی مقاصد شامل ہیں یہاں تک کہ حالیہ مہینوں میں قطر پر مسلط آل ثانی خاندان نے بحرین کے عوامی انقلاب کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کرتے ہوئے آل خلیفہ خاندان کے خلاف بعض اقدامات کئے لیکن اس کو کامیابی حاصل نہ ہوسکی کیونکہ بحرین پر آل سعود کا قبضہ ہے اور آل سعود کو اس وقت امریکی دباؤ میں آکر آل ثانی خاندان کو دل پر پتھر رکھ کر برداشت کرنا پڑ رہا ہے اور پھر بحرین کے عوام نے آل خلیفہ خاندان کے خلاف انقلاب کا آغاز کیا ہے چنانچہ وہ آل ثانی خاندان کو اپنے اوپر مسلط کرنے کے روادار نظر نہیں تھے۔ بحرین میں ناکامی کے بعد آل ثانی خاندان نے کویت اور امارات کو اپنی سازشوں کا نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا اور ابتدائی مرحلے میں متعدد تخریبکار ان ریاستوں میں داخل کئے تا کہ وہ ان ریاستوں میں مغربی مفادات، فوجی، خفیہ اور تجارتی مراکز کے خلاف کاروائیاں کریں تا کہ تمام مغربی ادارے قطر منتقل ہوجائیں اور قطر کو علاقائی ملکوں کی طرف سے کسی انتقامی کاروائی کے مقابلے میں مغربی ایجنسیوں کی موجودگی کی شکل میں ایک دفاعی ڈھال میسر آجائے۔ ظاہر ہے کہ علاقائی انقلابات اور شام میں تکفیری بغاوت کی حمایت میں سعودی عرب اور قطر کا موقف یکسان ہے لیکن لگتا ہے کہ قطر سعودی عرب میں بھی بحران پیدا کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور حال ہی میں قطر کے امیر اور وزیر خارجہ کے بعض ٹیلی فون مکالمے بھی منکشف ہوئے ہيں جن میں ان دو قطری حکمرانوں نے بلادالحرمین کو آل سعود سے آزاد کرانے کے اپنے منصوبے سے پردہ اٹھایا ہے اور یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ بعض سعودی شہزادے بھی امیر قطر سے ملے ہوئے ہیں اور حال ہی میں امیر قطر نے دوحہ میں محمد بن عبدالوہاب مسجد تعمیر کی ہے اور اعلان کیا ہے کہ قطر ہی وہابیت کا مرکز ہے چنانچہ وہابیت کی سرپرستی پر بھی آل سعود اور آل ثانی کے درمیان جھگڑا چل رہا ہے اور القاعدہ کی سرپرستی پر بھی تنازعہ چل رہا ہے جبکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ قطر اور سعودی عرب کے درمیان اصل جھگڑا امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کے تحفظ کرنے کے حوالے سے جاری ہے اور دونوں امریکہ اور اسرائیل کو راضی و خوشنود کرنے میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔رپورٹ کے مطابق قطر کی خفیہ ایجنسی جنوبی یمن میں بھی فعال ہوگئی ہے جہاں یمن کی غیر مستحکم صورت حال سے فائدہ اٹھا کر القاعدہ نے ایک بار پھر قوت حاصل کی ہے اور قطری حکمران یمن میں القاعدہ کی قیادت سنبھال کر سعودیوں کو اس دوڑ میں پیچـھے چھوڑنا چاہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ قطر القاعدہ سے سعودی عرب میں فائدہ اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے اور انہیں منظم کرکے مناسب وقت پر سعودی عرب میں داخل کرنا چاہتا ہے اور دوسری طرف سے آل سعود کے حکمران بھی اپنی جیلوں  میں قید القاعدہ کے اراکین سے ملاقاتیں کررہے ہیں تا کہ قطر کی کوششوں کو ناکام بنا سکیں۔ القاعدہ کی سرپرستی پر سعودی عرب اور قطر کے حکمرانوں کے درمیان مسابقت زوروں پر ہے اور اس رپورٹ کے مطابق آنے والے دنوں میں القاعدہ اور سعودی عرب کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط ہونے والے ہیں جس کے تحت سعودی بادشاہ القاعدہ کے بعض سرکردہ افراد کو معافی دیں گے جبکہ آل سعود نے القاعدہ کے سرکردگان کے دل جیتنے کی غرض سے حال ہی میں اسامہ بن لادن کے اہل خانہ کو سعودی عرب لوٹنے کی اجازت دی ہے اور بن لادن کا خاندان سعودی عرب لوٹ چکا ہے۔ واضح رہے کہ القاعدہ کی سرپرستی کے سلسلے میں سعودی عرب کو یہ برتری حاصل ہے کہ اس گروپ کے اکثر حلقے اور سیلز پہلے سے بندر بن سلطان سمیت بعض دوسرے سعودی شہزادوں کے زير سرپرستی کام کررہے ہیں جبکہ قطر ان حلقوں کو سعودی سرپرستی سے نکالنے کی کوشش کررہا ہے؛ گو کہ قطر کو اس سلسلے میں امریکی حمایت حاصل ہے۔ ادھر آل سعود نے القاعدہ کے ساتھ ملے جلے طرز سلوک کے بعد القاعدہ کے خطرات کو اپنے لئے مناسب اور موزون مواقع میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب جبکہ سعودی نوجوان بھی جمہوریت اور آزادی کی طرف بڑھ رہے ہیں اور آل سعود کے خلاف ایک عمومی جمہوری طوفان کے خدشات موجود ہیں چنانچہ وہ القاعدہ کے ساتھ مفاہمت کرکے اپنے بادشاہی تخت اور وہابی دین کے تحفظ کو یقینی نبانا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110