ابنا: صہیوني ریاست کے حکام کے درميان سياسي اختلافات ميں شدت اور اقتدار کي رسہ کشي کے بعد سياسي طور پر اس حکومت کا شيرازہ بکھرنے والا ہے-سياسي تجزيہ نگاروں کا خيال ہے کہ صہیوني ریاست کے عہديداروں کے درميان سياسي اختلافات ميں شدت نے، جو ايک دوسرے کے خلاف بيان بازي پر منتج ہوئي ہے، صہیوني ریاست کے درميان سياسي خليج کو مزيد گہرا کر ديا ہے-
ان حالات ميں اسرائيل کي زيادہ تر جماعتوں کے پاس قبل از وقت پارليماني انتخابات کے علاوہ اور کوئي چارہ نہيں ہے اور وہ اسي بات پر اصرار کر رہي ہيں جبکہ حقيقت يہ ہے کہ موجودہ حالات ميں قبل از وقت انتخابات کا انعقاد نہ صرف يہ کہ صہیوني ریاست کے سياسي مسائل کو کم نہيں کرے گا بلکہ اس حکومت کو ايک نئي مصيبت ميں پھنسا دے گا جس کا نتيجہ، سياسي طور پر اسرائيل کا شيرازہ بکھرنے کي صورت ميں سامنے آئے گا-
ان حالات ميں صہیوني ریاست کےوزير اعظم بنيامین نتين ياہو نے باضابطہ طور پر مقبوضہ فلسطين ميں قبل از وقت انتخابات کے انعقاد کا اعلان کيا ہے- ليکوڈ پارٹي کے رہنما نتين ياہو نے اتوار کي رات قبل از وقت پارليماني انتخابات کے انعقاد کي تصديق کرتے ہوئے کہا کہ سياسي جماعتوں کے درميان اختلافات ميں شدت پيدا ہوجانے کے بعد پارليمنٹ کا کام جاري رکھنا ممکن نہيں ہے-
نتين ياہو اس بات کي کوشش کر رہے ہيں کہ قبل از وقت انتخابات منعقد کرا کے ايک طرف تو ديگر سياسي جماعتوں اور کل ملا کر پارليمنٹ کو اپنے کاموں ميں مداخلت سے روک ديں اور دوسري طرف آئندہ انتخابات ميں اپني قسمت بھي آزما ليں-
اسرائيل کے قوانين کے مطابق جو پارٹي پارليماني انتخابات ميں کامياب ہوتي ہے وزير اعظم اسي کا ہوتا ہے اور يہ گذشتہ بيس برسوں ميں ايسي چھٹي کابينہ ہے جو اپني چارسالہ مدت پوري نہيں کرسکي ہے يہ ايسي حالت ميں ہے کہ صہیوني ریاست کي پارليمنٹ بھي قبل از وقت انتخابات کي تجويز کا جائزہ لے رہي ہےاسرائيلي پارليمنٹ نے پارليمنٹ کي تحليل کے سلسلے ميں حکمراں اور اپوزيشن جماعتوں کي تجويز پر غور کرنا شروع کرديا ہے .
قابل ذکر ہے کہ اسرائيلي وزير اعظم بنيامين نتنياہو پارليمنٹ ميں ليکوڈ پارٹي کي سرپرستي ميں جس دھڑے کي قيادت کررہے ہيں اس نے ستمبر ميں قبل از وقت انتخابات کي تجويز پيش کي ہے جبکہ اسرائيلي پارليمنٹ ميں سب سے بڑي اپوزيشن جماعت کاديما پارٹي کے ليڈر شاؤل موفاز نے اکتوبر ميں انتخابات کرائے جانے کا مطالبہ کيا ہے ان باتوں سے يہ بات صاف ہوجاتي ہے کہ انتخابات کے وقت کو لے کر اسرائيل کي سياسي پارٹيوں ميں اختلافات کھل کرسامنے آگئے ہيں اور اس اسے اس بات کي بھي نشاندہي ہوتي ہے کہ اسرائيل ميں قبل از وقت پارليماني انتخابات کي تاريخ اور وقت کا مسئلہ اختلافات کي شکل ميں نئے مرحلے ميں داخل ہوگيا ہے جس سے غاصب صہیوني ریاست کي بنيادوں کے مزيد کمزور ہونے کا پتہ چلتا ہے.....
/169