ابنا: ميڈيا سے گفتگو ميں احمد مختار کا کہنا تھا کہ وزيراعظم کو اپيل کا حق حاصل ہے اور سپريم کورٹ کا تفصيلي فيصلہ آنے کے بعد لائحہ عمل طے کيا جائے گا. انہوں نے مزيد کہا کہ پارٹي وزيراعظم کے ساتھ ہے اور وزيراعظم کو استعفے کے ليے نہيں کہا.
ايک سوال کے جواب ميں انہوں نے کہا کہجمہوري نظام کو چلنا چاہيے، اسميں ڈيڈلاک نہيں ہونا چاہيے.
ايک اور سوال کے جواب ميں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ڈرون حملے مل کر کرنے کيلئے امريکا سے کہا مگر امريکا نہيں مانا.
احمد مختار نے کہا کہ نيٹوکنٹينرزکوراستہ نہيں دياگياتوعالمي قوانين کي خلاف ورزي ہوگي. سياچن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اسوقت سياچن کے مسئلے کو حل کرنا مشکل ہے. .......
/169