3 مئی 2012 - 19:30

ایک مصری خاتون نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے شوہر فلسطین اور عراق کو مالی امداد پہنچانے کے جرم میں گذشتہ چار برسوں سے آل سعود کے اذیتکدوں میں پابند سلاسل ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا کی رپورٹ کے مطابق مواصلات کے ایک مصری انجنئر "عبداللہ الدمرداش" کی زوجہ "محترمہ اسراء کمال الدین" نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے شوہر 2008 سے کسی عدالتی کاروائی یا فرد جرم عائد کئے بغیر آل سعود کے اذیتکدوں میں اسیری کی زندگی گذار رہے ہیں۔انھوں نے کہا: سعودی اہلکار میرے شریک حیات کو گرفتار کرکے مجھے کرکے تفتیش کے لئے لے گئے اور مجھ سے عراق اور فلسطین کے حوالے سے میرے شوہر کے موقف کے بارے میں سوالات پوچھے اور مجھ سے میرا پاسپورٹ چھین لیا تا کہ میں سعودی عرب سے باہر نہ نکل سکوں اور عبداللہ پر دباؤ بڑھایا جاسکے؛ اور مجھے دھمکی دی کہ اگر میں اپنے شوہر کی رہائی کے لئے کوئی اقدام کروں تو وہ مجھے بھی گرفتار کریں گے۔محترمہ اسراء نے کہا: ہم نے تمام متعلقہ فریقوں سے اپنے شوہر کی رہائی کے لئے رابطہ کیا اور ریاض میں مصری سفارتخانے سے بھی رابطے میں رہے اور درخواست کی کہ میرے شوہر کے اوپر لگائے گئے الزامات کے بارے میں معلومات حاصل کرے اور تین مہینوں کے بعد مصری سفارتخانے نے ہمیں بتایا کہ میرے شوہر کو عراق اور فلسطین کو امداد پہنچانے کی پاداش میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کی قومی انسانی حقوق کمیٹی نے بھی اس موضوع کی تصدیق کرلی ہے۔انھوں نے کہا: سعودی اہلکاروں نے گذشتہ چاربرسوں میں صرف دو بار مجھے اپنے شوہر سے پانچ منٹ تک بات کرنے کی اجازت دی ہے۔اسراء نے کہا: میں نے سعودی عرب میں گرفتار مصری باشندوں کے اہل خانہ کے ہمراہ اب تک 50 مرتبہ سعودی سفارتخانے کے سامنے دھرنوں میں شرکت کی ہے لیکن مختلف جماعتوں اور تنظیموں کی طرف سے عمل میں لائی گئی تمامتر کوششیں اب تک بے ثمر رہی ہیں۔.......

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

بلادالحرمین کی عمومی صورت حال؛العوامیہ میں شیعہ رہائشی علاقوں پر سعودی افواج کی فائرنگ