ابنا: شمالی افریقہ اور عالم عرب میں نمایاں حثیت کے حامل ملک مصر کا شمار ان چند ملکوں میں ہوتا ہے کہ جن کی اپنی تجربہ کار فوج موجود ہے۔ مصر، عراق، لیبیااور شام کے علاوہ کسی اور عرب ملک میں فوجی وسائل کی تو بھر مار ہے لیکن ان کو استعمال کرنے والی تجربہ کار اور قابل ذکر فوج موجود نہیں ہے۔ سعودی عرب جیسے بڑے عرب ملک کو ہی لے لیجئے کہ جس نے گذشتہ سال امریکہ کی گرتی ہوئی معیشت سنبھالا دینے اور فوجی کارخانوں کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے ساٹھ ارب ڈالر مالیت کے ہتیاروں کا سودا کیا ہے، لیکن سعودی عرب اپنے اندر اتنی توانائی نہیں رکھتا کہ حتی ان ہتیاروں کی دیکھ بھال ہی کر سکے۔ نہایت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ عرب حکام اور حکومتوں کے بعض غلط قسم کے تاریخی فیصلوں نے انہیں طاقت و توانائی رکھنے کے باوجود دشمن کے مقابلے میں بھیگی بلی بنادیا ہے، یہی حال کئی دیگر اسلامی ملکوں کا ہے۔ مصر جیسے بڑے اور طاقتور ملک کو، کہ جس کی فوجی طاقت سب سے زیادہ تھی، صہیونی ریاست کے مقابلے میں خود کو اتنا ضعیف و نحیف بنادیا تھا کہ شعور و آگاہی رکھنے والا ہر انسان، خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتا تھا۔ یعنی مصر کی طاقتور ترین فوج کو اس خطے میں محض صہیونی ریاست کی محافظ بنی ہوئی تھی حکام نے پوری فوج ، عوام اور جامعتہ الازھر جیسے عالم اسلام کے ایک طاقتور نظریاتی مرکز کو مکمل طور سے صہیونی ریاست کے آگے گروی رکھ چھوڑا تھا۔ یہی حال سعودی عرب کا تھا اور آج بھی سعودی عرب، اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ صہیونی ریاست کے خلاف کسی معمولی سی بھی حرکت کو اپنے اثرو رسوخ کی بنا پر بے بے اثر بنا دیتا ہے۔[آل سعود نے عالم اسلام کے مرکز ہدایت کو ایسے فتوی سازوں کے حوالے کررکھا جو اسرائیل کے خلاف جہاد کو حرام قرادینے سے بھی نہیں گبھراتے]آل سعود نے عالم اسلام کے مرکز ہدایت کو ایسے فتوی سازوں کے حوالے کررکھا جو اسرائیل کے خلاف جہاد کو حرام قرادینے سے بھی نہیں گبھراتے۔ چنانچہ اب یہ تاثر عام ہوچلا ہے کہ جب تک سرزمین حجاز اور اسلام کے مرکز پر آل سعود یا بالفاظ دیگر آل یہود قابض رہیں گے اسلامی دنیا کا کوئی بھی مسئلہ منجملہ مسئلہ فلسطین حل نہیں ہوگا، یہی نہیں بلکہ جبتک یہ خاندان مکہ و مدینہ پر قابض رہے گا اس وقت تک، مسلمان، جنوبی سوڈان جیسے نوظہور ملکوں کا داغ اپنے سینے پر سہتے رہیں گے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے عوام اور علما اسلامی انقلاب کی کامیابی سے قبل اور اور اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد، اسلامی امہ کو درپیش چیلجوں خصوا قدس شریف کے تعلق سے ہمیشہ حساس رہے ہیں۔ بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ اور ان کے شاگرد خاص کہ جن کا یکم مئی کو یوم شہادت منایا جارہا ہے اسلامی انقلاب کی کامیابی سے برسوں پہلے، سرزمیں فلسطین کی آزادی اور صہونیوں کے چنگل سے قدس شریف کی رہائی کے لئے بیانات، فتوے اور اقدامات اس بات کے شاہد ہیں کہ یہ شخصیات، سعودی عرب کے درباری مفتیوں اور جامعتہ الاظہر سے وابستہ بعض دین فرشوں کے مقابلے میں، اسلام اور مسلم امہ کا کتنا درد اپنے دلوں رکھتے تھے۔ چنانچہ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد، انقلابی قیادت حکومت اور عوام کی جانب سے جو آواز بلند ہوئی اور جتنے اقدامات کئے گئے اس میں، قدس شریف اور مسئلہ فلسطین، سرفہرست ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ عالم عرب میں بعض اوقات ایسے واقعات کا مشاہدہ کرنا پڑتا ہے کہ جس پر عالم اسلام کے ساتھ معمولی سی ہمدردی رکھنے والا انسان بھی، ردعمل دکھانے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اس وقت جب کہ غاصب صہیونی حکومت اسلامی بیداری کی وجہ سے تنہائی کا شکار ہے اور صہونی حکام خود کو مسائل و مشکلات میں گھرا پا رہے ہیں، مفتی مصر ان کی دلجوئی کے لئے، اسرائیل کا دورہ کر رہے ہیں کہ جس جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ علاؤ الدین بروجردی نے اپنے ایک بیان میں مصر کے مفتی علی جمعہ کے اسرائیل کے دورے کو صہیونی ریاست کے مفادات کی راہ میں قرار دیا ہے۔[بروجردی نے کہا کہ ایک ایسے وقت جب صیہونی عقوبت خانوں میں ہزاروں فلسطینیوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہے مفتی مصر کا دورہ یقینا اسلامی اور الھی احکام کے منافی شمار ہوتا ہے]بروجردی نے کہا کہ ایک ایسے وقت جب صہیونی عقوبت خانوں میں ہزاروں فلسطینیوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہے مفتی مصر کا دورہ یقینا اسلامی اور الھی احکام کے منافی شمار ہوتا ہےعلاالدین بروجردی نے علی جمعہ کے دورہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ناقابل قبول اور صیہونی حکومت کو مراعات دینے کے مترادف ہے۔ بروجردی نے کہا کہ ایک ایسے وقت جب صہیونی عقوبت خانوں میں ہزاروں فلسطینیوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہے مفتی مصر کا دورہ یقینا اسلامی اور الھی احکام کے منافی شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کوئي اور شخصیت بالخصوص علماء دین جو کہ عوام کے لئے مثالی حیثیت رکھتے ہیں اس طرح کی غلطیاں نہیں کریں گے۔عرب حلقوں کی مخالفت کے باوجود اردن کی پٹھو شاہی حکومت کے چند حکام اور عرب ملکوں کی بعض شخصیات منجملہ مفتی مصر اور یمن کے ایک درباری مبلغ نے اسرائیل کا دورہ کیا ہے ۔ عرب حلقوں کا کہنا ہےکہ یہ دورہ صیہونی حکومت کے ساتھ ساز باز کرنے کے مترادف ہے۔ بلاشبہ امریکہ اور مغرب نواز حکمرانوں کے قدس کی غاصب صہیونی حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہیں بلکہ ذاتی مراسم بھی ہیں لیکن ایسے افراد کہ جنہیں لوگ، علما اور صاحبان فتوی کے عنوان سے جانتے ہیں، ان کا غاصب صہیونیوں کے ساتھ پینگیں بڑھانا، امت مسلمہ کے زخموں پر نمک پاشی اور اسلام کی توہین اور اہانت شما ر ہوتا ہے۔ مفتی مصر علی جمعہ کے اسرائیل کے اس دورے سے مصری عوام کی تذلیل اور صہیونی ریاست کے غیر انسانی اقدامات کی تشویق ہوئی ہے کہ جس کا انہیں بہرحال جواب دینا ہوگا۔ عالم عرب میں اسلامی بیداری کی جو لہر اس وقت دیکھنے میں آرہی ہے اس کا تقاضا تو یہ کہ مغرب نواز حکومتیں اور ان سے وابستہ سیاسی و سماجی شخصیات اور علما و درباری مفتیوں کو اپنے ماضی کے کردار پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور دنیا کی خاطر اخرت کو خراب نہیں کرنا چاہیے۔ امریکہ اور مغربی حکومتوں کا یہ وطیرہ رہا کہ جب تک ان مفادات ساتھ دیتے ہیں وہ شطرنج کے مہروں کی طرح انہیں استعمال کرتے رہتے ہیں اور جونہی دیکھتے کہ وہ بازی ہار رہے ہیں تو پھر وہ اپنے کارندوں کو استعمال شدہ ٹشو پیپر کی طرح مسل کر پھینک دیتے ہیں عصر حاضر کی تاریخ ایسے دسیوں پٹھو حکمرانوں کے عبرتناک انجام سے بھری پڑی ہے۔ انگلیوں پر نچانے والے مغرب نے ضرورت پڑنے پر کبھی کسی حکمراں کا ساتھ نہیں دیا ہے لہذا پٹھو حکمرانوں کے لئے بہتر ہوگا کہ اپنے عوام کے مطالبات توجہ دیں اور اس زیادہ اپنے لئے ذلت اوررسوائی کا سامان مہیا نہ کریں۔......./169
3 مئی 2012 - 19:30
News ID: 312904
[جب تک سرزمین حجاز اور اسلام کے مرکز پر آل سعود یا بالفاظ دیگر آل یہود قابض رہیں گے اسلامی دنیا کا کوئی بھی مسئلہ منجملہ مسئلہ فلسطین حل نہیں ہوگا] جب تک سرزمین حجاز اور اسلام کے مرکز پر آل سعود یا بالفاظ دیگر آل یہود قابض رہیں گے اسلامی دنیا کا کوئی بھی مسئلہ منجملہ مسئلہ فلسطین حل نہیں ہوگا.