29 اپریل 2012 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے تہران میں اپنے آرمینیائی ہم منصب سے ملاقات کے موقع پر بغداد میں ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے مذاکرات کے بارے میں پرامیدی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہم نے استنبول مذاکرات میں ایک قدم آگے بڑھایا ہے تو بغداد مذاکرات میں کئی قدم آگے بڑھائیں گے۔

ابنا: ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے جامع مذاکرات کا پہلا دور چودہ اپریل کو ترکی کے شہر استنبول میں منعقد ہوا تھا جبکہ ان مذاکرات کا دوسرا دور تئیس مئی کو عراق کے دارالحکومت بغداد میں منقعد ہو گا۔

ایرانی وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے اتوار کے روز تہران میں آرمینیا کے وزیر خارجہ ایڈورڈ نعلبندیاں سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے امور اور اہم علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر تبادلۂ خیال کیا۔ اس ملاقات کے بعد دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں نامہ نگاروں کے سوالات کے جوابات دیے۔

علی اکبر صالحی نے اس پریس کانفرنس میں کہا کہ بغداد مذاکرات سے قبل کام کو جاری رکھنے کے لیے ایک روڈمیپ تیار کیا جائے گا۔ انہوں نے اس کے ساتھ ہی ساتھ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ اس سلسلے میں بہت سے تجزیے اور نقطۂ نظر پیش کیے جا رہے ہیں، اس بات پر زور دیا کہ ان تجزیوں اور نقطۂ ہائے نظر کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔

ایرانی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران ایک ایسی راہ حل کی تلاش میں ہے کہ جس میں دونوں فریق کامیاب ہوں۔ لیکن جو چیز ماضی کی رکاوٹوں اور دشمنی کے پیش نظر مذاکرات کو جاری رکھنے کے لیے اعتماد سازی کا باعث بن سکتی ہے مغرب کے مخاصمانہ موقف میں تبدیلی ہے۔

استنبول مذاکرات اس لحاظ سے ایک مثبت قدم قرار دیے گئے ہیں لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ کسی بھی حالات میں ایران کے حقوق کو نظرانداز کرنا ہرگز قابل قبول نہیں ہے اور اس سے مذاکرات مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔

اس بنا پر توقع کی جا رہی ہے کہ مذاکرات کے فریق اس نقطے پر پہنچ جائیں گے کہ وہ ایٹمی ٹیکنالوجی سب کے لیے ایٹمی ہتھیار کسی کے لیے نہیں پر مبنی ایران کے نعرے کو اپنے فیصلوں کا معیار قرار دیں اور اگر اس سلسلے میں وہ سچائی کا مظاہرہ کریں تو اس بارے میں ایران کے ساتھ ایک مشترکہ نقطۂ نظر تک پہنچنا زیادہ مشکل نہیں ہو گا۔

اس وقت مذاکرات کی فضا میں دو ٹھوس حقیقتیں موجود ہیں ایک یہ کہ ایران کے خلاف پابندیوں کی پالیسی بےنتیجہ اور غیرکارآمد ہے دوسری یہ کہ ایران کے ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کے دعوے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے اس کے ساتھ ہی ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران نے اعلی ترین سطح پر ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور ان کے استعمال کو حرام قرار دیا ہے۔

ان دو حقائق نے ایٹمی مسئلے پر ایران کے خلاف امریکہ اور مغرب کی دباؤ کی پالیسی کو مشکل سے دوچار کر دیا ہے۔ البتہ توانائی کی منڈی پر ایران کے تیل کے بائیکاٹ کے نتائج پر مغرب کی تشویش اور اس فیصلے کی بڑھتی ہوئی مخالفت کہ جو ایران کے بارے میں مغربی بلاک میں اختلافات کی عکاسی کرتی ہے، اس بات کا باعث بنی ہے کہ مقابل فریق ایران کے ساتھ مذاکرات میں زیادہ احتیاط کا مظاہرہ کرے اور ہر غیرمنطقی اور جلدبازی کے فیصلے سے قبل ایران کے بارے میں اپنی توانائیوں کو جانچے۔

مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح ایرانی وزیر خارجہ نے اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ایران نے تعمیری طرزعمل اور نئی تجاویز سے استنبول میں ایٹمی کیس کے خاتمے کا آغاز کر دیا ہے اور اب یہ امید رکھنی چاہیے کہ مستقبل قریب میں ہم اس مصنوعی کیس کو بند ہوتا ہوا دیکھیں گے۔
....... 
/169