20 اپریل 2012 - 19:30

چين نے افغانستان ميں سيکورٹي فراہم کرنے ميں تعاون کے لئے نيٹو کي درخواست مسترد کردي ہے۔

ابنا: نيٹو کے سيکريٹري جنرل اينڈرس فوگ راسموسن نے چين سے درخواست کي تھي کہ افغانستان ميں سيکورٹي فراہم کرنے کا ايک حصہ اپنے ذمے لے لے۔

   بيجنگ سے موصولہ رپورٹ کے مطابق چين نے اعلان کيا ہے کہ وہ افغانستان ميں سيکورٹي کے لئے اپنے فوجي يا سيکورٹي اہلکار نہيں بھيجے گا۔  چيني حکام نے اعلان کيا ہے کہ وہ نقد رقم اور ضرورت کي اشيا کي صورت ميں افغان افواج کي مدد کو ترجيح ديں گے۔ 

 رپورٹوں کے مطابق افغانستان کي جنگ پر نيٹو کو سالانہ چار ارب ڈالر کے برابر رقم خرچ کرني پڑ رہي ہے۔اگرچہ نيٹو اس ميں سے ايک ارب ڈالر کي رقم ان ملکوں سے وصول کرتي ہے جو افغانستان کي جنگ ميں شريک نہيں ہيں ليکن مغرب کے موجودہ اقتصادي اور معاشي بحران کے پيش نظر افغانستان جنگ کے اخراجات کو پورا کرنا اس کے لئے آ‎سان نہيں رہا ہے۔

اقتصادي مشکلات کے ساتھ ہي افغانستان ميں امريکا اور نيٹو کے رکن ديگر ملکوں کو پہنچنے والے جاني نقصانات کي وجہ سے  بھي ان کے لئے  افغانستان پر اپنے قبضے کو طول دينا مشکل ہورہا ہے۔ بنابريں امريکا اور نيٹو کي کوشش ہے کہ چين جيسے ممالک بھي افغانستان ميں اپنے فوجي بھيجيں  تاکہ ان کا بوجھ کچھ ہلکا ہوسکے۔

يہ ايسي حالت ميں ہے کہ امريکا کے سياسي و صحافتي حلقے افغانستان ميں امريکا کي شکست کو يقيني قرار ديتے ہيں۔ چنانچہ واشنگٹن ٹائمز نے افغانستان کي جنگ کو امريکا کے لئے ايک قومي سطح کا ڈراؤنا خواب قرار ديتے ہوئےلکھا ہے کہ افغانستان ميں امريکا کو شکست ہوچکي ہے۔ واشنگٹن ٹائمز لکھتا ہے کہ باراک اوباما کو افغانستان ميں شکست ہوئي ہے اورجنگ افغانستان کي شکست جنگ ويتنام کي شکست سے زيادہ سنگين ہے۔ واشنگٹن ٹائمز لکھتا ہے کہ اب وقت آگيا ہے کہ امريکي فوجيوں کو  افغانستان سے  نکال کے وطن واپس لايا جائے اور يہ قومي ڈراؤنا خواب ختم کيا جائے۔ 

 امريکا کے سياسي اور صحافتي حلقوں کا کہنا ہے کہ افغاستان امريکاکے لئے ايک خطرناک دلدل ميں تبديل ہوچکا ہے۔ افغانستان ميں دو ہزار سے زائد امريکي فوجيوں کي ہلاکت ہزاروں کا زخمي ہونا اور امريکي عوام پر پانچ سو ارب ڈالر کا بوجھ افغانستان پر امريکي قبضے کے نتائج ہيں۔ اس وقت نيٹو کے اندر بھي افغانستان کي جنگ کے تعلق سے اختلافات شديد ہوگئے ہيں اور افغانستان ميں

اس کي کارکردگي پر اعتراض روز بروز وسيع تر ہورہا ہے۔نيٹو کي کوشش تھي کہ چين جيسے ملکوں کو بھي افغانستان کي دلدل ميں پھنسادے ليکن چين کے ليڈروں نے حالات کو سمجھتے ہوئے افغانستان ميں امريکا اور نيٹو کے کھيل ميں شامل ہونے سے انکار کرديا ہے۔.......

/169