19 اپریل 2012 - 19:30

برسلز ميں نيٹو کے اجلاس کے بعد اعلان کيا گيا ہے کہ افغانستان کے بارے ميں نيٹو کي پاليسي ميں کوئي تبديلي نہيں آئے گي۔

ابنا: برسلز سے موصولہ رپورٹ کے مطابق نيٹو کے سيکريٹري جنرل اينڈرس فوگ راسموسن نے پريس کانفرنس ميں اعلان کيا کہ اجلاس ميں افغانستان کے بارے ميں حکمت عملي تبديل نہ کرنے کا فيصلہ کيا گيا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ دو ہزار تيرہ تک طالبان سے لڑنے کي تمام تر ذمہ داري کابل کو سونپ دي جائے گي اور غير ملکي افواج دو ہزار چودہ تک افغانستان سے نکل جائيں گي۔

 انہوں نے کہا کہ افغانستان کي سيکورٹي کي ذمہ داري کابل حکومت کو سونپنے کے لئے افغان فوج اور پوليس اہلکاروں کو تعداد بڑھا کر تين لاکھ پچاس ہزار تک پہنچانا نيٹو کے پروگرام ميں شامل ہے۔

 قابل ذکر ہے کہ اس اجلاس ميں روس کے وزير خارجہ سرگئي لاؤرو‌ف نے کہا تھا کہ چين سميت ايشيائي ملکوں کو افغانستان سے غير ملکي افواج کے نکلنے کے پروگرام ميں تاخير کي بابت تشويش ہے۔   نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے پاکستان سے نيٹو کي سپلائي لائن کھولنے اور قبائلي علاقوں ميں دہشتگردوں کے خلاف کاروائي تيز کرنے کا مطالبہ کيا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات ميں دو اہم مسائل ہيں ، پہلاسپلائي لائن کا ہے جو بقول ان کے فوري نوعيت کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اميد ہے کہ پاکستان نيٹو کي سپلائي لائن جلد کھولے گا۔

 نيٹو کے سيکريٹري جنرل نے کہا کہ دوسرا مسئلہ پاکستان ميں دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کا ہے جہاں سے افغانستان ميں حملے کئے جاتے ہيں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو قبائلي علاقوں ميں دہشتگردوں کے خلاف کاروائي تيز کرني چاہئے جو خود پاکستان کے مفاد ميں ہے۔.......

/169