17 اپریل 2012 - 19:30

ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے، اور تمہارے اجر پورے کے پورے تو قیامت کے دن ہی دئیے جائیں گے، پس جو کوئی دوزخ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا وہ واقعۃً کامیاب ہو گیا، اور دنیا کی زندگی دھوکے کے مال کے سوا کچھ بھی نہیں۔ (قرآن)

یہ ہے خانہ عبرت، یہاں جانا ہے سب کو، ہم دیکھتے ہیں ہر روز کئی لوگوں کو مرتے ہوئے اور کئی لوگوں کو اس خانہ عبرت میں جاتے ہوئے؛ ہم اپنے عزیزوں کو بھی اسی خانہ عبرت میں دفن کرتے ہیں لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمیں خود بھی اسی خانہ عبرت میں جانا ہے لیکن شاید ہم یہ امکان بھی ذہن میں رکھتے ہیں کہ شاید ہم بچ جائیں، شاید ملک الموت ہماری جان لینا بھول جائیں یا شاید ہم حضرت الیاس و ادریس و خضر و حضرت عیسی یا اما عصر علیہم السلام کی مانند طویل عمر پائیں یا شاید قیامت تک زندہ رہیں! یا پھر مقرب ملائکہ کی مانند؛ لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ ان کو بھی موت کا مزہ چھکنا ہے چنانچہ ہمیں بھی ضرور چکھنا ہے موت کا مزہ اور ہمیں بھی پہنچنا ہے اس خانہ عبرت میں کیونکہ فرمان خداوندی ہے:"كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَما الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُورِ"۔ ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے، اور تمہارے اجر پورے کے پورے تو قیامت کے دن ہی دئیے جائیں گے، پس جو کوئی دوزخ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا وہ واقعۃً کامیاب ہو گیا، اور دنیا کی زندگی دھوکے کے مال کے سوا کچھ بھی نہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں کوئی چیز ہمیں اس خانہ عبرت اور اس کے بعد کے مراحل سے بچا نہيں سکے گی گوکہ قرآن مجید کی گواہی کے مطابق ہم میں سے کئی لوگ ہیں جو مال دنیا کو گن گن کر تصور کرتے ہيں کہ شاید یہ مال ہمیں خلود اور دوام حیات عطا کرے گا۔ویسے یہ قبر یہ خانہ عبرت ہے کیا؟جواب یہ ہے کہ وہ آیات و روایات جو برزخی حیات پر دلالت کرتی ہیں بتاتی ہیں کہ قبر اس چھوٹے سے گڑھے کا نام ہی نہیں ہے جس میں انسان دفن ہوتا ہے بلکہ یہ وہی دنیا ہے جس کا اس دنیا کی حیات کے بعد وعدہ دیا گیا ہے وہی دنیا جو اس دنیا اور قیامت کے درمیان واقع ہے اور انسان کو اس میں برزخی زندگی بسر کرنی ہے اور چونکہ اس گڑھے میں تدفین اس دنیا میں داخلے کا لازمہ یا آغاز ہے اسی وجہ سے اس کو قبر کا نام دیا گیا ہے۔ روایات میں ہے کہ برزخی حیات میں روح ایسے بدن سے تعلق پاتی ہے جو دنیاوی بدن سے مماثلت رکھتا ہے جو لطیف ہے اور اس دنیا سے مناسبت و مطابقت رکھتا ہے اور اسی روح اور اسی بدن کو ثواب سے بہرہ مند یا عِقاب سے دوچار کیا جاتا ہے۔