اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی - ابنا - کی رپورٹ کے مطابق برطانوی ملکہ الیزبتھ کی تاج گذاری کی ساٹھویں سالگرہ کے موقع پر دوسرے مطلق العنان حکمرانوں کی مانند بحرین پر مسلط خلیفی خاندان کے بادشاہ کو بھی دعوت دی گئی ہے جو گذشتہ ایک سال کے دوران بحرینی عوام کو پرتشدد کاروائیوں کا نشانہ بنانے کی وجہ سے عالمی طور پر بدنام ہوچکے ہيں اور ان کے خلاف بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمے دائر کئے گئے ہیں چنانچہ برطانوی اخبارات و جرائد اور بحرینی اپوزیشن نے ملکہ کے اس غیرسنجیدہ اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔
دریں اثناء بکھنگم پیلس نے حمد بن آل خلیفہ کو دعوت دینے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ "یہ دعوت ملکوں کے ساتھ تعلقات کے اصولوں کے احترام" کی بنا پر دی گئی ہے لیکن ان کے اس اقدام پر احتجاج کرنے والوں نے کہا کہ یہ ملکوں کے درمیان تعلقات کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزي ہے کیونکہ آل خلیفہ خاندان نے بحرینی عوام کا قتل عام کیا ہے اور ان کی آزادیاں کچل ڈالی ہیں۔
برطانوی سینٹ کے انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ "ایرک اویبری Eric Avebury" نے کہا: بحرینی بادشاہ کی مانند آمر حکمرانوں کو دعوت دینے کا کیا مطلب ہوسکتا ہے؟ سب جانتے ہیں کہ بحرین کی صورت حال غیرمعمولی ہے اور اس ملک کے عوام کا قتل بدستور جاری ہے اور ہزاروں افراد کو ٹارچر کیا گیا ہے اور ہزاروں افراد جیلوں میں بند ہیں۔
انھوں نے کہا: بحرینی عوام اپنے گھروں میں زہریلی گیسوں کا نشانہ بن کر مررہے ہیں اور میری رائے یہ ہے کہ بحرین کی خاص صورت حال کے پیش نظر لندن ـ منامہ کے تعلقات کی نوعیت کو بدل جانا چاہئے۔
یاد رہے کہ آل خلیفہ کے گماشتے راتوں کو ـ جب لوگ اپنے گھروں میں سو رہے ہوتے ہيں اور آرام کررہے ہوتے ہیں، گلیوں کوچوں میں جاکر گھروں کے اندر زہریلی گیسوں کے گولے پھینکتے ہيں جس کی وجہ سے ابھی تک بچوں اور خواتین سمیت درجنوں افراد اب تک شہید ہوچکے ہیں۔
.......
/169
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:
14، 15 و 16 اپریل؛ بحرین کی خاص خاص خبریںبحرین کے انقلاب کرامت کا 427واں دن/ خلیفی غنڈوں نے ایک نوجوان کو کچل کر شہید کردیا/ اپڈیٹس