15 اپریل 2012 - 19:30

کابل…افغان حکام کے مطابق کابل ميں گذشتہ روز سے جاري جھڑپيں ختم ہو گئي ہيں اور تمام حملہ آور ہلاک کر ديئے گئے ہيں.

ابنا: وزارت داخلہ کے ترجمان صديق صادق کے مطابق حملہ آوروں کے آخري دو ٹھکانے، ڈپلوميٹک انکليو اور پارليمنٹ کو بھي کلئير کرا ليا گيا ہے. واضح رہے کہ گذشتہ روز افغان طالبان نے کابل، جلال آباد، لوگر اور گرديز ميں حملے کيے اور اس دوران سفارت خانوں،پارلے منٹ، ائر پورٹ اور سرکاري عمارتوں کونشانہ بنايا. افغان وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ کارروائي کے دوران 19 شدت پسند ہلاک اور 14 پوليس اہلکاروں سميت 23 افراد زخمي ہوئے.

افغان وازرت خارجہ کے ترجمان صديق صديقي نے بتايا ہے کہ انٹيلي جنس کي ابتدائي رپورٹ کے مطابق حملوں ميں حقاني نيٹ ورک کے ملوس ہونے کا اشارہ ملا ہے ليکن ابھي اس کي تصديق نہيں کي جا سکتي. پوليس کے مطابق حملے کے دوران کابل ميں8 اور صوبہ لوگر ميں 3دہشت گردوں کو ہلاک کيا گيا. انٹيلي جنس حکام کے مطابق کابل پر حملے کے دوران نائب صدر محمد کريم خليلي حملہ آروں کا نشانہ تھے.

خودکش حملہ آوراپنے مقررہ ہدف کو نشانہ بنانے ميں ناکام رہے اور دو کو گرفتار کرليا گيا. کابل ميں امريکي سفير ريان کروکر نے بتايا ہے طالبان کے ايک ساتھ کئي حملوں کے جواب ميں افغان سکيورٹي فورسز کي کاروائي بہتري کي واضح علامت ہے. ايساف کمانڈرجان ايلن کے مطابق افغان سکيورٹي فورسز نے بروقت جوابي کارروائي کر کے شہريوں کي جان بچائي. 
.......

/169