14 اپریل 2012 - 19:30

صہیونی ریاست کےسامنے فلسطینی قیدیوں کی استقامت کےمتعلق خبریں اور رائےعامہ کی جانب سے بڑےپیمانےپران کی حمایت کےسلسلےمیں مختلف خبریں اور رپورٹیں سامنےآرہی ہیں ۔

ابنا: صیونی جیلوں میں قید فلسطینیوں نے ان کےمطالبات کےجائزہ لینےکےجھوٹھےدعوے کی مخالفت کرتےہوئےتاکید کی ہےکہ وہ اس کےخلاف بھوک ہڑتال کاسلسلہ جاری رکھیں گے ۔قیدیوں کےامور کاجائزہ لینےوالےایک اہم محقق فوادالخفش نےفلسطین کےمرکزاطلاع رسانی یاانفارمیشن سنٹر کوانٹرویودیتےہوئے کہاکہ صہیونی ریاست اپنی تمام تردھمکیوں اور عیاریوں کےباوجود فلسطینی قیدیوں کوغیرمعینہ بھوک ہڑتال سےروکنے پرمجبور نہيں کرسکی ہے اورفلسطینی قیدیوں نےاپنی بھوک ہڑتال کاسلسلہ پھرسےشروع کرنےپرتاکید کی ہے۔

فلسطینی انتظامیہ میں قیدیوں کےامور کےوزیرعیسی قراقع نے بھی تاکید کی ہے کہ فلسطینی قیدی آئندہ دنوں میں ایک بارپھر بڑےپیمانے پربھوک ہڑتال شروع کرنےوالےہیں تاکہ دنیا تک اپنی مظلومیت کی آواز پہنچاسکيں۔

عیسی قراقع نے کہاکہ مختلف فلسطینی گروہوں سےوابستہ قیدیوں نے اسرائیلی جیلوں کی بدترصورت حال اوراس کی تشدد آمیزپالیسیوں کےخلاف سترہ اپریل سے ایک بارپھراپنی غیرمعینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کرنےوالےہيں۔

عیسی قراقع نے فلسطین کےتمام قومی اوراسلامی گروہوں سےاپیل کی ہے کہ فلسطینی قیدیوں کےساتھ یکجہتی کےلئے متحدہ موقف اختیارکریں اورمنصوبہ تیارکریں ۔

فلسطینی قیدیوں کے امور کےوزیر نےاس کےساتھ ہی پورے فلسطین ميں یوم اسراء کی مناسبت سےبڑےپیمانےپرعوامی پروگراموں کی خبردی ہے اورفلسطینی عوام سےمطالبہ کیاہےکہ صہیونی جیلوں سےفلسطینی قیدیوں کی رہائی کےلئے ان پروگراموں میں بڑےپیمانےپرشرکت کرکے انھیں رہا کرانےکی کوشش کریں۔

یہ ایسےعالم میں ہے کہ جب فلسطینی مزاحمتی گروہوں نےبھی فلسطینی قیدیوں کی رہائی کےلئےسترہ اپریل سےغیرمعینہ مدت تک بھوک ہڑتال کااعلان کیاہے۔اس تناظر میں فلسطینی گروہوں نے فلسطینی قیدیوں کےساتھ اظہاریکجہتی کرتےہوئےتاکید کی ہےکہ وہ پیر کےدن بھوک ہڑتال کریں گے۔

فلسطینی استقامتی گروہوں نے فلسطینی قیدیوں کےخلاف مسلسل جدوجہد جاری رکھنے کےبارےمیں خبردار کیاہے جبکہ انھیں بڑےپیمانے پررائےعامہ کی حمایت بھی حاصل ہے۔

ایسےعالم میں جب فلسطینی قیدی صہیونی جیلوں کی بدترصورت حال اور اس میں جاری تشدد کی جانب دنیاکی توجہ مبذول کرانے کےلئے بھوک ہڑتال کررہے ہيں اوراس سلسلےمیں فلسطینی مزاحمتی تنظیموں سمیت فلسطینی رائےعامہ بھی پوری طرح ان کےساتھ ہے دیکھنا یہ ہے کہ عالمی رائےعامہ اور انسانی حقوق کےدعویداروں کےکانوں تک ان کی صدائےمظلومیت پہنچتی ہے یاوہ اب بھی اپنےکانوں میں تیل ڈالےہوئے فلسطینیوں کی مظلومیت کاتماشہ ہی دیکھیں گے۔ .......

/169