اس دنیا میں انبیاء، اولیاء، شہداء، صدیقین، احرار اور اقطاب کی کوئی کمی نہیں ہے۔ کوئی کسی نبی کا حامی بنتا ہے، کوئی کسی پیر کا مرید یا عقیدتمند ہوجاتا ہے؛ کوئی کسی شہید کو مثالی شخصیت بنا کر اس کے نقش قدم پر چلنا اپنی مقصد بنا لیتا ہے۔ کوئی کسی صدیق کی صداقت اور وفاداری کا دلدادہ ہوجاتا ہے، کوئی کسی وارستہ اور غیراللہ کی قید سے آزاد انسان کی اطاعت کو اپنا ہدف زندگی بنا دیتا ہے۔ ان کے علاوہ کئی لوگ افسانوی شخصیات کے پیچھے چلتے ہیں، کھلاڑیوں، فلمی ستاروں، سیاستدانوں سائنسدانوں یا حتی کہ قاتلوں یا ڈاکؤوں تک کو اپنا ہیرو بنادیتے ہیں۔ اس حقیقت سے ثابت ہوتا ہے کہ "ہیرو"، "محبوب شخصیت"، "مثالی شخصیت"، "عملی نمونہ" وغیرہ کا تعین انسانی فطرت کا تقاضا ہے چنانچہ خداوند متعال نے انبیاء اور اولیاء بھیج کر اور اقطاب و ابدال، علماء، شہداء اور صالحین کے لئے قواعد و ضوابط اور راہ و روش کا تعین فرما کر انسانوں کی یہ پیاس مٹانے کا بندوبست کیا؛ اور اگر کوئی شخص مقربین کے سوا کسی اداکار، پہلوان، کھلاڑی اور گویے کو اپنا ہیرو بنا لیتا ہے تو یہ خاندانی اور معاشرتی تربیت کا نتیجہ ہے۔ہم عالم اسلام اور عالم تشیع میں دیکھتے ہیں تو ایسی بہت سی شخصیات ہیں جن کو ہیرو، مثالی شخصیت، عالی نمونہ، پیر و مرشد کا نام دیا جاسکتا ہے۔ ہمارے ہاں ایسی شخصیات کی کوئی کمی نہيں ہے اور دینی حوالے سے ہمارے مراجع تقلید، علماء، شہداء وغیرہ ہمارے لئے ہیرو کا رتبہ رکھتے ہیں اور پھر مرجعیت کے ساتھ ساتھ ہمارے اس دور میں مصداق پیدا کرنے والے نظریۂ ولایت فقیہ نے مثالی شخصیت کے تعین کا کام مزید آسان کردیا ہے۔نظریہ ولایت فقیہ ائمۂ طاہرین علیہم السلام کے دور میں پیش کیا گیا تھا لیکن اس کو مصداق پیدا کرنے میں صدیوں کا وقت لگا اور بیسویں صدی عیسوی کے ربع آخر (اور چودھویں صدی ہجری کے بالکل آخری برسوں میں) کامیاب ہوا۔ امام خمینی رحمۃاللہ علیہ نے مغرب و مشرق کے رائج و حاکم سیاسی و سماجی نظریات اور فلسفوں کو عملی طور پر رد کردیا اور ایسے دور میں دینی انقلاب برپا کیا جب مغرب میں دین کو کلیساؤں تک محدود کردیا گیا تھا اور مشرق میں کلیسائیں بھی بند ہوچکی تھیں اور عمومی خیال یہ تھا کہ مسجدیں بھی کلیسا کی متابعت کریں گی۔ امام نے مسجد کی عظمت کا اثبات کرکے عملی طور پر دنیا کو بتایا کہ دین اسلام قدیمی ادیان کی طرح مرا ہوا نہيں ہے۔ سو امام خمینی رحمۃاللہ علیہ بہت سے مسلمانوں اور غیر مسلم حریت پسندوں کے لئے زندہ مثال اور قابل اتباع نمونہ عمل بن گئے اور آج بات یہاں تک پہنچی ہے کہ مشرق وسطی مغرب کی پوری قوت صرف ہورہی ہے۔ سرد جنگ کا پورا بجٹ اس علاقے میں خرچ ہورہا ہے مگر امام خمینی رحمۃاللہ علیہ سے عملی نمونے حاصل کرنے والی اقوام مغرب اور اسرائیل کی جانب سے بنائی ہوئی رکاوٹوں کو یکے بعد دیگرے ہٹا رہی ہیں۔ مذکورہ مثال معاشرتی مثال ہے اور یہ مسئلہ انفرادی سطح پر موجود تھا، ہے اور رہے گا اور امام رحمۃاللہ علیہ کا عشق مسلسل بڑھتا رہے گا۔ جبکہ دوسری جانب سے یہی عشق ایک دوسری شکل میں بھی جاری ہے۔حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای، امام رحمۃ اللہ علیہ کے خلف صالح ہیں جو ان کا پرچم مضبوطی سے اٹھائے ہوئے ہيں اور امام رحمۃ اللہ علیہ کی تحریک کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور چونکہ امام خامنہ ای بھی مجتہد اور مرجع تقلید ہیں اسی لئے لوگوں کا ان کی طرف رجحان دونوں پہلؤوں سے ہے۔ گویا ولایت فقیہ اور مرجعیت نے انہیں مقبول اور محبوب بنا دیا ہے اور جب ان کی کیاست، ذکاوت، معاملہ فہمی، بروقت اقدام، بروقت اعلان موقف، آج کے مسائل کے بہترین فقہی جوابات وغیرہ ایسی صفات ہیں جن کی وجہ سے انہیں بھی امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی طرح مثالیت، مرادیت، مرشدیت اور عمومی مقبولیت (ہردلعزیزی) حاصل ہے۔ فداکار لوگوں کے لشکر ان کے حکم کے منتظر ہیں۔ اسی طرح بعض ملکوں میں شاید بعض دیگر اقوام و افراد کے ہاں مرسوم اوصاف و خصوصیات، دینی اور سماجی قواعد کے پیش نظر، ان کی مثالی شخصیات مختلف ہوں۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ بزرگ انسانوں کی وجہ سے بہت سے لوگوں کے مفادات کو نقصان بھی پہنچتا ہے جس کی وجہ سے ایسے لوگ ان کے دشمن بنتے ہیں۔ کجھ لوگ دشمن نہیں ہوتے تو ان کے پاس دوستی کا بھی کوئی محرک نہیں ہوتا، کچھ لوگوں کے مرشد و مراد مختلف ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ دوسرے لوگوں کے مرشد کی پیروی نہیں کرتے، لہذا وہ نہ دشمن ہوتے ہیں اور نہ ہی دوست۔ اور یہ وہ حالت ہے جہاں مرید اپنے مراد کا، مقلد اپنے مرجع کا، تابع اپنے مرشد کا اور متولی اپنے مولا کا، دفاع کرتا ہے۔ کبھی یہ دفاع مفید ہوتا ہے اور کبھی اس کا نقصان فائدے سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ اور یہ مسئلہ دفاع کی روش پر منحصر ہے۔افراط موجب تفریط ہےمرشد و مراد کے ساتھ جذباتی وابستگی اس صورت میں افراط اور نامعقولیت میں تبدیل ہوتی ہے جب:1۔ جب انسان ان قواعد سے ناواقف ہو جن کے ہوتے ہوئے مطلوبہ شخصیت اس مقام و منزلت پر پہنچی ہے؛ بطور مثال اگر دفاع ولی فقیہ کا ہورہا ہے تو دفاع کرنے والا شخص ان معیاروں سے ناواقف ہو جن کے ہوتے ہوئے، ولی فقیہ اپنا منصب سنبھالے ہوئے ہیں اور اس منصب میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔2۔ کم ظرفی بھی ایک ایسی خصوصیت ہے جس کے ہوتے ہوئے انسان ولی امر مسلمین سے سبقت لیتا ہے۔ مثلاً اگر ولی امر مسلمین بعض خاص معیاروں، قواعد اور امت کی مصلحتوں کے تحت یا دینی احکام کی رو سے کسی شخص کی تأئید بھی کرے، تو یہ مدافع محترم ان کی اعلانیہ مخالفت کرتا ہے یا حتی کہ ان کے اوپر بہتان تراشی یا پھر دشنام طرازی تک کا سہارا لیتا ہے۔ افراط اور زیادہ روی کے نتیجے میں انسان ـ جو ابتدائی طور پر خالصتاً للہ سلک ولایت میں وارد ہوا ہے ـ آخر کار اپنے خیالات اور اپنی شخصیت ولی امر مسلمین کے دفاع کے نام پر، حق و باطل کا معیار اور ولایت، شرافت اور حقانیت کا معیار و محور قرار دیتا ہے۔ زبان سے خودپرستی کی مذمت کرتا ہے اور عمل میں خودپرستی کی حضیض میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے۔ افکار و موقف اور اظہار خیالات میں تضاد کا شکار ہوجاتا ہے۔ اپنے سوا دوسروں کو گمراہ سمجھنے لگتا ہے، دوسروں کے برے اعمال کو اسلام کے اخلاقی اقدار کے تحت برا سمجھتا ہے اور خود اسی اثناء میں ان ہی اعمال کا مرتکب ہوتا ہے۔مثال کے طور پر کسی شخص کو گالی دیتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس کی مذمت کرتے ہوئے اسی طرح کی یا اس بھی کہیں زیادہ فحش گالیاں اس کے نثار کرتا ہے، اور اگر کوئی اعتراض کرے تو اس کو لڑنے جھگڑنے کی دعوت دیتا ہے۔ کیونکہ اس کے معیار، ذاتی ہوتے ہیں اور ولایت کے اصول و فروع سے ماخوذ نہيں ہوتے۔ بہتان تراشی، دشنام طرازی اس حد تک اس کے لئے معمول اور عادت ہوجاتی ہیں کہ اس کی فطرت ثانیہ بن جاتی ہیں۔ وجدان اور ضمیر بھی نادانی کی گرد تلے دب جاتا ہے، نفس لوامہ (اور ملامت کرنے والا اور برے اعمال سے منع کرنے والا نفس) ہدایت و راہنمائی کا فریضہ چھوڑ جاتا ہے لہذا فطرت اولیہ مزید برائیوں کی یادآوری نہیں کراتی اور اس کو اپنی اصلاح کی دعوت نہیں دیتی؛ اور یہ مرحلہ وہ ہے جہاں انسان کو شر کے مجسمے میں تبدیل ہونے کا خطرہ درپیش ہوتا ہے۔ اور یہاں اس کے لئے نظری تعلیمات کی ضرورت میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ تھوڑا آگے جا کر لوٹنے، توبہ کرنے اور استغفار کرنے کا دروازہ بھی بند ہوجاتا ہے۔ جبکہ خود اس کو یہ احساس نہیں ہوتا اور دلدل میں ڈوبنے والے انسان کی طرح غیرمحسوس انداز سے بداخلاقی کے دلدل میں دہنستا چلا جاتا ہے اور صرف خدا ہی اس کی مدد کرسکتا ہے، کیونکہ وہ اپنے ہمدردوں اور دوستوں کو اپنے گرد کھینچے ہوئے دائرے سے نکال کر کھودیتا ہے اور دوست و ہمدرد چاہتے ہوئے بھی اس کی مدد نہيں کرسکتے۔ بلکہ وہ خود بھی ایسے شخص کی طرف سے مختلف الزامات اور بہتان تراشیوں حتی گالی گلوچ کا نشانہ بنتے ہیں۔یہ ضروری نہیں ہے کہ مثلاً ولی فقیہ اپنے دور میں عملی طور پر کسی کے آمنے سامنے کھڑا ہو، ضروری نہیں ہے کہ اس کا کوئی حریف یا رقیب یا مخالف ایسا ہو جو اس کی نفی کرتا ہو یا اس مخالف کا وجود کسی بھی عنوان سے ولی امر یا کسی بھی مثالی شخصیت کے لئے دھمکی آمیز ہو بلکہ معمول کی بات یہ ہے کہ حامی حضرات اپنے چھوٹے سے ذہن میں اپنی مثالی شخصیت کے لئے مختلف قسم کے حریف اور دشمن تراشتے اور فرض کرتے ہيں اور پھر ان کو سب و شتم کا نشانہ بناتے ہیں۔ وہ ولی امر کی اطاعت کی بات کرتے ہيں، نظری حوالے سے ہوسکتا ہے کہ ان کا نظریہ یہ ہو کہ سب کے افعال و اعمال کو ولی امر کے افعال و اعمال و احکام و تعلیمات کے مطابق ہونا چاہئے مگر دفاع کے وقت یہ حقیقت بھول جاتے ہیں کہ جن کو وہ برا بھلا کہہ رہے ہیں وہ نہ صرف ان کے عالیقدر محبوب کے دشمن نہیں ہیں بلکہ مختلف مواقع پر ان کو محبوب قلوب کی حمایت بھی حاصلی رہی ہے۔ اور ولی امر کے احکام اور ان تعلیمات ہی انسانوں کے اعمال و کردار کا معیار ہو تو یہاں یہ حضرات نافرمانی کے مرتکب ہوتے ہیں کیونکہ ولی کی حمایت حاصل کرنے والی شخصیات کو سب و شتم کا ہدف بنایا گیا ہے۔جب یہ تضاد دیکھنے والوں کو معلوم ہوجاتا ہے تو کچھ لوگ اسی وقت ولی امر سے دوری اختیار کرکے ان افراد سے نفرت کرنے لگتے ہیں، اور افراط سے تفریط جنم لیتی ہے۔ کچھ لوگ ان کے اس عمل کی مذمت کرکے اس کو ولی امر کے لئے نقصان دہ قرار دے کر، ان افراد کی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں اور مایوس ہوکر ان کا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں تو اس طرح ولایت کو نقصان پہنچتا ہے اور خودسر و خودمحور افراد بھی تنہا ہوجاتے ہیں۔افراط سے تفریط جنم لیتی ہے وہ یوں کہ افراط کرنے والے (انتہاپسند) افراد بہرحال افراط کرتے کرتے، تھک جاتے ہیں کیونکہ افراط انسانی فطرت کے خلاف ہے اور جو عمل عادت کی وجہ سے انسان کے رویوں میں اچکا ہے وہ بعض افراد کو آگے جاکر تفریط میں مبتلا کردیتا ہے۔ بطور مثال اگر کسی شخص کو اچانک اور بلا تمہید وعد و وعید کے ذریعے واجبات اور مستحبات کی ترغیب دلائی جائے اور علم و آگہی پر مبنی ماضی کے تجربے کے بغیر ہی تمام واجبات و مستحبات، نوافل، نماز وغیرہ کی طرف رخ کرے اور اپنا پورا وقت ان اعمال کے لئے وقف کرے اور خدا کی اطاعت میں افراط اور زیادہ روی کی راہ پر گامزن ہوجائے تو چونکہ اس افراط کی بنیاد علمی اور عقلی اور تجرباتی نہیں ہے اسی لئے وہ تھک ہار کر پنجگانہ نماز تک کو ترک کردیتا ہے اور رمضان کے روزے سے گریز کرنے لگتا ہے۔ یہ البتہ زیادہ روی اور افراط کا شخصی عارضہ ہے جو ہوسکتا ہے احتماعی عوارض کا سبب بھی بنے اور اس شخص کے زیر اثر دو چار افراد کو بھی گمراہ کردے مگر یہ بہر حال یہ افراط کا انفرادی عارضہ سمجھا جاتا ہے۔افراط کا معاشرتی عارضہافراط کا ایک معاشرتی منفی اثر یہ ہے کہ انسان آخرکار تھک جاتا ہے؛ افراط غیر علمی جذبہ ہے اور غیر علمی جذبہ طویل عرصے تک قائم نہيں رہتا۔ اس حقیقت کی ایک اہم مثال ایران میں انقلاب اسلامی کے انتہاپسند حامیوں کی شکل میں دیکھی جاسکتی ہے جنہوں نے ابتدائے انقلاب میں امریکہ کے ساتھ تمامتر تعلقات توڑنے پر اصرار کیا، امریکی سفارتخانے پر قبضہ کیا، سفارتکارو
10 اپریل 2012 - 19:30
News ID: 307876
ہم عالم اسلام اور عالم تشیع میں دیکھتے ہیں تو ایسی بہت سی شخصیات ہیں جن کو ہیرو، مثالی شخصیت، عالی نمونہ، پیر و مرشد کا نام دیا جاسکتا ہے۔ ہمارے ہاں ایسی شخصیات کی کوئی کمی نہيں ہے اور دینی حوالے سے ہمارے مراجع تقلید، علماء، شہداء وغیرہ ہمارے لئے ہیرو کا رتبہ رکھتے ہیں اور پھر مرجعیت کے ساتھ ساتھ ہمارے اس دور میں مصداق پیدا کرنے والے نظریۂ ولایت فقیہ نے مثالی شخصیت کے تعین کا کام مزید آسان کردیا ہے۔