ابنا: عام انتخابات ميں مختلف لابيز ، اپني حکومت لانے کيلئے سرمايہ کاري کرتي ہيں، انتخابي اخراجات کي مانيٹرنگ کا نظام وضع ہونا چاہيئے چيف جسٹس افتخارمحمدچودھري کي سربراہي ميں سپريم کورٹ کے تين رکني بنچ نے انتخابي اخراجات سے متعلق مقدمہ کي سماعت کي، درخواست گزار عابدمنٹو نے کہاکہ ملک ميں انتخابي مہم شروع ہوچکي ہے اليکشن کميشن کو حکم ديا جائے کہ آئين کے تحت شفاف اليکشن يقيني بنانے، مسلم ليگ نون کے وکيل نصير بھٹہ نے فريق مقدمہ بننے کي درخواست پيش کرتے ہوئے کہاکہ بھاري اخراجات کي وجہ سے عام آدمي اليکشن ميں شرکت کا سوچ بھي نہيں سکتا ،
چيف جسٹس نے ريمارکس ميں کہاکہ انتخابي اخراجات کيلئے انتخابي قوانين ميں ترميم ہوسکتي ہے يا قرارداد لائي جاسکتي ہے، انتخابي اخراجات ميں کمي کا فيصلہ سياسي جماعتوں کو خود کرنا چاہيئے،انہوں نے کہاکہ انتخابي اخراجات سے متعلق قانوني تراميم ، مشرف دور ميں ہوئيں، کيا سينيٹ اليکشن ميں انتخابي خرچ کي کوئي حد مقرر ہے،چيف جسٹس نے کہاکہ ايک بار چودھري شجاعت نے کہاتھاکہ اليکشن جيتنے کے بعد پہلا جھوٹ اخراجات کا ہوتا ہے، جسٹس خلجي عارف نے ريمارکس ديئے کہ صرف نيت کي نہيں ، عمل کي بھي ضرورت ہے،انتخابي اخراجات کيلئے اليکشن کميشن کے پاس مانيٹرنگ نظام نہيں ہے، عابد منٹو کے دلائل جاري تھے کہ مقدمہ کي سماعت کے دوران وقفہ کرديا گيا .......
/169