7 اپریل 2012 - 19:30

ہم پیروکاران حسین ع و زینب سلام اللہ علیہا ہیں ۔۔۔۔۔ہم گھبرانے والے نہیں۔۔۔۔۔ہم نہ اس وقت گھبرائے تھے جب ہمیں دیواروں میں چنا گیا، ہم نہ تو اس وقت گھبرائے تھے جب ہمارے خون کو پانی طرح بہایا گیا تھا۔۔۔۔ہم مکتب شہادت کے پیروکار ہیں، ہم مکتب عزت و سرفرازی کے پیروکار ہیں۔۔۔ہم متحد ہیں۔۔۔۔وہ وقت گیا کہ دشمن ہمیں ایک دوسرے سے متنفر کر کے ہمیں ایک دوسرے کیخلاف بھڑکا رہا تھا، ہم بیدار ہیں اور دشمن کی چالوں کو سمجھ چکے ہیں۔۔۔۔ دشمن ہمارے اتحاد کو ختم کر کے ہمیں پستی کی طرف دھکیلنا چاہتا تھا۔۔۔۔لیکن وہ ناکام ہو گا۔۔۔۔ہم جانتے ہیں کہ دشمن کیسے کیسے نقاب اوڑھ کر ہماری صفوں کو انتشار کا نشانہ بنانا چاہتا ہے، ہمارا نعرہ ایک ہے۔۔۔۔لبیک یا حسین ع ۔۔۔۔۔۔۔ ہماری راہ ایک ہے۔۔۔۔۔۔ہم سب کربلا کے راہی ہیں۔

ابنا: دین اسلام کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ اس نے انسانوں کے مابین ہر قسم کے فرق کو مٹا دیا تھا، چاہے یہ فرق نسلی ہو یا فرقہ ورانہ۔۔۔۔۔اسلام نے سب کو یہ کہہ کر متحد و یک جاں کر دیا تھا کہ خدا ایک، رسول ایک۔۔۔۔لیکن جیسے ہم نے اسلام کی دوسرے پیغامات کو فراموش کیا، اس کے ساتھ ہی اس اساسی پیغام کو بھی بھول گئے اور تتر بتر ہوگئے۔۔۔۔ہمیں کبھی کسی نے زک پہنچائی تو کبھی کسی نے۔۔۔۔لیکن ہم نہ جاگے۔ دشمن نے ہمیں لسانی بنیاد پر، فرقہ ورانہ بنیاد پر اتنا تقسیم کر دیا کہ اب ایک ہونا بھی محال نظر آتا تھا۔۔۔۔۔لیکن انفجار نور کے ذریعہ امام خمینی رہ نے مسلمانوں کو ایک نئی زندگی عطا کی اور مایوسی کی دلدل سے باہر نکالا۔۔۔۔۔ہم متحد ہونا شروع ہو گئے۔۔۔۔ہم نے دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دشمن کو للکارا۔۔۔۔دشمن کو شکست دی۔۔۔۔۔اور یہ سب کچھ فیض ولایت علی ابن ابیطالب ع اور تعلیمات عاشورہ کا صلہ تھا۔

دشمن سمجھ گیا تھا کہ صرف وہی اس کے لئے خطرہ ثابت ہونگے جو کربلا سے عشق رکھتے ہیں، جن کی رگوں کا خون کربلا کا ذکر سن کر جوش مارنے لگتا ہے، جن کے جسموں میں شہادت کی داستان حرارت پیدا کر دیتی ہے۔۔۔۔۔اسی لئے اس نے اپنی توپوں کا رخ انہی شیعیان حیدر کرار ع کی جانب کر دیا۔۔۔۔۔اور شیعیان حیدر کرار ع کے خلاف اپنی نادیدہ جنگ کا آغا ز کر دیا۔۔۔۔۔دشمن نے ہمیں پتہ نہیں کس کس بنیاد پر باٹنا چاہا، ہمیں چوکوں اور چوراہوں پر شہید کروا کر ہمیں ڈرانا چاہا، ہمارے گھروں کو جلا کر ہمیں راہ کربلا سے ہٹانا چاہا۔۔۔۔لیکن شاید دشمن کو بھی احساس نہ تھا کہ وہ کس سے جنگ لڑنے نکلا ہے۔۔۔۔۔۔اسے نہیں معلوم تھا کہ کربلا کے راہیوں کو جب شہادت ملتی ہے تو یہ سجدہ شکر بجا لاتے ہیں، جب کسی بھائی کا لاشہ اسکی بہن کے سامنے آتا ہے تو وہ اپنے بھائی کو نہیں بلکہ حسین ع غریبِ کربلا کو روتی ہے، زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کو پرسہ دیتی ہے۔۔۔۔۔ہاں ہم ایسے ہی ہیں۔ دشمن سمجھ گیا تھا کہ اس قوم کو مار کر نہیں ہرا سکتے۔۔۔۔۔۔وہ اسکی مثال ایران میں بھی دیکھ چکا تھا اور لبنان میں بھی۔۔۔۔۔۔آج پاکستان میں بھی وہ سمجھ چکا ہے۔

حسین ع کا ماننے والا وہی ہو سکتا ہے جو کردار حسینی ع پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتا ہے، جو اپنے ہر عمل میں حسینی ع اور زینبی سیرت کو نمونہ عمل جانتے ہیں ۔۔۔۔۔ہمارا محور ایک ہے۔۔۔۔۔وہ ہے کربلا۔۔۔۔۔۔ہم ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے۔۔۔۔ہمیں کوئی جدا نہیں کر سکتا کیونکہ ہمارا مرکز و محور ایک ہے۔۔۔۔۔ہم سب علی ع ابن ابیطالب ع کی محبت دل میں رکھتے ہیں اور وہی ہمارے لئے مرکز و محور ہیں۔۔۔۔۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی ہمیں راہ ولایت علی ع کی طرف بلائے اور ہم نہ جائیں؟

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جس نے بھی مسلمانوں کو راہ ولایت علی ابن ابیطالب ع کی طرف دعوت دی ہے، دشمن نے اسے اپنی راہ سے ہٹانے میں ہی عافیت جانی ہے۔۔۔۔۔۔شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی رہ کی شہادت اسی سلسلے کی کڑی تھی۔۔۔۔۔۔جب شہید قائد رہ نے پاکستان کے مستعضف عوام کو ایک مرکز پر لانے کی لئے کمر کسی تو دشمن گھبرا گیا۔۔۔۔۔۔اور اپنی تمام تر چاپلوسی اور سازشوں کے جال بچھانا شروع کر دیئے۔۔۔۔۔۔کبھی مجتہدین کو بنیاد بنا کر باٹنا چاہا تو کبھی نظریاتی اور ماتمی کہہ کر ایک دوسرے سے دور کرنا چاہا۔۔۔۔۔اس بات سے انکار نہیں کہ دشمن کے جھوٹے پروپیگنڈے کے اثرات ہوئے، لیکن کیا کوئی اس بات سے انکار کر سکتا ہے کہ ہر شیعہ نظریہ کربلا و تعلیمات کربلا پر یقین کامل کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو اپنے سینوں پر مارتا ہے؟ کیا کوئی اس بات سے انکار کر سکتا ہے کہ ہر شیعہ جب لبیک یاحسین ع کی صدا بلند کرتا ہے تو یہ حسین ع غریب کی صدائے ہل من ناصر ینصرنا کا جواب ہوتا ہے؟ کیا کوئی شیعہ اس بات کا انکاری ہو سکتا ہے کہ جب وہ فرش عزا پر جاتا ہے تو حسین ع ابن علی ع سے تجدید وفا کرتا ہے؟ نہیں کوئی شیعہ بھی ان حقیقتوں سے انکار نہیں کر سکتا۔۔۔ تو اگر ایسا ہے تو عزادار میں کسی بھی قسم کی تفریق نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔۔کسی بنیاد پر بھی عزاداروں کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔۔۔۔جہاں بھی کسی تفریق کی بات ہو سمجھ لینا چاہئے کہ دشمن کی سازش ہے۔

آج شیعیان پاکستان دشمن کی سازش کو سمجھ چکے ہیں اور اپنے اتحاد سے اس بات کو ثابت کر چکے ہیں کہ ہم بیدار ہیں اور اپنے دشمن کو پہنچانتے ہیں۔۔۔۔دشمن چاہے کوئی بھی نقاب لگا لے اب دشمن کی نہیں چلنے والی۔۔۔۔۔شہادتوں سے ہمیں نہیں ڈرا سکتے۔۔۔۔۔۔ہم حسینی ع ہیں ۔۔۔۔ہم کربلا کے راہی ہیں۔۔۔۔ہماری منزل شہادت ہے۔۔۔ شہادت خدا کا انعام ہے۔۔۔۔ہم شہادت پا کر شہزادی کونین سلام اللہ علیہا کی بارگاہ میں سرخرو ہو کر جاتے ہیں کہ اے مادر گرامی دیکھئے ہمارے خون میں لت پت چہروں کو ہم نے بھی آپ کے لخت جگر سے بیوفائی نہیں کی۔۔۔۔۔ہم نے بھی ہل من ناصر ینصرنا کی صدا پر لبیک یا حسین ع کی صدا بلند کرکے موت کو اپنے لئے شیریں بنا لیا ہے۔۔۔۔ہم نے بھی ذلت و رسوائی کی زندگی کو عزت و سرفرازی کی موت کو ترجیح دی ہے۔

امام صادق(ع) روایت کرتے ہیں کہ امام زین العابدین (ع) نے فرمایا : جب شام سے مدینہ کی طرف روانہ ہو رہے تھے تو ابراہیم بن طلحہ بن عبید اللہ میرے نزدیک آیا اور مذاق کرتے ہوئے کہا : کون جیت گیا؟ امام سجاد (ع) نے فرمایا : اگر جاننا چاہتے ہو کہ کون جیتے ہیں؛ تو نماز کا وقت آنے دو اور اذان و اقامت کہنے دو ، معلوم ہو جائے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا۔؟ 

یزید کا ہدف اسلام کو مٹانا تھا اور امام حسین (ع) کا ہدف اسلام کا بچانا تھا اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا کے تمام ادیان اور مذاہب پر دین مبین اسلام (شیعہ) غالب اور معزز اور ہر دل عزیز نظر آ رہا ہے اور یہ سب زینب کبری (س) کی مرہون منت ہے.

.....

/169