1 اپریل 2012 - 19:30

اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر کرسٹوف ہینز نے ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر سے ہندوستانی فوج کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔

ابنا: کرسٹوف ہینز نے ہندوستان سے کہا ہے کہ وہ بدامنی والے علاقوں میں فوج کو خصوصی اختیارات والے متنازعہ قانون کو منسوخ اور کشمیر سے فوج کو واپس بلائے۔انہوں نے دہلی میں اپنے دو ہفتے کے دورۂ ہندوستان کے دوران نامہ نگاروں سے گفتگو میں کہا کہ ہندوستان کی خصوصی فوج سے عوام نفرت کرتے ہیں ، یہ فوج بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتی ہے اور اپنے رویہ کے سلسلے میں جوابدہ بھی نہیں ہے۔اطلاعات کے مطابق کرسٹوف ہینز نے دہلی میں اپنے دورۂ ہندوستان کی عبوری رپورٹ پیش کی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے بارے میں حتمی اور جامع رپورٹ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں آئندہ سال پیش کریں گے۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان گزشتہ چھ عشروں سے زیادہ عرصہ سے جموں و کشمیر کی ملکیت کے بارے میں اختلاف چلا آرہا ہے اور اب تک کشمیر کے مسئلہ پر دونوں ملکوں میں دوبار جنگ بھی ہوچکی ہے نیز اقوام متحدہ نے قرارداد جاری کرکے ہندوستان اور پاکستان ، دونوں سے ، ریفرینڈم کے ذریعہ جموں وکشمیر کی صورت حال کو واضح کرنے کے لئے بھی کہا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ انیس سو سینتالیس میں برصغیر کی تقسیم کے منصوبہ کی بنیاد پر جموں و کشمیر کا الحاق پاکستان سے ہونا چاہئے تھا لیکن اس وقت کے کشمیر کے راجہ نے انگریزوں کے ساتھ مل کر مشترکہ سازش کے تحت جموں و کشمیر پر قبضہ کرلیا۔

اس وقت کشمیر کا بیشتر حصہ ہندوستان کےپاس ، ایک حصہ پاکستان کے پاس جس کو آزاد کشمیر کہا جاتا ہے جبکہ ایک حصہ چین کے پاس ہے۔کشیمری عوام اس علاقے کی صورت حال واضح کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل درآمد چاہتے ہیں لیکن حکومت ہندوستان اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ جموں و کشمیرہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے مذکورہ قرارداد پر عمل درآمد سے گریز کرتی ہے۔

یہی امر جموں و کشمیر میں حکومت مخالف احتجاج میں شدت کا باعث بنا ہے۔ہندوستانی حکومت نے حالات کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے فوج کو خصوصی اختیارات کے ساتھ اس علاقے میں تعینات کردیا ہے۔

کشمیری تنظیموں اور عوام کے مطابق فوج نے اس علاقے میں بے شمار جرائم کا ارتکاب کیا ہے جس کے سبب گزشتہ دوسال کے دوران کشمیر میں وسیع احتجاج ہوا ہے اور کچھ کشمیری تنظیموں نے اس کو انتفاضۂ کشمیر کا نام بھی دیا ہے۔اس وقت ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کی تنظیموں اور عوام کا ایک مطالبہ فوج کو حاصل خصوصی اختیارات والے قانون کی منسوخی اور فوجی انخلا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ فوج اپنے اقدامات کے لئے کسی کو جوابدہ نہیں ہے اور اپنے جرائم کی توجیہ خصوصی قانون کے تحت کرتی ہے۔اسی وجہ سے کشمیر کے سلسلے میں اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر کرسٹوف ہینز نے ہندوستانی فوج پر تنقید کرتے ہوئے اس علاقے سے فوجی انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔مسئلۂ کشمیر کے بنیادی حل کے سلسلے میں ہندوستان کا لیت و لعل اس علاقے کے امور میں مغربی حلقوں کی مداخلت میں اضافہ کا سبب بنا ہے اور یورپی ممالک نے بارہا اپنے نمائندے کشمیر بھیجے ہیں۔بنابرایں حکومت پاکستان یہ کہتی ہے کہ ہندوستان دوطرفہ مذاکرات کے ذریعہ مسئلۂ کشمیر کے حل کے سلسلے میں قدم اٹھائے اور آخری مرحلہ میں کشمیری عوامی نمائندوں کی شرکت سے اس مسئلہ کو ختم کرنے کے لئے بنیادی راہ حل اختیار کی جائے۔
....... 
/169