29 مارچ 2012 - 19:30

عراقی دارالحکومت بغداد میں آج عرب لیگ کاتئیسواں سربراہی اجلاس ہورہاہے۔

ابنا: اس اجلاس میں فلسطین، شام ، یمن اور دہشتگردی کےخلاف جدوجہد نیزعام تباہی پھیلانےوالےہتھیاروں کی روک تھام پرغورکیاجائےگا۔بغداد میں عرب لیگ کے تئیسویں اجلاس کی عالمی اورعلاقائی اہمیت یوں بڑہ جاتی ہے کہ یہ عرب ممالک میں عوامی تحریکوں اورچارڈکٹیٹروں کی حکومت گرنےکےبعد منعقد ہوا ہے۔

بغداد میں عرب سربراہی اجلاس کاانعقاد، زیربحث موضوعات بالخصوص فلسطین اورشام کےموضوعات کےجائزے کےلحاظ سے بھی اہمیت کاحامل ہے۔

مشرق وسطی اورشمالی افریقہ کےحالات نیز ان حالات سےناجائز فائدہ اٹھانےکےلئے امریکہ کی کوششوں، صہیونی ریاست کےتشددآمیزاقدامات ، اور خطرات سےنمٹنےکےلئے علاقائی ممالک کےمزیدتعاون کوضروری بنادیاہے۔

اس حقیقت کےپیش نظر کہ عراقی حکومت کےترجمان علی الدباغ نے تاکید کی ہے کہ عرب ممالک کوصحیح فیصلوں کی ضرورت ہے اوراب تک غلط فیصلوں کی وجہ سے فلسطین اوربیت المقدس کامسئلہ ہاتھ سےنکل چکا ہے۔

عراق میں عرب لیگ کےسربراہی اجلاس کاانعقاد نہ صرف عرب اوراسلامی ممالک کے درمیان تعاون کےلئے اہم قدم ہے بلکہ علاقےکےبحران کےسلسلے میں تبادلہ خیال کرنے نیزعلاقائی وبین الاقوامی سطح پر عرب لیگ کےکردار کوفروغ دینے کابھی غنیمت موقع ہے۔

گذشتہ برسوں میں عرب لیگ کےکردار پرایک نظرڈالنےسے یہ سمجھاجاسکتاہے کہ عرب لیگ اختلافات اور آراء میں تضاد نیزتسلط پسندطاقتوں کےزیراثرہونے کی وجہ سے اپنےمدنظرمقاصد حاصل نہيں کرسکی ہے۔ درحقیقت عرب ليگ وقت کےساتھ عالمی سطح پرایک کمزورتنظیم میں تبدیل ہوچکی ہے۔ عرب لیگ نےانیس سوسترمیں تیل کےبحران میں موثرکردارادا کرنےکےعلاوہ اب تک عرب ممالک کےکسی بھی مسئلےمیں موثرکردار نہيں ادا کرسکی ہے۔ مثال کےطور پر عرب لیگ مسئلہ فلسطین کےسلسلےمیں پوری طرح کمزور ثابت ہوئی ہے ۔

گذشتہ برسوں میں عرب لیگ کی یہ کمزوری زيادہ ابھرکرسامنےآئی ہے ۔درحقیقت لیبیاپرنیٹوکےحملے کی حمایت میں پیش پیش رہنےاورشام پردباؤ ڈالنےمیں مغربی ممالک کاساتھ دینے سےثابت ہوگیاکہ عرب لیگ ،علاقےمیں مغربی سازشوں کوعملی جامہ پہنانےمیں قدم سےقدم ملا کرچلتی رہی ہے ۔ اس میں کوئی شک نہيں کہ قطراور سعودی عرب جیسے بعض عرب ممالک کی جانب سے مغرب کےسامنےپوری طرح تسلیم ہونا عرب لیگ کےفرسودہ ہونےکااصلی سبب اورعرب ممالک کےدرمیان حقیقی اتحاد کی راہ میں اصلی روکاوٹ ہے۔

 سازشی عرب حکومتوں کی جانب سے اس طرح کااختلافی رویہ کھل کرجاری ہے اور وہ عرب لیگ کےسربراہی اجلاس میں شرکت نہ کرنےجیسےمختلف طریقوں یااس اجلاس میں نہایت نچلی سطح پر نمائندہ بھیج کرتئیسویں سربراہی اجلاس کوکمزور کرنےکی کوشش کررہے ہيں تاکہ اس اجلاس میں کسی بنیادی فیصلےمیں روکاوٹ کھڑی کرکےاس علاقےميں مغرب کےسازشی مقاصد پرعمل درآمد کی راہ مزید ہموارکریں۔ لیکن اس اجلاس میں موجود عرب لیگ کےارکان کی اکثریت عالمی معاملات میں عرب لیگ میں آزادانہ، تعمیری اورمثبت تحرک پیداکرنےکےعزم کی عکاس ہے۔ اوریہ مسئلہ عرب لیگ کےبعض اراکین کےنقصاندہ ، تفرقہ آمیز، اورخودسرانہ کارکردگی سےبیزاری کےاعلان کےمترادف ہے۔....... /169