ابنا: ایران کےوزیرخارجہ علی اکبرصالحی نے شام کےصدر کےخصوصی ایلچی فیصل مقداد سےملاقات میں اصلاحات کےعمل میں پیشرفت اور قومی مذاکرات اورعوام کےمطالبات پورےکئےجانےکےاہتمام پرتاکیدکرتےہوئےکہاکہ اسلامی جمہوریہ ایران، دمشق اور کوفی عنان کےدرمیان ہونےوالےاتفاق رائے کےسلسلےمیں تشکیل پانےوالے سیاسی عمل میں مدد کےلئےتیار ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کےوزیرخارجہ نےبدہ کےدن تہران میں ترکی کےوزیراعظم رجب طیب اردوغان سےملاقات میں کہاکہ شام کےسلسلےمیں ہرطرح کی عجلت اوراس ملک میں پیدا ہونےوالاطاقت کاخلاءعلاقےکےلئےنہایت مخرب اثرات مرتب کرسکتاہے۔
گذشتہ ایک مہینےسے شام کامسئلہ بین الاقوامی اورعلاقائی صلاح ومشورےکامحوربنا ہوا ہے اور کوفی عنان کےدورہ دمشق سے اس ملک کےمسائل کےحل ميں مدد کےلئے نئی کوششیں شروع ہوگئي ہيں۔ شام میں تقریباایک سال سے جاری بدامنی کےنتیجےمیں بڑےپیمانےپرجانی ومالی نقصان ہوا ہے ۔
کوفی عنان کےدورہ دمشق سے شام کےمسائل کےحل کی امیدیں پیدا ہوگئي ہيں ۔
کوفی عنان اب بھی شام کےمسائل کےپرامن حل کی غیرجانبدارانہ کوششوں پرتاکیدکررہےہیں اورشام کےمسائل میں غیرملکی مداخلت کی مخالفت کررہےہیں۔
شام کےصدر بشاراسد نےبھی مسائل کےحل کی پرخلوص کوششوں کوآگےبڑھانے پرآمادگی کااعلان کیاہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی تاکید کی ہے کہ اس سلسلےمیں ہرطرح کی کوششوں کےلئے شام کےحالات کا حقیقت پسندی سےجائزہ لینےکی ضرورت ہےکیونکہ صرف ان رپورٹوں پربھروسہ کرنےسے جن ميں شام کےحالات کوتوڑمروڑ کر پیش کیاگیاہے، مسئلےکےحل میں کوئی مدد نہيں ملےگی۔
اس میں کوئی شک نہيں کہ شام میں اصلاحات ایک ضروری امر ہے لیکن یہ مقصد اسی وقت پورا ہوگا جب بعض بیرونی ممالک اوران کےعلاقائی اتحادی شام میں داخلی جنگ شروع کرنےاوراس کی تقسیم کی کوششوں کوروک دیں۔
واضح ہےکہ سیاسی طریقہ کار کی کامیابی بھی اس وقت تک ممکن نہيں ہے جب تک مسلح دہشتگرد شام میں سرکاری اورغیرسرکاری املاک کونقصان پہنچاتےرہيں گے اورفوجیوں اورعام شہریوں کونشانہ بناکر ملک ميں عدم استحکام پیداکرنےاوربحران پھیلانے کی کوشش کرتےرہیں گے۔جیساکہ کوفی عنان کےمنصوبےمیں بھی اشارہ کیاگیاہے کہ اس راہ پر گامزن رہنےکا انحصار، قومی اتحاد اور مفاہمت کارویہ اختیارکرتےہوئے مسائل کےحل کےلئے طرفین کےدرمیان مشترکہ کوششیں اور صلاح ومشورہ نیز تعاون کاسلسلہ جاری رہنےپرہے۔
مجموعی طور پر شام کےسلسلےمیں چند نکات موجود ہیں، ایک یہ کہ علاقےسےباہرکی طاقتيں اورخلیج فارس میں ان کےاتحادی شام کوتقسیم کرناچاہتےہيں اور یہ علاقےکےلئےخطرناک چیز ہے۔ دوسرا نکتہ اس حقیقت کوتسلیم کرنا ہے کہ شام ایک خودمختارملک ہے اوراس کےداخلی مسائل کو حکومت گرانے کےلئےہتھکنڈہ کےطورپرنہيں استعمال کرناچاہئے اورتیسرا نکتہ علاقےاورشام کےپڑوسی ممالک کےکردارمیں پوہشیدہ ہے جواس ملک کے بحران کوکم کرنےکےلئے تعمیری کردار ادا کرسکتےہيں۔
بہرحال اس سلسلےمیں علاقےمیں اغیارکی جانب سےجنگ شروع کرانے کےنتائج ایک مثال بن سکتاہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کےوزیرخارجہ کا شام کے سلسلےمیں ہرطرح کےمداخلت پسندانہ اورعجولانہ اقدام سےپرہیزپرمبنی بیان اسی حققیت کی جانب اشارہ ہے۔
.......
/169
28 مارچ 2012 - 19:30
News ID: 305190
اسلامی جمہوریہ ایران نے بین الاقوامی اور علاقائی فریقوں کو شام کےسلسلےمیں ہرقسم کے عجولانہ اورمداخلت پسندانہ اقدامات سےاجتناب کرنے کی دعوت دی ہے۔