ابنا: بعض خبروں کے مطابق ان فسادات میں اب تک بارہ افراد مارے جا چکے ہیں اور اب تک کسی بھی گروہ نے اس قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن متحدہ قومی مومنٹ کراچی کے مرکزی رکن اور صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر صغیر احمد نے کراچی میں ہونے والے اس قتل میں پشتون قوم سے متعلق ایک گروپ " امن کمیٹی" کو ملوث جانا ہے۔جالانکہ اس گروہ نے اس بات کی تردید کی ہے ۔
کراچی پولیس کے مطابق متحدہ قومی مومنٹ کے سینیئر کارکن منصور مختار کے قتل کے کچھ ہی دیر بعد نامعلوم گروہ نے شہر کے مختلف مقامات پر ہنگامے شروع کرکےمتعدد گاڑیوں کو نذر آتش کردیا اس گروہ نے پولیس کی وین اور عام بسوں کے علاوہ عوام کی گاڑیوں میں بھی آگ لگادی۔ متحدہ قومی مومنٹ پاکستان نے ملک کے صدر ،وزیر اعظم اور سندھ کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بہترین تدابیر کرکے جلد از جلد اس شہر کے حالات کو معمول پر لائیں۔
ایسا پہلی بار نہیں ہے کہ کراچی میں خونریز واقعے رونما ہور ہیں بلکہ مختلف سیاسی پارٹیوں کے نظریے کے مطابق سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ صوبائی حکومت اس شہر میں بد امنی اور تشدد آمیز واقعات کی روک تھام میں عاجز و ناتوان ہوچکی ہے جس کی بنا پر کراچی کی تجارتی اور اقتصادی کارکردیوں پر زبردست منفی اثر پڑا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس ساحلی شہر میں شرپسند عناصروں کی جانب سے ہمیشہ بدامنی اوررونما ہونے والےفسادات نے شہر کے تاجروں اور کام کرنے والوں کوہڑتال کرنے پر مجبور کردیا اور کراچی کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی متحدہ قومی مومنٹ کی حمایت اسے حاصل ہوگئی ۔اس تحریک کے اکثر ممبران اور حامی اردو زبان سے تعلق رکھتے ہیں۔
اس شہر کے تجارتی گروپ نے کہاہے کہ کراچی میں سیاسی افراد کے قتل کے علاوہ روزانہ نامعلوم افراد دھمکیاں دے کر زبردستی ان سے پیسہ وصول کرتے ہیں اوراس سلسلے میں صوبائی حکومت اور اس سے وابستہ تنظیموں نے اب تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا ہے۔
حالانکہ متحدہ قومی مومنٹ جو،پاکستان کی وفاقی حکومت کی سب سے بڑی حامی اورصوبہ سندھ میں اپنی کارکردیوں میں مصروف عمل ہے اس نے، تمام سیاسی پارٹیوں اورملک کے صدر مملکت آصف علی زرداری سے یہ امید ظاہر کی ہے کہ کراچی میں مستقل قیام امن برقرارکرنے اور مافیاگروہوں سے مقابلے کے لئے ضرورکوئی ٹھوس اقدام کریں گے کیونکہ اس تحریک کو اس بات کی تشویش لاحق ہے کہ اٹھارہ ملین کی آبادی پر مشتمل شہر، کراچی میں دوہزار گیارہ کی طرح کہیں دوبارہ فسادات رونما نہ ہوں جس میں سترہ سو سے زائد افراد مارے گئے تھے۔....... /169