ابنا: احمدی نژاد نے اپنے خطاب میں کہا کہ افغانستان بلکہ آج پوری دنیا کی سب سے بڑی مشکل، نیٹوکے رکن ممالک کی توسیع پسند انہ پالیسیاں ہیں انہوں نے مزید کہا کہ ایسے حالات میں جب کہ نیٹو کی غلط پالیسیاں موجود ہیں، ان ملکوں سے بحرانی حالات کا خاتمہ غیر ممکن ہے۔عین اسی وقت امریکی گروپ احمدی نژاد کی تقریر کا بائکاٹ کرتے ہوئے اجلاس سے باہر نکل گیا۔ دس سال سے افغانستان میں اقتصادی بحران اورفقر و غربت کے خاتمے کے لئے دنیا کے مختلف ملکوں میں مختلف کانفرسیں منعقد ہوئیں لیکن حکومت افغانستان کی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس طرح کی مالی امداد نے افغانستان کے اقتصادی بحران کو حل کرنے میں کوئی خاص کردارادا نہیں کیا ہے کیونکہ حال ہی میں افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ ہمارا ملک دنیا کے تمام ممالک میں سب سے زيادہ پسماندہ ملک ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق امریکہ سمیت مغربی ملکوں کی غلط پالیسیوں کے علاوہ عالمی امداد کہ جوکابل کے حکام کے مطابق حکومت افغانستان سے ہماہنگ نہیں ہے،کی بنا پر اس ملک میں بد امنی میں اضافہ اس بات کا سبب بنا ہے کہ کابل اپنے اقتصادی پروگرام پر عمل درآمد نہ کرسکے، اسی وجہ سے افغانستان کی حکومت اورعوام اس ملک سے غیر ملکی افواج کے نکالے جانے اور سیکورٹی امور کو افغانستان کی فورس کے حوالے کرنے کی تاکید کی ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ ایک دہائی بعد بھی افغانستان کے حالات اس بات کو ظاہر کررہے ہیں کہ نیٹو اورامریکہ کی فوجی پالیسییاں اس ملک میں دم توڑ چکی ہیں اس کے باوجود، نیٹو اپنی غلط پالیسیوں کو افعانستان میں جاری رکہنا چاہتی ہے۔ اگر چہ امن و سکون میں پائداری کا دارومداراقتصادی اور سرمایہ کاری کے اقدامات پر ہے اس کے باوجود افغانستان میں گزشتہ دس برسوں سے امریکہ اور نیٹو کی کاروائیوں نے افغانستان کی اقتصادی پالیسیوں کے بارے میں کوئی صحیح راہ حل تلاش نہیں کیا ہے۔ اور اس وقت افغانستان کی موجودہ صورتحال کی بنا پر امریکہ اور نیٹو مسلسل تنقید کا نشانہ بنے ہوئے ہیں بالخصوص چند دنوں قبل امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قران کریم کی بے حرمتی اور سترہ نہتے عوام کے قتل عام نے غیر ملکی افواج کے خلاف پہلے سے زیادہ افغانستان کی عوام کو غضبناک کردیا ہے اسی لئے امریکی فوج کے ذمہ دار اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ امریکی اہلکاروں کو ذہنی تناؤ کا شکاردکھا کراپنی ان جارحیتوں پر پردہ ڈال دیں۔....... /169
27 مارچ 2012 - 19:30
News ID: 305007
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر "ڈاکٹر محمود احمدی نژاد" نے افغانستان سے متعلق پانچویں اقتصادی کانفرنس میں، جوافغانستان ، تاجیکستان اور پاکستان کے صدور کی شرکت سے تاجیکستان کے دارالحکومت دوشنبہ میں منعقد ہوئی ، اپنے خطاب میں تقریر میں افغانستان میں نیٹو اور امریکہ کی توسیع پسندانہ پالیسیوں پر شدید تنقید کی ۔