25 مارچ 2012 - 19:30

تمام علمائے اسلام اس بات کے قائل ہیں کہ نکاح مُوَقَّتْ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے میں رائج تھا؛ ایک گروہ کی رائے ہے کہ خلیفہ ثانی نے اپنے دور خلافت میں اس عمل کو منع کیا اور بعض دوسروں کا خیال ہے کہ یہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے زمانے میں ہی حرام قرار دیا تھا؛ اور ہم پیروان اہل بیت (علیہم السلام) کا عقیدہ ہے کہ نکاح مُوَقَّتْ کبھی بھی حرام قرار نہیں دیا گیا اور یہ نکاح پوری قوت کے ساتھ باقی ہے، (تاہم یہ حکم اپنی خاص شرائط کی بنا پر باقی ہے)۔

5

میعادی نکاح

(متعہ)

تمام علمائے اسلام اس بات کے قائل ہیں کہ نکاح مُوَقَّتْ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے میں رائج تھا؛ ایک گروہ کی رائے ہے کہ خلیفہ ثانی نے اپنے دور خلافت میں اس عمل کو منع کیا اور بعض دوسروں کا خیال ہے کہ یہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے زمانے میں ہی حرام قرار دیا تھا؛ اور ہم پیروان اہل بیت (علیہم السلام) کا عقیدہ ہے کہ نکاح مُوَقَّتْ کبھی بھی حرام قرار نہیں دیا گیا اور یہ نکاح پوری قوت کے ساتھ باقی ہے، (تاہم یہ حکم اپنی خاص شرائط کی بنا پر باقی ہے)۔

اس عقیدے میں اہل سنت کا ایک چھوٹا سا گروہ ہم سے اتفاق کرتا ہے اور اکثریت مخالف ہے اور مخالفین اس مسئلے کو طعنے کے عنوان سے اچھالتے ہیں اور اعتراض کرتے ہیں۔ حالانکہ اس میں نہ صرف کوئی اعتراض کا پہلو نہیں ہے بلکہ بہت سے سماجی مسائل کے حال ایک قوی ذریعہ ہے۔

اس موضوع کی شرح آنے والے صفحات میں پیش خدمت ہے

٭٭٭

1۔ ضروریات و احتیاجات

بہت سے لوگوں ـ بالخصوص نوجوانوں ـ کو دائمی ازدواج پر دسترس حاصل نہیں ہے، کیونکہ دائمی نکاح عام طور پر تمہیدات فراہم کرنے کی ضرورت پڑتی ہے اور اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں اور شادی کرنے والوں کو متعدد ذمہ داریاں برداشت کرنی پڑتی ہیں اور ان سے مسائل کے لئے تیاری بعض لوگوں کے لئے ممکن نہیں ہے۔

مثال کے طور پر:

1۔ بہت سے نوجوان طالبعلمی کے زمانے میں ـ بالخصوص ہمارے اس دور میں کہ طالبعلمی کا زمانہ کافی طویل ہے ـ دائمی ازدواج پر قدرت نہیں رکھتے، کیونکہ نہ تو وہ برسر روزگار ہوتے ہیں، نہ ان کے پاس مناسب گھر ہوتا ہے اور نہ ہی وہ بھاری اخراجات برداشت کرسکتے ہیں۔ وہ اس زمانے میں شادی کی رسم جتنا بھی سادگی سے منانا چاہیں، پھر بھی ضروری وسائل میسر نہیں ہوتے۔

2۔ ایسے افراد بھی جو اگرچہ شادی شدہ ہیں لیکن وہ طویل عرصے تک بیرونی ممالک میں رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ لوگ بیرون ممالک میں شدید جنسی محرومیت سے دوچار ہوتے ہیں؛ وہ نہ تو اپنی بیویوں کو بیرون ملک لے کر جاسکتے ہیں اور نہ ہی ان ممالک میں دوسری دائمی شادی کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔

3۔ ایسے افراد کی بھی کوئی کمی نہیں ہے جن کی بیویاں مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوتی ہیں اور اپنے شوہروں کے جنسی احتیاجات پورے کرنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔

4۔ مسلح افواج کے ایسے سپاہی اور اہلکار بھی ہیں جو طویل عرصے تک سرحدوں کی حفاظت پر مأمور ہوتے ہیں یا کہیں دور افتادہ علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہوتے ہیں اور اپنے خاندانوں سے دور ہوتے ہیں۔ چنانچہ یہ لوگ بھی جنسی مسائل کا شکار ہوتے ہیں ـ اور جیسا کہ ہم آنے والی سطروں میں دیکھیں گے ـ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دور میں بہت سے مسلمان سپاہیوں کو ان مسائل کا سامنا کرنا پڑا چنانچہ وقتی ازدواج کا حکم نافذ ہو۔

5۔ کبھی حمل کے ایام یا ان مخصوص ایام اور حالات میں، مرد اپنی بیویوں سے جنسی ارتباط برقرار نہیں کرسکتا اور یہ نوجوان آدمی جنسی محرومیت کا سامنا کرتا ہے۔

اس طرح کی سماجی و معاشرتی مشکلات ہمیشہ سے ہیں اور رہیں گی اور صرف عصر نبوی (ص) کے لئے مختص نہیں تھیں بلکہ ہمارے اس دور میں یہ مشکلات ـ جنسی ترغیات و تشویقات کے وسائل کی بھرمار کی وجہ سے ـ کئی گنا شدید ہوچکی ہیں۔ ایسے مواقع پر یہ افراد دوراہے پر کھڑے ہوتے ہیں یا تو (معاذاللہ) فحشاء اور گناہ کا سہارا لیں یا پھر سادہ اور وقتی نکاح کی اسلامی سہولت سے استفادہ کریں؛ جس میں دائمی ازدواج جتنی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا اور وقتی طور پر جنسی احتیاجات کا جواب بھی فراہم ہوجاتا ہے۔

زہد و پارسائی اور دونوں ـ متعہ اور گناہ ـ سے پرہیز کی تجویز، اچھی تجویز ہے مگر یہ بہت سے لوگوں کے لئے قابل عمل نہیں ہے اور کم از کم بعض لوگوں کے لئے یہ تجویز خیال و گماں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔

٭٭٭

ازدواج مسیار (زواج المسیار)!

دلچسپ امر یہ ہے کہ وقتی ازدواج اور متعہ کے مخالفین (اہل سنت کی اکثریت) نے جب نوجوانوں اور دیگر محروم طبقوں کا دباؤ محسوس کیا تو انھوں نے تدریجی انداز میں ازدواج مُوَقَّتْ کے مشابہ ازدواج کے فروغ پر رضامندی ظاہر کی (1) جس کو انھوں نے ازدواج مسیار کا نام دیا۔

گو کہ وہ اس قسم کے ازدواج کو متعہ یا ازدواج مُوَقَّتْ کا نام نہیں دیتے لیکن عملی طور پر ازدواج مُوَقَّتْ سے مختلف نہیں ہے۔

یہ لوگ شادی کے حاجتمند افراد کو اجازت دیتے ہیں کہ کسی خاتون سے دائمی نکاح کرلیں اس نیت سے کہ ایک معینہ مدت کے بعد انہیں طلاق دیں گے!۔ یہ شخص اس خاتون کے ساتھ یہ شرط طے کرے گا کہ جب تک یہ ازدواج جاری ہے، نہ تو وہ (اس وقتی) بیوی کا خرچہ (نان و نفقہ) دے گا، نہ ہی راتوں کو اس کے ساتھ سونے کا پابند ہوگا اور نہ ہی اس (شوہر کے ترکے میں اس کا کوئی حق ہوگا! اور یہ سب ازدواج مُوَقَّتْ میں بھی موجود ہیں۔ یعنی ازدواج مسیار اور ازدواج مسیار میں کوئی فرق نہيں ہے صرف ایک فرق ہے کہ ازدواج مسیار میں میاں بیوی طلاق کے ذریعے ایک دوسرے سے الگ ہوجاتے ہیں اور ازدواج مُوَقَّتْ میں یا تو شوہر باقیماندہ مدت بیوی کو بخش دیتا ہے یا پھر مدت پوری ہونے پر میاں بیوی میں جدائی واقع ہوجاتی ہے۔ (اور دونوں صورتوں میں بیوی کو عدت رکھنی پڑتی ہے)۔

اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے  کہ بعض سنی نوجوان ـ جو شادی کے ضرورتمند ہیں ـ انٹرنیٹ پر ہم سے رابطہ کرکے پوچھتے ہیں کہ "اگر ہم وقتی ازدواج کے مسئلے میں شیعہ فتاوی کی پیروی کریں تو اس میں کوئی حرج اور رکاوٹ تو نہیں ہے؟" اور ہم بھی جواب دیتے ہیں کہ کوئی شرعی رکاوٹ موجود نہیں ہے۔

وہ لوگ جو ازدواج مُوَقَّتْ یا متعہ کا تو انکار کرتے ہیں مگر ازدواج مسیار کا سہارا لیتے ہیں، درحقیقت ازدواج مُوَقَّتْ کا نام نہیں لیتے مگر اس پر عمل ضرور کرتے ہیں۔

جی ہاں! ضرورتیں بالآخر انسان کو حقائق قبول کرنے پر آمادہ کرتی ہیں خواہ اس ان حقائق کا نام نہ بھی لیں!۔

چنانچہ ہم یوں نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ جو لوگ ازدواج مُوَقَّتْ کے انکار پر اصرار کررہے ہیں، دانستہ یا نادانستہ طور پر فحشاء اور منکرات کے لئے راستہ ہموار کررہے ہیں، مگر یہ کہ وہ ازدواج مُوَقَّتْ کے مشابہ یعنی ازدواج مسیار کی تجویز پیش کریں۔ اسی وجہ سے اہل بیت علیہم السلام کی روایات میں وارد ہوا ہے کہ "اگر ازدواج مُوَقَّتْ کے اسلامی حکم کی مخالفت نہ کی جاتی، کوئی بھی شخص زنا جیسے قبیح فعل کا ارتکاب نہ کرتا۔ (2)

اسی طرح وہ لوگ جنہوں نے ازدواج مُوَقَّتْ سے ناجائز فائدہ اٹھایا ـ جو درحقیقت محروم افراد کی حقیقی ضروریات و احتیاجات کے لئے وضع ہوا ہے ـ اور اس کو ہوس کی آگ بجھانے کا ذریعہ بنایا او