24 مارچ 2012 - 19:30

تیسرے عالمی جشن نوروز کا آغاز، اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر اور تاجیکستان ،افغانستان اور پاکستان کے صدور مملکت کے اعزاز میں شہر دوشنبہ کے "سامان ہاؤس" میں آج منعقد ہوا۔

ابنا: تیسرے عالمی جشن نوروز میں اسلامی جمہوریہ ایران ، تاجیکستان ، افغانستان اور پاکستان کے صدور کے علاوہ بیس سے زائد ملکوں کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے اس جشن میں اپنی تقریر کے دوران "عید نوروز" کو تمام عالم انسانیت کے لئے صلح و دوستی اورامن و سلامتی کا پیغامبر قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی عید نوروز ایک ایسا سنہری موقع ہے کہ جس میں انسانی اقدار پر اعتماد کرکے تمام ملتوں کے درمیان عالمی امن وسلامتی کے ساتھ باہمی صلح و آشتی کا ماحول قائم کیا جاسکتا ہے۔ عالمی عید نوروز کا جشن دو سال سے ایران کے دارالحکومت تہران کی میزبانی میں منایا گیا لیکن اس سال عالمی جشن کی میزبانی کا شرف تاجیکستان کو حاصل ہوا ہے۔ فارسی زبان، ایران ، تاجیکستان اور افغانستان کی مشترکہ زبان شمار ہوتی ہے لیکن جشن عید نوروز کا انعقاد اور اسی کے ساتھ ساتھ افغانستان کی اقتصادی حمایت کے لئے ایران ، تاجیکستان ،افغانستان اور پاکستان کے صدور مملکت کی موجودگی میں ہونےوالے اجلاس نے اس نشست کی اہمیت میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ عالمی عید نوروز کی اہمیت اس جہت سےبھی لائق توجہ ہے کہ باہمی ثقافتوں کا وجود، تمام ملتوں کے درمیان تعاون میں مزید ترقی کا باعث ہوگا ۔دل کی گہرائیوں کے ساتھ دینی اور ثقافتی روابط اور زبان کے اشتراک کو، ملتوں کے درمیان سچی دوستی اور وسیع تعاون کا وسیلہ و ذریعہ قرار دینا چاہیۓ جو علاقائی اور دوجانبہ تعلقات میں مزید ترقی کا سبب بنے۔درحقیقت عید نوروز کا عالمی جشن اور اس تقریب میں فارسی زبان ممالک کے سربراہوں کا اجتماع ایک ایسا سنہری موقع ہے جو عالمی عید نوروز کے مشترکہ اقدار پر اعتماد کرتے ہوئے اقتصادی اور ثقافتی امور میں توسیع کے لئے زمین فراہم کرسکتی ہے اور علاقائی دوستی کو دشمنوں کی تفرقہ انگیز پالیسیوں ، دھمکیوں، ثقاقتی یلغاروں اور قوت و اقتدار کی غاصبانہ نمائشوں سے مقابلے کے لئے باہمی سطح پر فروغ و استحکام عطا کر سکتی ہے۔ اس بنا پر عید نوروز کا احترام نہ صرف یہ کہ ایک عالمی جشن کی بنیاد پر ہے بلکہ ثقافتی فروغ کا ماحول فراہم کرنے کی بھی یہ ایک بہترین راہ ہے جو علاقے کی حکومتوں اور عوام کو ایک دوسرے سے نزدیک کرکے ان کے درمیان دوستی اورتعلقات کو مزید مستحکم بنا دے گا۔اس نظریے کے مطابق عید نوروز کو عظیم الشان عالمی پیمانے پر منایا جانا ملتوں کے درمیان موجودہ مشترکات سے استفادہ کے لئے ایک اہم قدم شمار کرسکتے ہیں۔ اور اس کو ملتوں کے ثقافتی اقدار کی باہمی شناخت اورثقافتی ڈپلومیسی میں توسیع کا وسیلہ اور حقیقی اسلامی ثقافت اور رسم و رواج کے فروغ کا ذریعہ کہہ سکتے ہیں جو دنیا میں صلح و دوستی کے لئے اپنی جگہ خود ایک اہم ا قدام ہے ۔..... /169