19 مارچ 2012 - 20:30

بين الاقوامي مالي فنڈ کي سربراہ کرسٹائن لاگارڈ نے دنيا بالخصوص يورپ کے سخت اقتصادي حالات کي جانب سے خبردار کرتے ہوئے حالات کے سدھار کے لئے فوري ضروري اقدام کي ضرورت پر زور ديا ہے -

ابنا: نامساعد اقتصادي حالات کے بارے ميں عالمي مالياتي فنڈ کي سربراہ کا يہ بيان ايسے وقت ميں سامنے آيا ہے جب پورے يورپ اور خاص طور سے يورو زون کے ملکوں کو زبردست مالي بحرانوں کا سامنا ہے اور يونان کي اقتصادي صورتحال تو ديواليہ ہونے کي حدتک پہنچ گئي ہے-

    يوروزن کے سربراہ جان کلوڈ يونکر نے بھي اس بات کي اعتراف کيا ہے کہ يوروزون  نے يونان کي  معاشي ترقي کے احيا کے لئے امداد فراہم کرنے کي غرض سے کچھ نہيں کيا ہے- يونکر نے  کہا کہ يونان پانچ برس سے اقتصادي جمود کا شکار چلا آرہا ہے اور ہميں شروع ہي ميں يونان کو اقتصادي بدحالي سے بچانے کے لئے موثر اقدامات کرنا چاہئےتھے-

يوروزون کے سربراہ نے واضح کيا کہ يونان کو سن دوہزار دس ميں قرضے کے بدلے ملازمين اور پنشن حاصل کرنے والوں کي تنخواہوں ميں زبردست کمي اور ٹيکسوں ميں اضافہ کي جو پاليسي مسلط کي گئي، وہ يونان ميں اقتصادي جمود کي سب سے  اہم وجہ ہے-  يورپي يونين اور عالمي بينک نے يونان کے لئے  دوسرے امدادي پيکيج ميں اس ملک کے اقتصادی جمود کو دور کرنے کے لئے بعض تدابير مد نظر رکھي ہيں- فرانس  اٹلي بيلجيئم اور آسٹريا بھي يورو زون کے دوسرے ايسے ممالک ہيں جنہيں اس وقت نا مساعد اقتصادي حالت کا سامنا ہے- فرانس ميں بعض اخبارات نے ملک کے نئے صدر کو ناکام اقتصادي ميراث کا وارث قرار دينا شروع کرديا ہے-ادھر برطانيہ ميں بھي صورتحال اس سے مختلف نہيں ہے اور نيشنل يونين آف ٹيچرز اور ايسوسي ايشين اف ٹيچرز اينڈ ليکچررز نے اٹھائيس مارچ کو ہڑتال کا اعلان کرديا ہے-اين يو ٹي کے سربراہ کرسٹين بلور نے کہا ہے کہ حکومت برطانيہ کو پينشن فنڈ ميں کي جانے والي تبديليوں کے بارے ميں ہماري مخالفت کا اچھي طرح علم ہے- انہوں نے کہا کہ اساتذہ کي اکثر انجمنوں نے حکومت کي تجاويز پر جن کا  مطلب اساتذہ کي تنخواہوں سے زيادہ کٹوتي، کام کے اوقات ميں اضافہ  اور پينشن کي رقم ميں کمي شامل ہے، دستخط نہيں کئے ہيں-

برطانيہ ميں اقتصادي سروے انسٹي ٹيوٹ  ايٹم کلب نے بھي پيشگوئي کي ہے کہ ملک کي اقتصادي صورتحال ايک بار پھر کساد بازاري کي طرف جائے گي- برطانيہ کي تقريبا چاليس في ايکسپورٹ يورپي يونين کے ممالک سے ہوتي ہے اور اس خطے کے ملکوں کے اقتصادي بحرانوں نے برطانيہ کو بھي اپني لپيٹ ميں لے ليا ہے-موجودہ حالات کے پيش نظر يون دکھائي ديتا  ہے کہ يورپ کا اقتصادي بحران مستقبل قريب ميں قابو ميں آنے والا نہيں ہے بلکہ ممکن ہے کہ اس کا دائرہ اور بھي وسيع تر ہوجائے- اور اگر ايسا ہوا تو امريکہ اور يورپ کي منڈيوں کو سنگين حطرات کا سامنا کرنا پڑے گا........

/169