15 مارچ 2012 - 20:30

افغان صدر حامد کرزئي نے رواں سال کے آخر تک سیکورٹی کا انتظام قابضوں سے افغان سیکورٹی فورسز کے سپرد کۓ جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ حامد کرزئي نے کل کابل میں امریکی وزیر جنگ لئون پانیٹا سے ملاقات میں یہ بات زور دے کر کہی کہ افغانستان سنہ دو ہزار تیرہ تک اور ملک کی سیکورٹی کا انتظام اپنے ہاتھ میں لینے کے لۓ مکمل طور پر آمادہ ہے۔

ابنا: افغان صدر کے بیانات میں قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان میں موجود غیر ملکی فوجی افغانستان کے دیہاتوں سے نکل کر اپنے اڈوں میں چلے جائيں۔ یہ مطالبہ اس وجہ سے اہم سمجھا جا رہا ہے کہ ایک امریکی فوجی نے صوبۂ قندھار کے پنجوائي نامی دیہات میں فائرنگ کر کے سترہ افغان شہریوں کو موت کی نیند سلادیا تھا۔ مرنے والوں میں نصف سے زیادہ خواتین اور بچے تھے۔

افغان حکومت اور امریکہ کے درمیان طے پاۓ جانے والے معاہدے کے تحت سنہ دو ہزار چودہ تک افغانستان کی سیکورٹی کا انتظام افغان سیکورٹی فورسز کی تحویل میں دیا جانا ہے۔ اگرچہ اب تک متعدد صوبوں کی سیکورٹی کا انتظام افغان حکومت کے سپرد کیا جا چکا ہے لیکن افغانستان میں امریکی فوجیوں کے مظالم میں شدت کے پیش نظر کابل حکومت پر ملکی سطح پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ امریکہ اور نیٹو سے ملک کی سیکورٹی کا انتظام افغان سیکورٹی فورسز کی تحویل میں دینے کی راہ ہموار کرے۔

امریکہ اور نیٹو کے فوجی افغان عوام کے مذہبی عقائد اور قومی آداب و رسوم کو اہمیت نہ دینے کی وجہ سے ہر روز افغانستان مظالم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ بگرام ایئر بیس میں قرآن کریم کو نذر آتش کرنے اور اس کے بعد سترہ عام شہریوں کے قتل عام سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ امریکہ اور نیٹو افغانستان کے اقتدار اعلی اور خود مختاری کا احترام نہیں کرتے ہیں اور افغان عوام کو بھی وہ حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

افغان عوام امریکی فوجیوں کے مظالم کی وجہ سے شدید غضبناک ہیں لیکن اس کے باوجود امریکی وزیر جنگ لئون پانیٹا نے افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ ملاقات میں اس امید کا اظہار کیا ہے کہ کابل اور واشنگٹن کے درمیان جلد ہی افغانستان میں سنہ دو ہزار چودہ کے بعد تک کے لۓ امریکی فوجیوں کی موجودگی کی مدت میں توسیع کے سلسلے میں سمجھوتہ ہو جاۓ گا۔ امریکی وزیر جنگ کے یہ بیانات در حقیقت اس اسٹریٹیجک معاہدے کے سلسلے میں افغانستان کی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے مترادف ہیں جس کے تحت امریکہ افغانستان میں اپنے فوجی اڈے برقرار رکھ سکتا ہے۔ افغانستان میں کۓ جانے والے شدید عوامی اعتراضات کی وجہ سے افغان حکومت کو کسی بھی طرح کے سیکورٹی معاہدے کے دائرہ کار میں افغانستان کے قبضے کے تسلسل سے اتفاق کرنے کے سلسلے میں سخت مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔

دوسری جانب امریکہ نے افغانستان سے اپنے اس فوجی کو اس ملک سے باہر نکال کر افغان عوام کی توہین کی جس پر مقدمہ چلاۓ جانے کا افغان عوام مطالبہ کررہے ہیں۔ بنابریں افغان حکومت سے سیکورٹی معاہدے پر جلد از جلد دستخط کرنے پر مبنی امریکہ کے مطالبے کی وجہ سے افغان عوام میں تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ افغانستان کی عدلیہ کو افغانستان میں جرم کا ارتکاب کرنے والے غیر ملکی فوجیوں کی گرفتاری اور ان پر مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں ہے اور اسی وجہ سے غیر ملکی فوجی مظالم ڈھانے کے سلسلے میں زیادہ گستاخ ہوچکے ہیں۔
 .......

/169