14 مارچ 2012 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری سعید جلیلی نے مشترکہ امور کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے از سو نو آغاز پر مبنی گروپ پانچ جمع ایک کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

ابنا: سعید جلیلی نے کل یورپی یونین کی خارجہ پالیسی شعبے کی سربراہ کیتھرین ایشٹون کے نام ایک خط میں تاکید کی ہے کہ تہران این پی ٹی معاہدے کی بنیاد پر ایٹمی توانائي کے پرامن استعمال کے ایران کے حق کے احترام پر مبنی یورپی یونین کی خارجہ پالیسی شعبے کی سربراہ کے موقف کا خیر مقدم کرتا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی شعبے کی سربراہ کیتھرین ایشٹون نے چھ مارچ کو اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری سعید جلیلی کے نام ایک خط میں گروپ پانچ جمع ایک کی جانب سے مذاکرات کے نۓ دور کے رجحان کی خبر دی تھی۔ دریں اثناء امریکی صدر باراک اوباما نے کل وائٹ ہاؤس میں برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران دعوی کیا کہ تہران عام طور پر ٹائم کلنگ کی پالیسی پر عمل پیرا رہا ہے۔امریکی صدر باراک اوباما نے اس بات کو بیان کرتے ہوۓ کہ ایران کے ایٹمی معاملے کے سفارتی حل کا موقع ہاتھ سے نکلتا جارہا ہے ، تہران کو اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی تاکہ ایران بقول ان کے موجودہ پابندیوں کے زیادہ سخت نتائج سے رہائي حاصل کر سکے۔ باراک اوباما نے یہ دعوی بھی کیا کہ امریکہ اس معاملے کے حل کی مقدور بھر سفارتی کوششیں جاری رکھے گا لیکن اس کے ساتھ باراک اوباما نے مزید کہا کہ اس مسئلے کے سفارتی حل کے امکانات کم ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر کے ایران مخالف دھمکی آمیز بیانات کوئي نئي بات نہیں ہے۔ بہرحال امریکی صدر کے بیانات دو پہلوؤں سے توجہ طلب ہیں۔ ایک یہ کہ باراک اوباما نے ایران مخالف غیر قانونی پابندیوں اور ایران پر دباؤ کو ایک کامیاب پالیسی ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ البتہ اس بات کا امکان بھی ہے کہ انھوں نے یہ بیانات در حقیقت اس تنقید کے جواب میں دیۓ ہوں جو ان پر امریکہ میں انتخابی مہم کے دوران ان کے حریفوں ، مخالفین اور صیہونی لابی کی جانب سے کی جارہی ہے۔ دوسرے یہ کہ باراک اوباما نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ اگر ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ممکنہ مذاکرات میں کوئي کامیابی حاصل نہ ہوسکی اور یہ مذاکرات بھی استنبول مذاکرات کی طرح نتیجہ خیز ثابت نہ ہوۓ تو ایسا ایران کی جانب سے تعاون نہ کۓ جانے کی وجہ سے ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ گیند ایران کی کورٹ میں پھینک کر ایران سے متعلق وائٹ ہاؤس کی مخاصمانہ پالیسیوں پر کی جانے والی تنقید کا رخ پھیرنا چاہتا ہے۔ سعید جلیلی کے خط میں اس بات کو واضح طور پر بیان کیا گيا ہے کہ ایران مشترکہ امور کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے از سو نو آغاز پر مبنی گروپ پانچ جمع ایک کے فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہے اور اسی وجہ سے وہ مذاکرات کے نۓ دور کے لۓ جگہ اور وقت کے تعین کے سلسلے میں فریقین کے نمائندوں کا رابطہ ضروری جانتا ہے۔ البتہ ایران نے یہ بھی بارہا کہا ہے کہ این پی ٹی معاہدے کا رکن ہونے کے ناتے ایران کے مسلمہ ایٹمی حقوق کے بارے میں مذاکرات نہیں کۓ جاسکتے ہیں اور اسی بات پر تاکید کرتے ہوۓ سعید جلیلی کے خط میں وضاحت کی گئي ہے کہ مذاکرات مفید اور غیر مشروط ہونے چاہئيں اور ان کا مقصد پائيدار تعاون ہونا چاہۓ۔ یہ تاکید ان مذاکرات کی شرط نہیں ہے بلکہ ملت ایران کے مسلمہ حقوق کا حصہ ہے۔ ......

/169