ابنا: مزید اطلاعات کے مطابق احتجاجی جلسوں کے باعث حکومتی ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی اور رحمان ملک فوراً گلگت پہنچ گئے۔ جہاں انہوں نے مرکزی مسجد امامیہ میں شیعہ عمائدین سے ملاقات کی۔جس میں چارٹر آف ڈیمانڈ پر اہم پیش رفت ہوئی ہے، شہدا کے قاتلوں کا تعلق دہشت گرد تنظیم جنداللہ اور سپاہ صحابہ سے ہے، نصاب تعلیم کے مسئلے پر طے پانے والے فارمولے کا نوٹفکیشن آج ہی جاری کر دیا جائیگا، اور دیگر تمام مطالبات پر بتدریج عمل درآمد ہوگا۔جس پر شیعہ علماء نے اطینان کا اظہار کیا ھے۔لیکن مطلبات کی مکمل منظوری تک احنجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ھےیاد رھے شھیدوں کا خون ھمیشہ رنگ لاتا ھے۔عظیم شہداء کے سبب ملت بیدار ہوتی ھے۔ اور دشمانِ آل محمد ھمیں شھید کر کہ جس ذکر کو روکنا چاہتا ھے وہ ذکر مزید شان اور شوکت کے ساتھ برپا ہوتا ھے۔......./169
11 مارچ 2012 - 20:30
News ID: 302195
اطلاعات کے مطابق سانحہ کوہستان کے بعد شیعہ نوجوانوں نے بھرپور احتجاج شروع کردیا تھا۔اور کل حکومت کو دی گئی مدّت ختم ہونے کے بعد علماء نے احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔جس کے بعد پورے گلگت بلتستان میں احتجاجی جلسوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔