ابنا: کربلائے پاکستان کا ایک اور گوشہ بے گناہوں کے لہو سے سرخ رنگ ہو گیا، ایک ایسے موسم میں جب بہار کی باد بہاراں کے جھونکے پودوں پر بسنت رت کے پھول کھلا کر انہیں رنگ بار کر رہے ہیں، آگ و بارود کے تاجروں نے ہنستے بستے گھروں میں اداسی کی فصل کاشت کر ڈالی۔ سفر سے واپس اپنے گھروں کو جانے والے مسافروں کا کیا قصور تھا؟ صرف اتنا کہ انہوں نے پاکستان بنانے میں کردار ادا کیا اور اب پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لئے دشمن کے عزائم کے سامنے دیوار بن گئے۔ پاکستان سے محبت کی سزا اس قدر کڑی ہو گی، کسی نے بھی نہیں سوچا ہو گا۔
چمن میں دھیرے سے قدم رکھتی بہار، پودوں پر کھلتے سرخ و سفید پھول ایک طرف خون میں غلطاں لاشے، سسکیوں کی تال پر رقص کناں خواہشیں دوسری طرف، ایک طرف چیخ و پکار اور نوحے دوسری طرف گولیوں کی گھن گرج۔ گویا ایک قوم ایسی بھی ہے جس کو بہار راس ہی نہیں۔ جب بھی گلوں پر نکھار کا موسم آتا ہے، بے بس اور محب وطن قوم کے گھروں میں اداسی کا موسم در آتا ہے۔ مارچ بہت بھاری ہوتا ہے۔ سات مارچ کو لاہور کے یتیم خانہ چوک میں اس قوم کے جوان یتیم ہوئے تھے اور وہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ ظالم کا ظلم تھک رہا ہے اور مظلوم کی گردن جھک رہی ہے۔ دونوں اپنے اپنے ہنر آزمانے میں مصروف ہیں۔
کوئی اتفاق کرے یا نہ کرے مگر اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرنا ہی پڑے گا کہ اس وقت وطن عزیز عالمی شاطروں کے نشانے پر ہے، جس کی تازہ ترین مثال گزشتہ روز کوہستان شاہراہ قراقرم میں چار مسافر بسوں کو روک کر وہاں سے تمام مسافروں کو باہر نکالا گیا اور ان کے شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد 19 مسافروں کو قطار میں کھڑا کر کے قتل کر دیا گیا۔ ٹارگٹ کلنگ کے اس بدترین واقعہ کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔ ٹارگٹ کلنگ کے اس لرزہ خیز واقعہ پر صدر وزیراعظم اور وزرائے اعلٰی خیبر پختونخواہ و گلگت بلتستان نے بھرپور مذمت کی، جبکہ وزیر داخلہ رحمن ملک نے واقعہ کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
انسانی دہشت اور بربریت کا یہ پہلا واقعہ نہیں، کچھ عرصہ پہلے بالکل اسی طرز پر کوئٹہ کے نواح میں مستونگ کے علاقہ میں بھی ٹارگٹ کلنگ کی واردات میں متعدد بس مسافروں کو قطار میں کھڑا کر کے گولیوں سے بھون دیا گیا تھا، اس سے چند روز پہلے پشاور میں اوپر تلے خودکش حملوں میں متعدد افراد کو شہید کیا گیا۔ افسوسناک اور زیادہ دکھ دینے والی بات یہ ہے کہ اس قسم کے واقعات ایک ایسی مملکت خداداد کی سرزمین پر ہو رہے ہیں جو دین کے نام پر معرض وجود میں آئی اور جو دنیا کے نقشے پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے اپنا وجود رکھتی ہے۔
ایک ایسا ملک جہاں تمام مذہبی فرقوں کے لوگ مذہبی اخوت بھائی چارے اور اسلامی رواداری کی فضا میں رہتے ہیں۔ جن کا خدا بھی ایک رسول (ص) بھی ایک اور قرآن بھی ایک ہے، وہاں اس سرزمین پر ایسے ایسی خون پینے والی بلائیں اور مذہبی منافرت پھیلانے والے شیطان کہاں سے اتر آئے ہیں جو بھائی بھائی میں مذہبی تفرقہ اور منافرت پھیلانے کے لیے ایک گھناؤنی سازش کے ساتھ ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے ہاتھوں سے مروانا چاہتے ہیں۔ اگر یہ ناقابل شناخت قاتل اور دہشتگرد خود کو مسلمان گردانتے ہیں تو پوچھا جا سکتا ہے کہ دین تو امن آشتی اور محبت نچھاور کرنے کا مذہب ہے یہ تو یہاں تک کہتا ہے کہ اگر بدترین دشمن بھی تمہاری پناہ میں آ جائے تو اسے معاف کر دو۔
پاکستان میں مساجد، مذہبی عبادت گاہوں میں اپنے ہی مسلمان بھائیوں کا خون کرنے والے کون ہیں۔؟ سفر پر جانے والے اپنے بھائیوں کو روک کر قطار در قطار کھڑا کر کے ان کے سینے گولیوں سے چھلنی کرنے والے آخر کون ہیں۔؟ یہ کہاں سے آئے ہیں؟ ان کو کون بھجواتا ہے؟ ان کی شناخت کیا ہے؟ ان کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟ یہ مسلمان بھائی کے ہاتھوں دوسرے مسلمان کا گلا کیوں کٹوانا چاہتے ہیں۔؟ شاید ایسی گمنام اور پس پردہ قوتوں کو یہ علم نہیں کہ اس ملک میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں نے جس جذبہ ایمانی سے یہ وطن حاصل کیا تھا اور ایمان کی رسی کو مضبوطی سے تھام رکھا تھا وہ آج بھی اپنے اندر مذہبی منافرت اور تفرقہ ڈالنے والی کالی بھیڑوں اور بیرون ملک بیٹھی صیہونی قوتوں کو خوب جانتے ہیں۔ اگر ان کا خیال ہے کہ وہ کلمہ گو بھائیوں میں پھوٹ اور منافرت کا ڈرامہ رچا کر اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کر سکتے ہیں تو یہ محض ان کی خام خیالی ہے۔
تاہم یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ جب بھی اس قسم کی مذہبی منافرت کا دلسوز واقعہ ہوتا ہے تو وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک ایسے ہر سانحہ پر ایک تحقیقاتی کمیٹی بٹھا کر اپنی ذمہ داری سے عہدہ براء ہو جاتے ہیں۔ ماضی میں ایسے کتنے دلگداز واقعات ہوئے اور کتنی تحقیقاتی کمیٹیاں بٹھائی گئیں؟ کیا ان کا کوئی حاصل حصول ہوا، کسی مجرم کو تختہ دار پر چڑھایا گیا، محض مذمتی بیانات جاری کرنے اور تحقیقاتی کمیٹیوں کے قیام سے انسانی خون کی یہ ہولی رک سکے گی۔؟ ہر ایسے واقعہ پر چند ٹارگٹ کلرز کے منہ پر کپڑا ڈال کر میڈیا کے سامنے پیش کر دینا اور دعویٰ کرنا کہ مجرم پکڑے گئے ہیں، کیا اس قسم کے اقدامات سے عوام کو اطمینان حاصل ہو سکتا ہے۔؟
آثار یہی بتاتے ہیں کہ مسلمان کو مسلمان سے لڑوانے کے لیے صیہونی طاقتیں وسیع پیمانے پر گھناؤنی سازشیں تیار کر رہی ہیں، جس کا مظاہرہ کل پیش کیا گیا ہے۔ یہ سوال بھی غور طلب ہے کہ عوام کی سکیورٹی کے لیے جن اداروں پر سرکار لامحدود فنڈز خرچ کرتی ہے ان کا کردار کیا ہے۔ ان کی کارکردگی کیوں نظر نہیں آتی۔؟ ٹارگٹ کلرز کا اچانک مسافر بسوں کو روک کر دیدہ دلیری سے مسافروں کو شہید کر کے سکون اور مزے سے واپس لوٹ جانے پر آہنی ہاتھ ڈالنے والے یہ سکیورٹی ادارے اس وقت کہاں ہوتے ہیں جب سرعام انسانوں کا خون بہایا جا رہا ہوتا ہے۔ اگر حکومت اور ذمہ دار سیکورٹی اداروں نے ایسے میں راست اقدام نہ کیا تو شاید آنے والے دنوں میں ہمیں اس سے زیادہ خوفناک حالات کا سامنا کرنا ہو گا۔
.......
/169