ابنا: وکیل وہاب الخیری نے جنھوں نے یہ کیس دائر کرنے کی اپیل داخل کی ہے کہا ہے کہ پاکستان کے صدر۔ وزیر اعظم۔ فوجی سربراہ۔ آئی ایس آئی کے سربراہ۔ فوج کے سابق کمانڈروں جنرل اسلم بیگ اور جنرل اسد درّانی نیز جنرل حمید گل کو عدالت میں پیش ہونے کی ضرورت ہے تاکہ سیاستدانوں کو آئی ایس آئی کی جانب سے رشوت دئے جانے کے مسئلے کا جائزہ لیا جاسکے۔ وکیل وہاب الخیری نے کہا کہ جنھوں نے آئی ایس آئی سے رشوت لی ہے انھیں نہ صرف وہ رقم واپس لوٹانی چاہئے بلکہ انھیں سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے جانے سے بھی محروم کیا جانا چاہئے۔ اس کیس کا پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی زیر قیادت تین ججوں کے تعاون سے جائزہ لیا جائے گا۔ دنیا نیوز ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق سولہ(16) سال قبل پہلی بار پاکستان کی فضائیہ کے ایک کمانڈر اصغر خان نے عدالت عالیہ میں ایک اپیل دائر کی تھی۔
اس رپورٹ کے مطابق انھوں نے 1999 میں دعوی کیا تھا کہ پاکستان کی آئي ایس آئي نے ملک میں اپنی مرضی کی حکومت تشکیل دلوانے کیلئے پاکستان کے بعض سرکاری حکام اور بعض جماعتوں کے راہنماؤں کو بڑے پیمانے پر رشوت دی تھی۔ سیاسی مبصرین کے نقطۂ نظر سے سیاسی حکام کو رشوت دینے کے الزام میں آئی ایس آئی کے خلاف دائر کیا جانے والا کیس پاکستان کی حالیہ مہینوں کی تبدیلیوں کا شاخسانہ ہے۔ پاکستان کے سیاسی امور میں فوج کی مداخلت پرتشویش پر مبنی امریکی فوجی کمانڈروں کے نام اس ملک کے صدر آصف علی زرداری کے خفیہ مراسلے کے انکشاف کے بعد پاکستان کی سپریم کورٹ سیاسی میدان میں نظر آئی اسلئے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے زرداری کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کی اور پھر فوجی کمانڈروں نے بھی سپریم کورٹ کی اپیل پر زرداری کے خفیہ مراسلے کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کی جس پر پاکستان کے وزیر اعظم نے منفی ردّ عمل کا اظہار کیا۔ صدر زرداری کے قانونی تحفظ کے پیش نظرپاکستان کی سپریم کورٹ نے سوئیٹزر لینڈ میں زرداری کے کیس کی ازسرنوسماعت کا مطالبہ کیا۔ اس سلسلے میں پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے لیت و لعل سے کام لیا جس پر ان کے خلاف بھی عدالت میں کیس دائر ہوگیا اور انھیں عدالت میں طلب کرلیا گيا۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ صورت حال اس بات کا باعث بنی کہ فوج پاکستان کے سیاسی میدان میں بہتر پوزیشن میں آجائے جیساکہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان کی فوج سیاست کے میدان میں براہ راست مداخلت کرنے کے بجائے اس میدان میں تیسری قوّت کی حیثیت سے تحریک انصاف پارٹی کے سربراہ عمران خان کی حمایت کرنے لگی۔ اس رو سے سیاسی مبصرین کی نظر میں پاکستان کے حکام اور سیاسی شخصیات کو رشوت دینے کے الزام میں آئی ایس آئي کے خلاف کیس سیاسی اور فوجی دھڑوں کے مقابلے میں سیاست کے میدان کو متوازن بنانے کی ایک کوشش ہے۔ البتہ یہ کیس دوہرے وار کا کام کرسکتا ہے یعنی آئي ایس آئی پر رشوت دینے کے الزام کے ساتھہ ساتھہ ان سیاسی شخصیات کیلئے کہ جن پر رشوت لینے کا الزام ہے بھاری پڑ سکتا ہے اسلئے کہ ان کے خلاف سپریم کورٹ میں جو اپیل دائر کی گئی ہے اس میں الزام ثابت ہونے کی صورت میں ان شخصیات کو سیاسی سرگرمیوں سے محروم رکھے جانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے .......
/169