29 فروری 2012 - 20:30

امریکہ کے شہر نیویارک میں گزشتہ برس ستمبر کے مہینے میں شروع ہو کر امریکہ کے دوسرے شہروں اور یورپ کے دوسرے ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے لینے والی وال اسٹریٹ تحریک شدید ترین سردیوں کے موسم کے باوجود آج بھی جاری ہے۔

ابنا: کل اسپین ، یونان ، چیک اور فرانس میں معاشی اصلاحات کے خلاف احتجاجی جلوس نکالے گۓ اور ان ممالک کے عوام نے موجودہ صورتحال کے خلاف اعتراض کیا۔امریکہ کے شہر نیویارک میں بھی وال اسٹریٹ تحریک کے ہزاروں حامیوں نے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف مظاہرہ کیا اور یہ امید ظاہر کی کہ موسم سرما میں کسی حد تک کمزور ہوجانے والی اس تحریک میں موسم بہار میں ایک بار پھر شدت پیدا ہوجاۓ گی۔ کل ہی اٹلانٹا ، پورٹ لینڈ ، کیلی فورنیا اور واشنگٹن سمیت امریکہ کے مختلف شہروں میں اس جیسے مظاہرے کۓ گۓ۔ مبصرین نے پیشین گوئی کی تھی کہ امریکہ اور یورپ میں شدید سردی کسی حد تک وال اسٹریٹ تحریک کے حامیوں کی سرگرمیوں کے سدراہ ہوگی لیکن ایسا صرف عارضی ہوگا ۔

اس لۓ مظاہرین کے خیمے اکھاڑے جانے سے ان کے احتجاجات کا سلسلہ ختم نہیں ہوگا۔ اور اب ایسا لگتا ہے کہ موجودہ عارضی خاموشی کے بعد یورپ اور امریکہ میں بہت وسیع پیمانے پر سرمایہ داری کے خلاف ایک بار پھر احتجاجات کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ دنیا ان کی فریاد اور آواز سن رہی ہے ۔ خاص کر حالیہ دنوں میں کہ جب آزاد ذرائع ابلاغ احتجاجات کو کافی حد تک کوریج دے رہے ہیں۔ یورپ میں مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کی لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اور وہ ایک بار پھر اپنی تحریک کا آغاز کریں گے۔ ان میں سے بعض تحریکوں کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل کے پروگرام ترتیب دے رہی ہیں اور وہ موسم بہار میں زیادہ موثر اقدامات انجام دیں گي۔ ان تحریکوں نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوۓ کہ مئی کا مہینہ ان کے احتجاجات کے لۓ مناسبت ترین موقع ہے حکومتی پالیسیوں خصوصا یورپ کے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف اپنے احتجاجات کے لۓ نئي حکمت عملی اختیار کرنے کی خبر دی ہے۔

امریکہ میں سیاسی امور کے ماہر جارج ہانٹر نے اس سلسلے میں اسکائي نیوز سے گفتگو کرتے ہوۓ کہا ہے کہ ہمیں توقع ہے کہ اگلے چند مہینوں کے دوران احتجاجات حتی جدید تحریکوں کا ایک اور سلسلہ شروع ہوگا۔ اس میں شک نہیں کہ پولیس اہلکاروں کے ساتھ مظاہرین کی جھڑپوں میں وسعت آنے کے نتیجے میں گرفتاریوں میں بھی اضافہ ہوگا ۔ ماہرین نے یہ بھی پیشین گوئي کی ہے کہ موسم بہار میں احتجاجات کے دوسرے پہلووں میں بھی تقویت آۓ گی اور ان احتجاجات کا دائرہ سیاسی اور اقتصادی پہلوؤں سے بڑھ کر ثقافتی اور اجتماعی پہلووں تک پھیل جاۓ گا۔
.......

/169