26 فروری 2012 - 20:30

امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن کریم کی بے حرمتی کے خلاف جہاں عالم اسلام میں مظاہرے جاری ہیں وہیں یہ مسئلہ امریکہ میں انتخابی مہم کا ایک اہم ایشو بن چکا ہے۔

ابنا:  امریکہ میں صدارتی انتخابات کے لۓ رییپبلکن پارٹی کے نامزد امیداروں نے امریکی صدر باراک اوباما پر کھلے بندوں تنقید کرتے ہوۓ افغانستان میں قرآن کریم کی بے حرمتی کے سلسلے میں باراک اوباما کی جانب سے معافی مانگے جانے کی مذمت کی ہے۔ پارٹی انتخابات میں ایک دوسرے کے سخت حریفوں مٹ رامنی Mitt Romney اور ریک سنٹورم Rick Santorum نے باراک اوباما پر اس بات کی وجہ سے تنقید کی ہے کہ انھوں نے دیڑھ ارب انسانوں کے عقائد کی بے حرمتی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ سنٹورم نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ کوئي ایسا واقعہ رونما نہیں ہوا ہے جس کی وجہ سے معافی مانگی جاتی۔

مسلمانوں کی آسمانی کتاب کی بے حرمتی کی وجہ سے امریکہ اور افغانستان کے تعلقات کشیدگي کا شکار ہیں۔ البتہ حالیہ دنوں میں امریکی کے سیاسی اور فوجی حکام نے امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن کریم کی بے حرمتی کی مذمت اور ایک تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل کے ذریعے افغان عوام کے غصے کو کم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس دوران افغانستان میں امریکی فوجیوں پر کۓ جانے والے حملوں سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ مسلمانوں کے عقائد کی بے حرمتی لفاظی کے ذریعے ختم نہیں ہوگی۔

دریں اثناء دونوں ممالک امریکہ اور افغانستان میں جنگ پسند اور انتہا پسند گروہ عوامی احتجاجات کو غلط رخ دے کر جھڑپوں کو ہوا دینے کے لۓ نیا بہانہ فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ حالیہ ایک عشرے کے دوران بارہا دیکھا گیا ہے کہ اسلامی دنیا میں تشدد پسندوں نے ٹارگٹ کلنگ کا حربہ استعمال کیا ہے تاکہ یورپ کی مداخلت کا راستہ ہموار ہوسکے۔ اور دوسری جانب اسلام کے دشمن مسلمانوں کے مذہبی مقدسات کی بے حرمتی کے ذریعے بعض گروہوں کو انتہا پسندانہ اور تشدد آمیز اقدامات کی جانب دھکیل رہے ہیں۔ ایسا نظر آرہا ہے کہ افغانستان میں قرآن کریم کو نذر آتش کۓ جانے کا گھناؤنا اقدام ان دونوں گروہوں کی ملی بھگت کا ہی نتیجہ ہے۔

کسی بھی دین اور مذہب میں دینی عقائد اور مقدسات کی توہین قابل قبول نہیں ہے لیکن اس کے باوجود امریکہ میں صدارتی عہدہ حاصل کرنے کی کوشش ایسے افراد کر رہے ہیں جنھوں نے ڈیڑھ ارب انسانوں کی آسمانی کتاب جلاۓ جانے کو غیر اہم قرار دیا ہے۔ ایسے بیانات کا سبب امریکہ میں سیاسی گروہوں کے انتہا پسندانہ عقائد ہیں ان عقائد پر ایمان رکھنے والے امریکی دوسروں کی مذہبی اقدار کو کوئي اہمیت نہیں دیتے ہیں۔ حتی کہ اپنے ملک کے حکام کی زبانی معذرت کو بھی قبول نہیں کرتے ہیں۔واضح ہے کہ جب ان افراد میں سے کوئي فرد اقتدار تک پہنچ کر مسلح افواج کا کمانڈر انچیف بن جاتا ہے تو پھر ایسی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے کہ اس ملک کے فوجی انسانوں کی انگلیاں کاٹ کر یاد گار کے طور پر اپنے پاس رکھ لیتے ہیں اور قیدیوں کو اقبال جرم پر مجبور کرنے کے لۓ قرآن کریم کی بے حرمتی کرتے ہیں۔....... /169