20 فروری 2012 - 20:30

ایران کی وزارت خارجہ کےترجمان رامین مہمان پرست نے گروپ پانچ جمع ایک کےممالک سےمذاکرات کےلئے تہران کی آمادگی کی خبر دیتےہوئےکہاہے کہ تعاون کےارادےسے مثبت رویے کےساتھ مذاکرات ہونےچاہئے۔

ابنا: رامین مہمان پرست نے آج ملکی وغیرملکی صحافیوں کوپریس بریفنگ دیتےہوئےکہاکہ تہران کی دعوت پر آئي اے ای اے کاایک وفد ایران کےدورے پرہے اور ایران اور آئی اے ای اے کےساتھ تعاون کےطریقہ کار کےبارےميں بات چیت کررہا ہے اور یہ بات چیت آئندہ مذاکرات اور تعاون کادائرہ کارمعین کرنےکی غرض سے ہوگي ۔

رامین مہمان پرست نے کہاکہ اس وفد کےدورےکانتیجہ آئندہ مذاکرات میں موثرواقع ہوگا اور ایران ان مذاکرات کےلئے تیار ہے جبکہ اس کی جگہ اور وقت کاتعین طرفین کےاتفاق رائےسےطے کیاجائےگا۔

ایران کی وزارت خارجہ کےترجمان نے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کےدرمیان آئندہ مذاکرات کےسلسلےمیں مغربی ممالک کےپروپیگنڈوں کی جانب اشارہ کرتےہوئےکہاکہ مغربی ممالک کاطریقہ یہ ہے کہ وہ پہلے ذرائع ابلاغ کوآلہ کار بناکراپنےمقاصد کواجاگرکرنےکےلئے ماحول تیارکرتےہيں تاہم جوچیز ایجنڈےمیں ہونی چاہئے وہ اسلامی جمہوریہ ایران کےساتھ مذاکرات میں مغربی ممالک کی نیک نیتی ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کےترجمان نے شام کےخلاف یورپی یونین کی پابندیوں کےبارےميں کہاکہ یہ پابندیاں شام پرمغرب کےدباؤ کاسلسلہ جاری رکھنے کےلئے ہیں اوراگرمغربی ممالک ان ملکوں میں ڈیموکریسی چاہتےتو دہرہ رویہ اختیارکرتےہوئےبعض ملکوں کےساتھ امتیازی سلوک نہ برتتے ۔ یمن اوربحرین کی صورت حال مغرب کےدہرے رویے کاثبوت ہے۔مہمان پرست نےکہاکہ مغربی ممالک شام میں عدم استحکام پیدا کرناچاہتےہیں اور اس عدم استحکام سےصرف صیہونی جکومت کےمفادات پورے ہورہےہيں۔........ /169