19 فروری 2012 - 20:30

بحرینی سیاستدان نے کہا ہے کہ آل خلیفہ کا جبر و تشدد عوامی استقامت اور عزم راسخ کے سامنے شکست فاش سے دوچار ہوچکا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرینی سیاستدان مجید میلاد نے ہفتے کے روز العالم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: چودہ فروری 2011 سے لے کر آج تک آل خلیفہ کے خلاف عوامی احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور آغاز انقلاب کی سالگرہ کے بعد سے کئی سیاسی جماعتوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ میدان شہداء (سابقہ میدان اللؤلؤہ) پہنچنے کے لئے ہر ممکن وسیلے کو بروئے کار لائیں اور عوام نے بھی ان اپیلوں کو مثبت جواب دیتے ہوئے اپنی کوششیں شروع کردی ہیں اور اب تک کئی گروپ میدان میں پہنچ چکے ہیں لیکن خلیفی اور سعودی فورسز نے انہیں منتشر کردیا ہے۔

انھوں نے کہا: بحرین کے تمام علاقوں میں احتجاجی تحریک جاری و ساری ہے اور اس ملک کے عوام اپنے جائز حقوق کے حصول کے لئے متحدہ تحریک چلا رہے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا گو کہ آل خلیفہ کی حکومت عوام کو کچلنے کے لئے تمام تر غیر انسانی حربے بروئے کار لارہی ہے، لوگوں کے گھروں پر حملے کررہی ہے، خواتین پر تشدد کررہی ہے، تمام علاقوں میں سعودی و خلیفی ٹینک اور بکتر بند گاڑیوں کا گشت جاری ہے اور امریکی اور برطانوی ماہرین کو مظاہرین کو کچلنے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے جو خلیفی جلادوں کو تشدد کے نت نئے طریقے سکھا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا: اب تک بڑی تعداد میں بحرینی باشندے خلیفیوں کی طرف سے دم گھونٹنے والی زہریلي گیسوں کے بے تحاشا استعمال کی وجہ سے شہید ہوچکے ہیں اور خلیفیوں کے تشدد کا یہ سلسلہ جاری ہے۔یاد رہے کہ امریکہ اور یورپ سے برآمد ہونے والی زہریلی گیسوں کے استعمال سے اب تک 30 سے زائد افراد شہید، 60 افراد نابینا اور سینکڑوں افراد گلے اور آنکھوں کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوچکے ہیں لیکن عوامی تحریک مزاحمت جاری ہے۔بحرین میں عوام کی فتح اور آل خلیفہ و آل سعود اور ان کے بیرونی آقاؤں کی شکست کا ایک اہم ثبوت یہ ہے کہ بحرینی عوام موت کے خوف سے بیگانہ ہوچکے ہيں اور یہ وہی عنصر ہے جس نے فلسطین میں صہیونی قابضوں کو بھی تشویش میں مبتلا کررکھا ہے۔

.......

/169-110

تفصیل کے لئے روجوع کیجئے:

بحرین کا انقلاب کرامت 370ویں اور 371ویں دن کے واقعات/ سترواں شہید؛ بحرینی عوام میدان شہداء میں/ اپڈیٹس