19 فروری 2012 - 20:30

آل خلیفہ کی عدالت نے ایک خاتون کے قتل کے جرم میں اپنے غنڈوں پر مقدمہ چلانے کی بجائے پہلے سے قید نوجوانوں کی قید کی مدت میں توسیع کردی!

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق خلیفی غنڈوں نے تیز دھار سلاخیں پرامن مظاہرین کی طرف پھینکنے کا حربہ بھی آزما لیا جن میں سے ایک سلاخ ایک نوجوان بحرینی لڑکی کے سر کو لگا اور وہ شہید ہوگئیں اور یہ عمل عالمی سطح پر آل خلیفہ خاندانوں کی رسوائی کا سبب بنا اور آل خلیفہ کی عدالت نے اپنے غنڈوں کی بجائے بحرینی شہریوں کی حراست میں توسیع کرلی!!!
خلیفیوں کا یہ اقدام دیکھ کر بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ عقلیت کے دعویدار مغربی حکمران کتنی حدتک معقول ہیں کیونکہ وہ کسی قید و شرط کے بغیر آل خلیفہ حکومت کے حامی ہیں اور انسانی حقوق کے ساتھ اعلانیہ اور نہایت مضحکہ خیز خلیفی برتاؤ کو دیکھ کر بحرینی عوام پر روا رکھے جانے والے مظالم پر خاموش عالمی ادارے کس حد تک انسان اور انسانیت کو وقعت دیتے ہیں!!!
بہر خلیفیوں کے قاضی ابراہیم الزید نے تین ملزموں کی مدت حراست میں 45 دن تک توسیع کی ہے جن میں سے ایک بحرین کی قومی تائکوانڈو ٹیم کا کھلاڑی ہے۔
آل خلیفہ کی عدالت میں لائے گئے ان تین نوجوانوں نے جج کے سامنے کہا کہ انہیں شہید ہونے والی خاتون کی شہادت سے کئی دن قبل گرفتار کیا گیا تھا۔
ملزمان کے وکیل نے کہا: میرے موکلین گذشتہ کئی مہینوں سے جیل میں پڑے ہیں اور اس عرصے میں ان پر فرد جرم عائد نہیں کی گئی ہے۔
شہیدہ زہرہ صالح محمد "الدیہ نامی" قصبے کی رہائشی تھیں جہاں آل خلیفہ اور آل سعود کے گماشتوں نے اٹھارہ نومبر 2011 کو حملہ کرکے انہیں روکا اور ایک آہنی سلاخ ان کے سر پر دے ماری جو کھوپڑی کو سوراخ کرکے چھ انچ تک سر میں گھس گئی اور خلیفی درندوں نے کئی گھنٹوں تک انہيں اسپتال منتقل نہیں ہونے دیا اور جب اسپتال منتقل ہوئیں تو کومے میں چلی گئی اور اسی حال میں آپریشن کرکے ان کے سر سے سلاخ نکال لی گئی لیکن وہ جانبر نہ ہوسکیں اور جام شہادت نوش کرگئیں اور خلیفی افواج نے ان کے خاندان کو انہیں خفیہ طور پر دفنانے پر مجبور کیا۔
خلیفیوں نے ان پر اس وحشیانہ اور غیرانسانی حملے میں اپنے اہلکاروں کے ملوث ہونے کی حقیقت کو بے جا الزام قرار دیا لیکن تصاویر اور ویڈیو کلپس نے خلیفی جھوٹ کو برملا کردیا۔
آل خلیفہ نے اس تنہا لڑکی کے قتل کو عوام پر تھونپنے کی بھی کوشش کی لیکن سوال یہ ہے کہ پھر ان کو خفیہ طور پر دفنانے کا جواز کیا تھا۔
زہراء صالح محمد یتیم لڑکی تھیں جن کا نہ کوئی بھائی تھا اور نہ ہی کوئی بہن؛ والدین انتقال کرچکے تھے اور اپنی دادی کے ہاں رہتی تھیں۔
زہراء صالح محمد بحرین کے ایک سنی گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں اس کے باوجود ان کے اہل خاندان نے ان کی میت تحویل میں لینے کی کوشش کی تھی تو انہیں خالی ہاتھ واپس کردیا گیا۔
14 فروری انقلابی اتحاد نے شہیدہ کی تدفین کے لئے جلوس جنازہ کا انتظام بھی کیا تھا لیکن حکومت نے اس کو خفیہ طور پر دفنا کر یہ جتانے کی کوشش کی کہ بحرین کا انقلاب شیعہ انقلاب ہے اور اس میں سنی شریک نہیں ہیں جبکہ متعدد سنی راہنما خلیفی جیلوں میں اسی لئے قیدوبند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں کہ وہ خلیفی بادشاہت کے خلاف شروع ہونے والے قومی انقلاب کا حصہ ہیں۔
خلیفی عدالت نے 12 سال سے کم تین بچـیوں کو قید کی سزا سنائی ہے کیونکہ انھوں نے اپنی ماؤں کے ساتھ مظاہرے میں شرکت کی تھی!!

.......

/169-110

تفصیل کے لئے روجوع کیجئے:

بحرین کا انقلاب کرامت 370ویں اور 371ویں دن کے واقعات/ سترواں شہید؛ بحرینی عوام میدان شہداء میں/ اپڈیٹس