17 فروری 2012 - 20:30

اسلام آباد …اسلام آباد کے دورے پر آئے ہوئے افغان صدر حامد کرزئي سے پاکستان کے سياسي قائدين کي ملاقاتيں ہوئي ہيں ، ان ميں افغان صدر نے خطے ميں قيام امن سے متعلق پاکستاني کوششوں پر اطمينان کا اظہار کرتے ہوئے يہ عزم بھي ظاہر کيا کہ امن عمل پر کوئي ڈکٹيشن قبول کي نہيں جائے گي.

ابنا: افغان صدر سے مسلم ليگ قاف، اے اين پي ، جے يو آئي سين، پختونخواہ ملي عوامي پارٹي اور شيرپاو گروپ کے قائدين نے ملاقاتيں کيں، الگ الگ ملاقات کرنے والوں ميں آفتاب خان شيرپاو، چودھري شجاعت حسين ، مشاہد حسين سيد، محمود خان اچکزئي ، حاجي عديل، افراسياب خٹک،زاہد خان شامل تھے.

ملاقات کے بعد آفتاب شيرپاو نے بتاياکہ حامدکرزئي نے پاکستاني سياست دانوں کو دورہ کابل کي دعوت ديتے ہوئے مشترکا جرگوں کي تجويز کا اعادہ بھي کيا ہے، چودھري شجاعت نے ملاقات کے بعد بتاياکہ افغان صدر کا کہنا تھا کہ امن عمل کي کاميابي ميں کوئي ڈکٹيشن نہيں لي جائے گي، مشاہد حسين نے کہاکہ صدر کرزئي نے پاک افغان اور چين کے تھنک ٹينکس کي رواں برس چين ميں منعقد کرانے کي حمايت کي ہے، افغان صدر سے يہ بھي اتفاق ہوا کہ خطے کي تقدير کا فيصلہ پاکستان، ايران اور افغانستان ميں ہي ہوگا.  ........

/169