اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، مصری مصنف اور صحافی ایہاب شوقی نے کہا کہ اسرائیل، امریکہ اور سعودی عرب نے ایک مشترکہ محاذ تشکیل دے رکھا ہے اور اپنے درمیان تزویراتی ذمہ داریاں تقسیم کر لی ہیں۔ ان کے بقول، لبنان کے محاذ کی ذمہ داری صیہونی ریاست کے پاس ہے، امریکہ ایران کے خلاف کارروائی کر رہا ہے، جبکہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک یمن کے مقابلے میں کھڑے ہیں۔
انہوں نے المسیرہ ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یمن پر خصوصی توجہ ایسے وقت میں دی جا رہی ہے جب امریکہ اپنے حملوں میں بھاری ناکامی سے دوچار ہوا ہے، سعودی عرب تقریباً 12 سالہ جنگ کے دوران مکمل طور پر ناکام رہا ہے اور صیہونی ریاست بھی اپنے مقاصد حاصل کرنے یا یمنیوں کی ثابت قدمی کو متاثر کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
شوقی نے زور دیا کہ ریاض اور صیہونی ریاست کے درمیان رابطہ کاری روایتی انٹیلی جنس تعاون سے آگے بڑھ چکی ہے۔ اب یہ تعاون اسرائیل کی جانب سے سعودی عرب کو اہداف کی فہرست فراہم کرنے تک پہنچ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یمن میں شہریوں کو نشانہ بنانے کے طریقوں اور ہلاکتوں کی رفتار میں صیہونی فوجی نظریے کے آثار نمایاں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر صیہونی فوج کی جانب سے بعض علاقوں کے لیے جاری کی جانے والی انخلا کی تنبیہات کا جائزہ لیا جائے، جیسا کہ لبنان اور فلسطین میں دیکھا گیا، تو معلوم ہوتا ہے کہ سعودی عرب بھی یہی طریقہ اپنا رہا ہے۔ سعودی عرب اور اس کے حمایت یافتہ گروہ تعز اور مأرب کے محاذوں کو آزاد کرانے والی قوتوں میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شوقی کے مطابق، یہ طریقہ 1973ء کی مصر۔اسرائیل جنگ کے دوران دفرسوار کے مقام پر پیدا کی گئی دراڑ سے مشابہ ہے۔
مصری صحافی نے کہا کہ سعودی عرب ابتدا ہی سے صیہونی ریاست اور امریکہ کے ساتھ خفیہ رابطہ کاری کرتا رہا ہے۔ یمن میں اس کے اقدامات اور مقاومت کے محاذوں سے دشمنی بھی اسی کو سونپے گئے کردار کا حصہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2015ء میں یمن کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے امریکی، برطانوی اور اسرائیلی ماہرین اور فوجی افسران جارح اتحاد کے آپریشن رومز میں موجود رہے ہیں۔ ان میں وہ افسران بھی شامل تھے جو صوبہ صعدہ میں نگرانی کی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے قبرص سے آئے تھے۔
شوقی نے سعودی عرب کے اہم تنصیبات، بالخصوص ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان معلومات کو سامنے لانے کے دو مقاصد ہیں۔ پہلا مقصد سعودی عرب کی سلامتی میں موجود کمزوریوں کی حقیقی صورت حال کا جائزہ لینا ہے، جبکہ دوسرا مقصد واشنگٹن اور تل ابیب کی جانب سے دانستہ سیاسی اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے دباؤ ڈالنا ہے۔ ان کے مطابق، اس دباؤ کا مقصد سعودی نظام کی شدید کمزوری کے لمحے سے فائدہ اٹھا کر اسے خفیہ رابطہ کاری سے آگے بڑھتے ہوئے صیہونی ریاست کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا باضابطہ اعلان کرنے پر مجبور کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی حمایت ختم ہونے، خلیجی خطے میں امریکی اڈوں کی تباہی اور یمن کے خلاف جنگ میں امریکہ کی مداخلت سے گریز کے بعد سعودی عرب کو تزویراتی کمزوری کا سامنا ہے۔ ان کے بقول، امریکہ نے یمن کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی سے خود کو الگ کر لیا تاکہ دوبارہ ذلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
شوقی نے مزید کہا کہ سعودی عرب نے حرمین شریفین کے تقدس کو بنیاد بنا کر جھوٹے اور جانبدارانہ دعووں کے ذریعے اسلامی امت کو یمن کے خلاف جارحیت پر اکسانے کی کوشش کی۔ ان دعووں میں یہ الزام بھی شامل تھا کہ یمنی مکہ اور مدینہ کے مقدس مقامات کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کا اس طریقے سے کام لینا ظاہر کرتا ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ مذہبی جذبات کو کس حد تک اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے۔
شوقی کے مطابق، صیہونی ریاست کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا باضابطہ اعلان کرنے میں سعودی نظام کے سامنے واحد رکاوٹ یہ خوف ہے کہ کہیں وہ خادمِ حرمین شریفین کی حیثیت سے اپنی روحانی اور علامتی اہمیت نہ کھو دے۔ تاہم، ان کے بقول، عرب، اسلامی اور عالمی رائے عامہ میں سعودی پروپیگنڈے کی مسلسل ناکامی اور یمنی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا سعودی عرب کی گہرائی تک پہنچنا اس نظام کو ایک غیر معمولی وجودی بحران میں دھکیل رہا ہے۔ یہ صورت حال سعودی عرب کو اپنے پردے ہٹا کر کھلے عام تعلقات معمول پر لانے کو آخری حل کے طور پر اپنانے پر مجبور کر سکتی ہے۔
شوقی نے آخر میں کہا کہ صیہونی ریاست یا دیگر ممالک کے دفاعی نظاموں پر انحصار سعودی بادشاہت کو تحفظ فراہم نہیں کر سکے گا۔ ان کے مطابق، آئرن ڈوم اور ڈیوڈز سلنگ جیسے جدید دفاعی نظام بھی اسرائیل، امریکی اڈوں یا متحدہ عرب امارات کو تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اپنے ہمسایہ ممالک، یمنی عوام کی خواہشات اور مقاومت کا احترام کرکے، اور بالادستی کے منصوبے اور امریکی۔صیہونی حکمت عملی کی خدمت کا کردار ترک کرکے ہی خود کو بچا سکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ