7 فروری 2012 - 20:30

آٹھ فروری 1979 (19بہمن 1357) کو امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ سے ایرانی فضائیہ کے افسروں کی بیعت کی سالگرہ کی مناسبت سے آج ایرانی فضائیہ کے کمانڈروں نے رہبر انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای سے ملاقات کی اور آپ نے فرمایا: ہرسال شدید ترین سردی میں لاکھوں افراد 11 فروری کو انقلاب اسلامی کی کامیابی کی سالگرہ سڑکوں پر آتے ہيں اور اس سال بھی دنیا دیکھے گی اور سب اللہ کی توفیق و ہدایت سے میدان میں آئیں گے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آٹھ فروری 1979 (19بہمن 1357) کو امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ سے ایرانی فضائیہ  کے افسروں کی بیعت کی سالگرہ کی مناسبت سے آج ایرانی فضائیہ کے کمانڈروں نے رہبر انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای سے ملاقات کی اور رہبر انقلابی اسلامی نے اس موقع پر فضائیہ کے افسروں اور کمانڈروں سے خطاب کیا۔ خطاب کا متن درج ذیل ہے:

بسم ‌اللّه ‌الرّحمن ‌الرّحيم‌

آپ عزیزوں، بھائیوں اور نوجوانوں کو خوشامدید عرض کرتا ہوں اور مبارک عرض کرتا ہوں ان یادوں سے بھرے ہوئے متبرک ایام کے سلسلے میں؛ پیامبر مکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت کے سلسلے میں بھی، 22 بہمن (11 فروری یعنی انقلاب کی کامیابی کے دن) کے سلسلے میں بھی اور 8 فروری (19 بہمن) کے سلسلے میں بھی جو ـ انقلاب کے ایام کے نورانی اوراق پر ایک ناقابل فراموش یاد، اور ایک تابندہ نقطہ ہے ـ شمار ہوتا ہے۔8 فروری (19 بہمن) کی یاد کی تکریم م تعظیم، جو ہمارا اصرار ہے کہ ہر سال انجام پائے، اور ان برسوں کے دوران اس دن کو ہم فضائیہ کے عزیزوں سے ملاقات کرتے آئے ہیں اور سنتے رہے اور بولتے رہے، اس کا مقصد محض ایک یاد کو زندہ رکھنا ہی نہیں ہے ـ اگرچہ اہم اور نامی گرامی واقعات کی یادوں کو زندہ رکھنا بذات خود بھی ایک قدر ہے تاہم ـ جو چیز ہمارے لئے اہمیت رکھتی ہے وہ دو نکتوں پر مشتمل ہے: ایک ماضی سے سبق اور عبرت لینا ہے۔ مثال کے طور پر 8 فروری (19 بہمن)  کے واقعے کا جائزہ لیتے ہیں، اس سے ایک سبق لیتے ہيں اور وہ سبق اقدام، تخلیق، استقامت، بموقع اقدام اور اس اقدام کی وجہ سے معاشرے کی تحریک پر مرتب ہونے والے اثرات سے عبارت ہے؛ یہ ایک عبرت ہوئی۔ یہ بات صحیح ہے کہ انقلاب سے قبل فوج کا ڈھانچہ ایک طاغوتی ڈھانچہ نہیں تھا؛ سربراہ اور کمانڈر طاغوتی تھے لیکن فوج کا ڈھانچہ عوامی تھا اور فوجی عوام کا حصہ تھے؛ یہ ایک واضح سی بات ہے۔ یہ بات ہمارے لئے پہلے سے عیاں تھی۔ عوام کے لئے متعدد سالوں کے دوران واضح ہوگئی؛ لیکن فوج کے اس عوامی پہلو کا ظہور اور عوامی تحریک میں اس کے کردار کا سامنے آنا ایک بالکل مختلف چیز ہے۔ یہ صرف اسی وقت ممکن تھا کہ فوج کے اندر سے ایک نمایاں، چشم نواز اور قابل توجہ اقدام وقوع پذیر ہو، اور 8 فروری (19 بہمن) نے یہ کارنامہ کر دکھایا۔آپ آج جب 8 فروری (19 بہمن) کے واقعے پر نظر ڈالتے ہیں تو شاید آپ کو یہ واقعہ بہت اہم نظر نہ آئے لیکن ہم اس دن موجود تھے، بندہ اس روز خود اس واقعے کا عینی گواہ تھا اور مدرسہ علوی میں فضائیہ کے کارکنوں کے اجتماع میں حاضر ہوا اور ان کے شجاعانہ اقدام کو قریب سے دیکھا، میرا احساس اور اس واقعے کو دیکھنے والے دوسرے افراد کا احساس کچھ اور ہے۔ 8 فروری (19 بہمن) کا واقعہ "لائن توڑ دینے" کا عظيم واقعہ تھا، ایک عظیم کارنامہ تھا۔ افسران، جونیئر کمیشنڈ افسران اور ٹیکنیشینز آئے اور اعلانیہ طور پر پوری صراحت کے ساتھ انقلاب کے ہم نوا  بن گئے اور طاغوتی حکومت کے نگہبانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کو "نہ" کہا اور اس حکومت کی نفی کی؛ یہ بہت عظیم کارنامہ تھا۔ اس اقدام نے اپنا اثر مرتب کیا۔ یہ ایک بجا اور بروقت اقدام تھا ایسا اقدام جو خوابیدہ جذبات اور چھپے ہوئے احساسات نہیں کرسکتے تھے۔ تمام شعبوں اور تمام میدانوں میں اس طرح کے اقدامات اور تخلیقی کام کا اثر ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس دن میدان یہی میدان تھا؛ جنگ کے زمانے میں میدان مختلف تھا؛ آج میدان ان میدانوں سے مختلف ہے۔ ہر زمانے میں اور ہر میدان میں، موقع پر کام اور بر وقت اقدام، بروقت موجودگی ایسے ہی عظیم اثرات مرتب کرسکتا ہے۔ یہ ایک بات۔دوسری بات یہ کہ ہمیں اس واقعے سے اپنے مستقبل کے لئے سبق لینا ہے؛ ہمیں ماضی میں رکنا نہیں ہے۔ معاشروں، مجموعوں اور اقوام و جماعتوں کو در پیش آفتوں میں سے ایک ماضی کے افتخارات میں گھر کر رہنا اور لکیر کے فقیر بن کر رہنا ہے۔ اگر ہم ماضی کے افتخارات و اعزازات کو مسلسل یاد کریں اور ان پر فخر و مباہات کریں لیکن ماضی کے کارناموں کے تناسب سے اپنے آج کے دن اور زمان حال میں کچھ بھی نہ کریں، یہ درست نہیں ہے۔ گوکہ ہماری فضائیہ  اور ہماری مسلح افواج کا ان دنوں کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جاسکتا؛ زمیں اور آسمان کا فرق ہے۔ بہت عظیم اور مستحکم اور دوررس کام انجام پائے ہیں ـ اس میں کوئی شک نہیں ہے ـ تا ہم مستقبل کی جانب دیکھ لیں، مستقبل بہت اہم مستقبل ہے، بہت ہی عظیم مستقبل ہے۔ اگر ایک ملک اپی عزت و عظمت، اپنا تشخص، اپنے مفادات اور اپنی سلامتی اور امن و امان کو دوبارہ پانا چاہے اور بازیاب کرانا چاہے، وہ تخلیق کا محتاج ہے، محنت کا محتاج ہے، چین سے بیٹھنے، سونے اور گرد و پیش سے غافل رہنے اعلی اہداف کا حصول ممکن نہیں ہے۔ یہ جو آپ دیکھ رہے ہیں کہ اسلامی ممالک کئی سو سال، 200 سال یا 300 سال، پسماندگی کا شکار ہوئے، اور آج ہم اس صدیوں پر محیط پسماندگی کی سزا کاٹ رہے ہیں، اس کی وجہ غفلت تھی۔ یہاں ہمارے مغربی علاقے میں، دوسرے اسلامی خطوں میں، حکومتوں کا ظاہری دبدبہ تھا لیکن حرکت مستقبل س  مطابقت نہیں رکھتی تھی۔ دوسروں نے سائنس سیکھی، تجربہ حاصل کیا، ٹیکنالوجی سیکھ لی، دنیا کو فتح کرنے کے لئے چل نکلے اور ہم ان ان کے شکاری جال میں پھنس گئے۔ ہم اپنا سب کچھ کھوگئے۔ "ہم" سے میری مراد صرف ایران نہیں ہے؛ ایران، خطے کے ممالک، شمالی افریقی ممالک، ہمارے مشرق میں واقع ممالک، پورے اسلامی خطے کی قومیں غفلت سے دوچار ہوئیں۔ یہ غفلتیں، ظاہر رعب و دبدبے سے دل خوش کرنے، چلنے اور حرکت کرنے کی فکر نہ کرنے، مستقبل کی تعمیر کے لئے نہ سوچنا، اس طرح کے نقصانات کا سبب بنتا ہی ہے۔ البتہ جب قومیں بیدار ہوجاتی ہیں، یہ بیداری اپنے پیچھے، خودکار طور پر، بعض اقدامات اور حرکتوں کو معرض وجود میں لاتی ہے؛ تا ہم ان کی رفتار کم ہوتی ہے؛ یہ حرکتیں تیزرفتار اور مؤثر بھی ہوسکتی ہیں جو دوسروں سے سبقت پر منتج ہوں اور سست رفتار بھی ہوسکتی ہیں کہ ایسی صورت میں ہم دوسروں تک نہیں پہنچ سکیں گے کیونکہ ظاہری امر ہے کہ دوسرے بےکار نہیں بیٹھے ہیں۔ ایسان نہیں ہے کہ اگر ہم کام، محنت، کوشش اور ہمت کررہے ہیں اور تعمیر و ترقی کررہے ہیں تو دوسرے کام نہیں کررہے ہیں۔ دوسرے بھی ہمارے مخالف محاذ میں ہمت اور کوشش کررہے ہیں، بنا رہے ہيں، کوشش کررہے ہیں، ہمیں کچھ ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جن کا مجموعہ ہمارے کام کی رفتار بڑھا دے اور ہماری رفتار مخالف محاذ کی رفتار سے زیاد ہو؛ ایسی صورت میں ہی ہم اپنے مستقبل کے حوالے سے پر امید ہوسکتے ہیں۔یہ اس ملک کے تمام نوجوانوں کے لئے میری دائمی اور مسلسل سفارش ہے، اور آچ آپ فضائیہ کے عزیزوں اور تمام فوج اور تمام مسلح افواج کو نظم و ضبط اور تنظیمی حوالے سے بھی، وسائل، اوزاروں اور سازو سامان بنانے کے حوالے سے بھی، تربیت کے حوالے سے بھی، اخلاقی تربیت اور بنیادی معنوی عامل کی تقویت کے حوالے سے بھی اپنی کوششوں میں کئی گنا اضافہ کریں۔ سب کو اپنی کوششیں دوچند کرنی چاہئیں؛ حکومت، سرکاری اہلکار، ملک کے مختلف شعبوں منجملہ مسلح افواج کا عظیم پیکر، جو سب مل کر ملکی پیکر کے مختلف اعضاء و جوارح کو تشکیل دیتے ہیں۔ ان کوششوں کو کو بامقصد اور پرمغز ہونا چاہئے۔ خوش قسمتی سے آج اسلامی جمہوریہ کے اقدامات کی حقانیت آشکار ہوچکی ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ جو نعرے کل صرف ملت ایران لگا رہی تھی آج پورے علاقے کے لوگوں کی زبان پر جاری ہیں اور ہمہ گیر ہوچکے ہیں۔ وہ ممالک جو کبھی عالمی استکبار کے تابع مہمل تھے اور استکباری محاذ کے حقیر پیدل دستوں کا کردار ادا کررہے تھے، آج اپنی ملتوں کی ہمت کی برکت سے ترقی پسند قوتوں کی حیثیپ سے ملت ایران کے دوش بدوش کھڑے ہیں؛ ان ہی اہداف اور اسی مشن کے لئے کام کررہے ہیں، وہی نعرے لگا رہے ہیں؛ يہ آپ کی پیشرفت ہے؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملت ایران تین عشروں کے دوران اپنے لئے ناصر و مددگار اور ہمراہ و ہم قدم قوتیں پیدا کرنے میں کامیاب ہوچکی ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم ان تحریکوں کو معرض وجود میں لائے ہیں؛ یہ منطقی اور معقول بات نہیں ہے؛ تا ہم یہ بھی معقول نہیں ہے کہ ایک ملت نے ان تین عشروں میں اپنی بیداری کی برکت سے عالمی سطح پر جو لہریں کھڑی کی ہیں، وہ دوسروں کی بیداری پر اثر انداز نہیں ہوئی ہیں، یہ بات بھی معقول نہیں ہے، یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے۔ آج پوری دنیا میں تجزیئے اور تبصرے یہی ہیں؛ سب کہہ رہے ہیں کہ یہی ملک (اسلامی جمہوریہ ایران) بیداری اور اسلامی تحریکوں کی ماں ہے۔ ان ہی دنوں جب بھی بیرونی مبصرین اخبارات و جرائد اور مختلف ویب سائٹوں پر مندرج خبروں تبصروں میں اسی مسئلے کو بنیاد بنا تے ہیں۔ یہ ہماری حرکت کی حقانیت کی علامت ہے۔ اسلامی نظام اور اسلام جمہوریہ کی حرکت، اور اس حرکت کو معرض وجود میں لانے والا انقلاب، یلغاروں کے مقابلے میں ایک زندہ جاوید حقیقی اور قابل دوام و بقاء اور حقیقی تشخص کی سمت گامزن ہے؛ اسلامی تشخص یعنی خدائے متعال پر توکل، اپنی اسلامیت سے عزت و عظمت کا احساس، خداداد صلاحیتوں اور وسائل پر بھروسا ـ چاہے وہ ہمارے ہر فرد کی شخصی صلاحیتیں ہوں، چاہے معاشرتی اور عظیم قومی قوتیں اور صلاحیتیں ہوں، چاہے وہ ہماری انسانی اور افرادی قوت ہو، چاہے مادی اور قدرتی وسائل ہوں  ـ اور دنیا کو معنوی اقدار کی طرف آنے کی دعوت۔دنیا مادیت میں غرق ہونے سے کوئی منافع حاصل نہ کرسکی؛ دنیا کو جنسی آزادیوں کو فروغ سے کوئی فائدہ نہیں ملا، بنی نوع انسان کو یورپ میں مادی حرکتوں سے ـ جو معنویت اور روحانیت سے آزادی، الہی قیود اور پابندیوں سے آزادی، وغیرہ سے عبارت تھیں ـ کوئی فائدہ نہیں ملا؛ ان حرکتوں نے عدل و انصاف قائم کیا اور نہ ہی عمومی خوشحالی کا باعث بن سکیں، خاندان کا تحفظ کرسکیں نہ ہی آنے والی نسلوں کی صحیح تربیت کا بیڑا اٹھا سکیں؛ ان تمام امور میں انھوں نے نقصان اٹھایا۔ اور ہاں! اس اثناء میں بعض کمپنی مالکین، بینکاروں اور ہتھیار بنانے والوں نے کروڑوں اربوں کما لئے، یہ درست ہے لیکن مغرب کی مادی تہذیب انسانی حوالے سے کوئی کارنامہ دکھانے میں ناکام رہی؛ وہ اپنے آپ کو خوشبخت نہ کرسکے اور ان معاشروں کو بھی خوشبختی سے ہمکنار نہ کرسکے جو ان کے زیر سایہ تھے اور ان کی تقلید کررہے تھے۔ اسلامی انقلاب کا پیغام، بدبختیوں اور ناکامیوں کا باعث بننے والی اس حرکت سے آزادی کا پیغام ہے۔ معنویت کی طرف توجہ، اخلاق الہی کی طرف توجہ اور اسی اثناء میں انسانوں کی ضروریات پوری کرنے کے فرائض کا اہتمام؛ وہی چیز جو اسلام میں ہے یعنی حد متوسط۔ (اسلام دینداری اور معنویت کے ساتھ خدمت خلق پر بھی زور دیتا ہے]۔ نہ کیتھولک اور ارتھوڈاکس عیسائیوں کا افراط اور زيادہ روی اور ان کی غلط سخت گیریاں، اور نہ ہی ان کے برعکس مادر پدر آزادیاں جو مغربی معاشروں ان کی مادی حرکت کی بنا پر رائج ہوئیں؛ کوئی بھی درست نہیں ہے؛ دونوں غلط ہیں۔ اسلام کا مکتب اعتدال کا مکتب ہے؛ عدل و انصاف کا مکتب۔ عدل ایک ہمہ گیر اور وسیع معنی و م