ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع بریگيڈیر جنرل احمد وحیدی کی موجودگي میں اکیس دفاعی منصوبے شروع کئے گئے ہیں۔ ان منصوبوں میں الکٹرانیک، آپٹیک اور مواصلاتی تحقیقاتی منصوبے شامل ہیں۔
بريگیڈیر جنرل احمد وحیدی نے منصوبوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں میں ایک توپ کا لیزر گائڈنگ سسٹم، اینٹی آرٹیلیری میزائیل کا گائڈنگ سسٹم، اینٹی ایر کرافٹ لیزر وارننگ سسٹم اور تین قسم کے جدید ترین راڈار نیز ایک قسم کا نہایت طاقتور مائکروویو لیمپ شامل ہے اور ان کی کمرشل پروڈکشن شروع ہوچکی ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ آٹھ دفاعی مصنوعات بھی شامل ہیں جن منصوبوں میں حرارتی کیمرے، لیزر سسٹم، راڈار اور اینٹی ایر ڈیفنس سسٹم، نیوی گيشن سسٹم اور بحری جہازوں نیز آبدوزوں کے مواصلاتی سسٹم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت دفاع کے تحقیقاتی مرکز میں دشمن کو گمراہ کرنے کی کاروائياں، معلومات حاصل کرنے کے وسائل، اور راڈاروں میں خلل ڈالنے کے سسٹم مکمل کرلئے گئےہیں اور عنقریب کمرشل لیول پر ان کے پروڈکشن کا کام شروع ہوجائے گا۔ وزیر دفاع نے کہا کہ ان مصنوعات کی پروڈکشن سے ایران کی دفاعی طاقت میں کافی اضافہ ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ساری چیزیں ایرانی ماہرین کی محنت کا ثمرہ ہیں اور ان سے معلوم ہوتا ہےکہ دشمن کی پابندیاں ناکام ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی انقلاب کے بعد الکٹرانکس میں بھی ہمارے ماہرین نے کافی پیشرفت کی ہے۔........
/169