4 فروری 2012 - 20:30

جرمني کے شہر ميونخ ميں سيکورٹي کانفرنس کے انعقاد کے موقعے پر سيکڑوں جنگ مخالف کارکنوں نے مظاہرے کئےـ

ابنا: اطلاعات کے مطابق تقريبا آٹھ سو افراد ہفتے کے روز ميونخ ميں بائريشر ہوف ہوٹل کے سامنے جمع ہو گئے اور انہوں نے اسلحے کي بين الاقوامي تجارت کي مخالفت کا اعلان کيا اور دنيا ميں قيام امن کي ضرورت پر زور دياـ مظاہرين نے ميونخ اجلاس کو مستقبل ميں جھڑپوں کا سرآغاز قرار دياـ


مظاہرين کا کہنا تھا کہ ميونخ اجلاس ميں صرف اسلحہ ساز کمپنيوں کے مالکان جمع ہوتے ہيں جو دنيا کو ہميشہ حالت جنگ ميں رکھنا چاہتے ہيں ـ


اڑتاليسواں ميونخ اجلاس جمعے کو شروع ہوا ہےـ انيس سو باسٹھ سے شروع ہونے والا يہ اجلاس عالمي سيکورٹي کے تعلق سے اہم فيصلوں کا مرکز بنا ہوا ہےـ ہر سال سيکڑوں، سربراہان مملکت، وزراء، بالخصوص وزرائے دفاع، اسي طرح ستر ممالک کے فوجي امور کے ماہرين اس اجلاس ميں شرکت کرتے ہيں اور دنيا کي سيکورٹي کو در پيش خطرات کا اس ميں جائزہ ليا جاتا ہےـ


اس دفعہ کے اجلاس ميں جس ميں چاليس ملکوں کے وزرائے دفاع موجود ہيں مشرق و مغرب کے سيکورٹي تعلقات يعني نيٹو کے ميزائل ڈيفنس سسٹم کے بارے ميں ماسکو اور واشنگٹن کے اختلاف نظر پر خصوصي طور پر بحث ہوگي -
........

/169