اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق "نوجوان اور اسلامی بیداری" کے عنوان سے بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز اتوار کی صبح اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں میں واقع "میلاد ٹاور" کے کانفرنس ہال میں ہوا اور اس کی افتتاحی نشست میں صدر احمدی نژاد نے بھی شرکت کی۔ اس دو روزہ کانفرنس میں 73 ممالک سے ایک ہزار نوجوان شرکت کررہے ہیں جنہوں نے مختلف پینل تشکیل دیئے ہیں اور اور ان پینلوں میں "اسلامی بیداری کی عالمی تحریک میں نوجوانوں کے کردار" پر روشنی ڈالیں گے۔ کانفرنس ایران کے مشہور قاری کریم منصوری کی تلاوت سے شروع ہوئی اور "اسلامی بیداری فورم" کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے استقبالیہ خطاب میں اسلامی بیداری کی تحریک میں نوجوانوں کے کردار پر روشنی ڈالی۔قابل ذکر ہے کہ "اسلامی شریعت کی بنیاد پر اسلامی اصولوں، اقدار و اہداف کا احیاء و نفاذ"، "اسلامی ممالک کی اسلامی اور ملی عزت و عظمت و وقار کا احیاء"، "دین، عقلیت، علم و اخلاق کی بنیاد پر بین الاقوامی اسلامی طاقت نیز جدید اسلامی تہذیب کی تشکیل"، "مغربی جمہوریت کی بجائے اسلامی جمہوریت کا نمونہ پیش کرنا اور "اور عالمی تسلط پسند استکباری نظام کی تشہیری اور نفسیاتی یلغار کے مقابلے میں خود اعتمادی کی روح کا احیاء و تقویت"، اس کانفرنس کے اہداف و مقاصد بیان کئے گئے ہیں۔ نوجوانوں کا کردار اور اسلامی بیداری کے عوامل، اسلامی ممالک کے نوجوانوں کی کردار سازی پر انقلاب اسلامی اور امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ و امام خامنہ ای مُدَّ ظِلُّہ العالی، کی تأثیر، اسلامی بیداری کی لہر میں نوجوانوں کی کردار آفرینی میں اسلامی مفکرین کا کردار، صہیونی ریاست کے مقابلے میں لبنان کی 33 روزہ مزاحمت اور غزہ کی 22 روزہ مزاحمت میں نوجوانوں کا کردار اور اسلامی بیداری میں ان دو عظیم واقعات کا کردار، اسلامی جمہوری نظام کی تعمیر میں نوجوانوں کے کردار کا جائزہ لینا نیز "نوجوانوں اور اسلامی بیداری کی لہر کو درپییش چلینچوں اور آفتوں کا جائزہ لینا"، اس کانفرنس کے اصلی موضوعات ہیں۔صدر اسلامی جمہوریہ ایران کا خطابصدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر محمود احمدی نژاد "نوجوان اور اسلامی بیداری" کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر علاقے کے تمام ممالک میں آمریت، ڈکٹیٹرشپ اور استبداد ہے تو اس کی جڑ صہیونی ریاست ہے اور دیکھنا چاہئے کہ کن قوتوں نے ڈکٹیٹروں کو اقوام کے سامنے لاکھڑا کیا اور ڈکٹیٹر کن لوگوں کے ساتھ خفیہ اجلاسوں میں شرکت کرتے رہے ہیں؟۔اطلاعات کے مطابق اتوار 29 جنوری 2012 کی صبح تہران کے میلاد ٹاور کے کانفرنس ہال میں جوان اور اسلامی بیداری کی کانفرنس کا آغاز ہوا اور صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر محمود احمدی نژاد سے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ سال کے ایک بہترین مہینے اور عشرہ فجر کی آمد آمد پر پوری دنیا سے آئے ہوئے مؤمن اور "مطلوبہ معاشرے" کی تشکیل پر یقین رکھنے والے ایسے نوجوانوں کے اجتماع میں حاضر ہوا ہوں جو یکدلی اور ہمفکری نیز مشترکہ عزم کے ساتھ انسانی معاشروں کے لئے زيادہ انسانی اور خوبصورت مستقبل کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری اس نشست کا موضوع ایک اہم اور تاریخ ساز موضوع ہے اور میں انسان کی خلقت اور انسانی خلقت کی غایت و ہدف کی روشنی میں آج کے اس موضوع اور علاقے کے بدلتے حالات پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔آپ جانتے ہیں کہ خداوند متعال نے پورے عالم اور پوری کائنات کو انسان کی خدمت کے لئے خلق فرمایا اور انسان کو عالم وجود کا برترین موجود بنا کر خلق کیا تا کہ اللہ کا آئینہ بنے۔ انسان اللہ کی آیت و نشانی اور خدا کے اسماء و صفات کی بہترین تجلی ہے۔ اور انسان واحد مخلوق و موجود ہے جس کی تخلیق پر اللہ تعالی نے اپنے آپ کو مبارک باد دی اور فرمایا: "فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ"۔ (پس پرشكوہ و مبارک ہے خدا جو بابرکت اور بہترین خلق کرنے والا ہے۔(المؤمنون ـ 14)خداوند متعال نے انسان میں اتنی عظیم صلاحیت ودیعت رکھی کہ وہ خلیفۃاللہی کے مقام پر فائز ہوسکے یعنی عالم وجود میں خدا کا جانشین بن سکے اور انسان کو یہی مشن سونپا گیا ہے یہی انسان کی خلقت کا راز و رمز ہے۔ انسان کو اس مقام پرپہنچنا چاہئے کہ جہاں وہ خچدا کی تمام صفات کو اپنے اندر اجاگر کرے: علم، حکم، رأفت و شفقت، طاقت اور مہربانی، تخلیقی صلاحیت نیز ستاریت اور لوگوں کے اور بھائیوں کے عیب چھپانے کی صلاحیت کو اپنے وجود میں اجاکر کرسکے۔انسان کی سعادت اور کمال بعض عوامل کی بنا پر قابل حصول ہے اور ان عوامل میں سے اہم ترین عامل عدل ہے کیونکہ عدل انسانی حرکت کی بنیاد ہے اور انسانی معاشرے کو چوٹی پر لے جاتا ہے۔ تمام انبیائے الہی انسان کے کمال اور انسانی معاشرے کی سعادت کے لئے آئے ہیں اور ان سب نے عدل کا پرچم لہرایا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ عدل ملکوت کے عروج تک انسان کی پرواز کا پہلا قدم اور سب سے پہلا پلیٹ فارم ہے اور اگر عدل نہ ہو تو خدائی اقدار میں سے ایک کو بھی کبھی نفاذ کا موقع میسر نہیں آسکے گا۔ انسانی حرکت اس وقت وقعت اور اہمیت پاتی ہے جب یہ بالکل آزادانہ ہو اور آزادی اور آزادانہ انتخاب کے بغیر بنی نوع انسان کی مکمل سعادت کا امکان نہیں ہے اور سعادت اور آزادی بنی نوع بشر کے لئے اللہ تعالی کے تو عظیم تحفے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ عدل و آزادی کس وقت عملی صورت میں ظاہر ہوسکتی ہے اور جواب یہ ہے کہ ان کو عملی صورت دینا دو عوامل کے سائے میں ممکن ہے جو دونوں ایک ہی جنس اور ایک ہی منبع و مصدر سے تعلق رکھتے ہیں۔ پہلا عامل توحید اور یکتا پرستی ہے اور حقیقت یہ کہ اگر توحید اور یکتا پرستی نہ ہو تو گویا ظلم و ستم کی بنیاد کی بنیاد پڑتی ہے۔ عدل کی حقیقت بھی یکتا پرستی کے سائے میں حاصل ہوتی ہے اور انبیائے الہی آئے ہیں تا کہ سب سے پہلے توحید کا پرچم لہرا دیں اور انبیاء علیہ السلام کا عظیم ترین فریضہ اللہ کی پرستش اور یکتا پرستی اور اس کے بعد قیام عدل کی دعوت دینا ہے۔ عدل اور آزادی کے حصول کے لئے دوسرا اہم عام انسانوں کے درمیان عشق و محبت ہے اور عدل تب ہی قائم ہوتا ہے جب انسان ایک دوسرے سے محبت کریں۔ انبیاء الہی انسانوں کے سب سے بڑے عاشق اور محب تھے۔ اسلام کے عزیز ترین پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم انسانوں کے لئے عشق و محبت مجسم تھے اور آپ (ص) کا پورا وجودہ بنی نوع انسان کی محبت سے مالامال تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ انبیاء الہی کا مشن انسانی معاشرے میں عملی صورت کیوں نہیں اپنا سکا ہے؟ اوراقوام ابھی تک آزادی اور عدل کا ذائقہ اب تک کیوں نہیں چکھ سکی ہیں؟ نیز قتل عام اور جنگ اور ہتھیاروں کی نہ ختم ہونے والی دوڑ کس لئے ہے؟ کن قوتوں نے منحوس اور جعلی صہیونی ریاست مشرق وسطی کے قلب میں قائم کی ہے؟ بعض لوگوں نے علاقے میں پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کے لئے ماحول بنایا جبکہ اس علاقے کے لوگوں کا ان دو جنگوں میں کوئی کردار نہیں تھا اور یہ یورپی مہاجرین تھے جنہوں نے دوسری جنگی عظیم کے بعد علاقے اور دنیا پر صہیونیوں کے تسلط کے لئے ان دو جنگوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔ انھوں نے صہیونی ریاست کو مشرق وسطی اور خطے کے تیل کے ذخائر پر قبضہ جمانے کے لئے اس علاقے میں قائم کیا، مشرق وسطی کی عوامی اور انقلابی تحریکوں پر غلبہ پانے کے لئے، تمام انبیاء الہی کی پیدائش اور قیام و تبلیغ کے مرکز پر مسلط ہونے کے لئے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک تاریخی منصوبہ بندی تھی۔ آپ دیکھ رہے کہ وہ اس ریاست کی کس طرح حمایت کررہے ہیں۔ یورپ میں اگر کوئی خدا اور حضرت عیسی علیہ السلام کی توہین کرے تو اس کو مکمل آزادی حاصل ہے لیکن صہیونی ریاست کے بارے میں سوال تک مذموم ہے اور اس کی پاداش جیل اور تشدد ہے۔ علاقے کی قوموں کی تمام مشکلات کی جڑ صہیونی ریاست اور عالمی مستکبرین کا وجود ہے۔ کئی عشرے قبل بعض لوگوں نے غلطی کی اور مغربی قوتیں ہمارے علاقے میں گھس آئیں اور بعض دوسروں نے غلطی کا ارتکاب کرتے ہوئے ان کا ساتھ دیا اور ان لوگوں کا ساتھ اس بات کا باعث بنا کہ مغربی طاقتیں ایک صدی تک ہمارے علاقے پر مسلط ہوئیں۔ اگر آج علاقہ استبدادی ہے اور اگر علاقے کے ممالک میں استبدادی حکومتوں اور آمروں کی حکمرانی ہے تو اس کی جڑ صہیونی ہیں؛ کن قوتوں نے آمروں کے ہمارے علاقے کے ممالک کے مد مقابل لا کھڑا کیا؟ اور یہ آمر اور بادشاہ اور مستبدین کن لوگوں کے ساتھ خفیہ اجلاسوں میں ملتے تھے؟ اور علاقے کے ڈکٹیٹروں کو کن قوتوں نے ہتھیاروں سے لیس کیا ہے؟اسلامی انقلابی کی کامیابی کی سالگرہ کی آمد آمد ہے اور اسلامی انقلاب سے قبل ہمارے ملک پر امریکہ اور یورپ سے وابستہ حکومت کی حکمرانی تھی ایک متشدد اور عوام دشمن حکومت جس میں آزادی نہیں تھی، اس میں کس کو انتخاب کا حق حاصل نہیں تھا اور اس کے جیلخانے حریت پسندوں سے بھرے پڑے تھے اور لوگوں کے جائز مطالبات کا جواب توپ اور ٹینک اور مشین گن سے دیا جاتا تھا۔ اس حکومت کا سربراہ "شاہ" امریکہ اور یورپ کے بڑے ملکوں کے حکمرانوں کی ہمہ جہت حمایت سے بہرہ مند تھا اور وہ اس کو ایٹمی توانائی بھی دینا چاہتے تھے اور جس دن ہماری قوم نے آزادی حاصل کی اور عوام کو انتخاب کا حق ملا، وہ تمام طاقتیں آج تک ہمارے مد مقابل کھڑی ہیں اور یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ وہ انسان کی آزادی، عدل، استقلال اور وقار و کرامت کے خلاف ہیں۔ بنیادی طور پر صہیونی ریاست کی موجودگی ہی اقوام کی توہین اور انسانی کرامت کی پامالی ہے۔آج علاقہ اور پورا عالم انقلاب سے گذر رہا ہے اور انقلاب کی حمایت کا دعوی کرنے والے سیاستدانوں کی طہارت و ایمانداری و دیانتداری کا معیار یہ ہے کہ اصولی طور پر صہیونی ریاست، امریکہ اور اس کے حلیفوں کے مخالف ہوں۔ ٭ اس میں کوئي شک نہیں ہے کہ جمہوریت امریکہ اور اس کے حلیفوں کی بندوقوں کی نالی سے نکل کر باہر نہیں آتی اور علاقے میں استکباری طاقتوں کی موجودگی کا ثمرہ علاقے کی قوموں کے لئے غربت و افلاس کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ ٭ ایک صدی سے بھی زائد عرصے سے امریکہ میں صرف دو جماعتوں کی حکومت چلی آرہی ہے جبکہ امریکہ کی آبادی تیس کروڑ سے بھی زيادہ ہے سوا یہ ہے کہ امریکی عوام کو کیوں مجبور کیا گیا ہے کہ وہ ایک جماعت سے دوسری جماعت کے دامن میں پناہ ڈھونڈتے پھریں؟ حالانکہ یہ دونوں جماعتیں کٹھ پتلی ہیں اور پس پردہ قوت صہیونی ریاست ہے۔ ٭ آج یورپ اور امریکہ کے عوام بھی اٹھ کھڑے ہوئے ہیں لیکن یورپ کے عوام اگر کہنا چاہیں کہ ان حکمرانوں سے بیزار ہیں تو وہ کریں تو کیا کریں؟ امریکی عوام اگر کہیں کہ اس حاکم سے بیزار ہیں تو کس سے پناہ مانگیں؟خلیج فارس کی ریاستیں اور امریکی ہتھیاروں کی خریداری٭ ہم سب کو علاقے میں ہوشیار و بیدار رہنا چاہئے۔ گذشتہ عیسوی سال کے دوران ہمارے علاقے میں 60 ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہتھیار فروخت کئے گئے، سوال یہ ہے کہ کیا ہتھیار جمہوریت کے قیام کے لئے ہیں یا جنگ اور انسانوں کے قتل عام کے لئے؟٭ آزادی، کرامت اور
29 جنوری 2012 - 20:30
News ID: 293529
تہران میں نوجوان اور اسلامی بیداری کے عنوان سے کانفرنس کا آغاز / صدر احمدی نژاد کا خطاب / ڈاکٹر ولایتی: اسلامی بیداری کی تحریک 150 سال قبل شروع ہوئی/ سوڈانی رہنما: یہ کانفرنس، وحدت اسلامی کا سبب بنے گا/ کانفرنس کے 1200 مہمان /مصر کے شیعہ نوجوانوں کو ایران نہیں آنے دیاگیا۔