28 جنوری 2012 - 20:30

امام جمعہ کویٹہ نے عالمی سامراج کی سازشوں کا تذکرہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان میں مسلمانوں کو غلام بنائے رکھنے کیلئے مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، لسانی اور نسلی فسادات کو ہوا دینے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

ابنا: کوئٹہ میں علامہ سید ہاشم موسوی نے کہا کہ تقویٰ کے حصول کی راہ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ عُجب ہے۔ جسمیں بندہ اپنے عمل کو خدا کے سامنے اپنی نجات کا باعث جانتا ہے اور خدا کے فضل و کرم سے اپنے آپکو بےنیاز جانتا ہے۔

لہذا تقویٰ کے حصول میں عُجب کی بیماری سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔ امام حسین(ع) نے دعا عرفہ میں رب العزت کی بارگاہ میں التجا کرتے ہوئے فرماتے ہیں، "خدایا جسکی نیکیاں ہی برائیاں ہوں تو اسکی برائیوں کا کیا حال ہو گا" یعنی ہماری عبادات کی اتنی وقعت نہیں کہ انہیں خدا کے سامنے فخریہ انداز میں پیش کیا جا سکے۔

ہماری نیکیاں، عبادات، نماز و روزے پروردگار کی عطا کردہ نعمتوں کےمقابلے میں اتنی اہمیت بھی نہیں رکھتے ہیں، خدا کی عظمت کے سامنے ناچیز ہونے کے ساتھ ساتھ رب العزت کی بارگاہ میں ان کو فخریہ پیش کرنا ہمارے لئے شرمندگی کا باعث ہے، اس کی ایک مثال یہ کہ اکثر نماز میں ہمارا ذہن مختلف قسم کے خیالات میں کھویا رہتا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم میں سے اکثر اپنی عبادات کتنے خالص ہیں۔

انہوں نے  عالمی سامراج کی سازشوں کا تذکرہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان میں مسلمانوں کو غلام بنائے رکھنے کیلئے مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، لسانی اور نسلی فسادات کو ہوا دینے کی ناکام کوششیں ہو رہی ہیں۔

تاکہ پاکستانی مسلمان عالمی سامراج کے ہاتھوں فکری، فرہنگی، معاشی اور سیاسی استحصال سے نجات حاصل نہ کر سکے۔ کچھ عرصہ ٹارگٹ کلنگ میں قدرے کمی کے باوجود دوبارہ شروع ہونا اور ایک ہی دن میں کراچی اور کوئٹہ میں اہل تشیع کا پاک خون بہانا اس سلسلے کی کڑیاں ہیں، لیکن تمام مسلمانوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ شہداء کے خون کے پیغام کو سمجھتے ہوئے اسکی بھرپور حفاظت کریں، اور اپنے اندر دینداری، اخوت اور اتحاد کے ساتھ ساتھ تدین کا خیال رکھیں کیونکہ تدین کے ذریعے ہی خوشحالی اور ترقی میسر ہے۔

.......

/169