25 جنوری 2012 - 20:30

پینسٹھ سالہ شہید الحاج سعیدالسکری کے علاوہ 14 فروری کے انقلابی اتحاد کے راہنما شہید عباس الشیخ اور منگل کے روز گرفتار ہونے والے منتظر الفخر آل خلیفہ کے ہاتھوں شہید ہوگئے ہیں ۔ منتظر الفخر کی شہادت آزار و اذیت اور خلیفی تشدد کے نتیجے میں واقع ہوئی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق الحاج سعید السکری اور عباس الشیخ خلیفی غنڈوں اور کرائے کے بیرونی قاتلوں کی زہریلی گیسوں کا نشانہ بن کر شہید ہوگئے ہیں اور "الدیہ" کے رہائشی، منتظر فخر منگل کی شام کو جد حفص کے علاقے میں خلیفیوں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے تھے جنہیں خلیفی اذیتکدے میں شدید تر درندگی کا نشانہ بنا کر شہید کردیا گیا۔بدھ کے روز بھی خلیفیوں نے آل سعود کے کرائے کے غنڈوں کی مدد سے العالی کے علاقے میں لوگوں کے گھروں پر حملہ کیا اور گھروں کے اندر زہریلی گیسوں کے گولے پھینکے جس کے نتیجے میں 65 سالہ بزرگ الحاج سعید السکری دم گھٹنے کی وجہ سے جام شہادت نوش کرگئے۔ اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ سب سے پہلی خبر ایجنسی تھی جس نے اس 65 سالہ بحرینی شہری کی شہادت کی خبر فارسی زبان میں شائع کی۔ شہید السکری بحرین کے انقلاب کرامت کے باسٹھویں شہید ہیں۔ بحرین سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شہید السکری یا جنازہ جمعرات کو صبح آٹھ بجے شہر "النعیم" میں اٹھے گا اور توقع ہے کہ عوام کی بڑی تعداد ان کے جلوس جنازہ میں شرکت کرے گی۔ بحرین میں "تیار الوفاء" نامی دھڑے نے عوام سے ان کے جلوس جنازہ میں بھرپور شرکت کی اپیل کی ہے۔ کل بدھ کو جام شہادت نوش کرنے والے شہید "عباس الشیخ" دو مہینے قبل خلیفی جلادوں کی طرف سے شارٹ گن کی فائرنگ کا نشانہ بن کر شدید زخمی ہوئے تھے۔ انھوں نے دو مہینوں تک موت کے پنجے میں پنجہ ڈال کر خلیفی جراحتوں اور زخموں کی مزاحمت کی لیکن زخموں کی تاب نہ لا کر کل بدھ کے روز شہید ہوگئے۔ آج کے تیسرے شہید منتظر الفخر ہیں جو الدیہ کے علاقے کے رہائشی تھے اور منگل کی شام کے وقت جد حفص کے علاقے میں خلیفی جلادوں نے انہیں گرفتار کیا اور بدھ کی صبح ان کے خاندان کو اطلا دی کہ ان کا عزیز "طبیعی موت کے نتیجے میں" دنیا سے رخصت ہوا ہے!؟ شہید کے اہل خاندان کے ان کی لاش سردخانے میں دکھا‏ئی گئی ہے اور ان کے بدن پر تشدد کے بے شمار نشانات موجود ہیں۔خلیفی دہشت گرد حکومت نے شہید کے خاندان سے کہا ہے کہ ان کو ان کے فرزند کی لاش صرف اس شرط پر ان کی تحویل میں دی جائے گی کہ اہل خاندان ان کے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ میں "طبعی موت" کا خانہ پر کریں اور ان کی شہادت کے واقعے کی پردہ پوشی کریں۔

............

/110