24 جنوری 2012 - 20:30

امریکی صدر باراک اوباما نے کانگرس میں اپنی تیسری سالانہ تقریر میں کہ جو ان کے پہلے دور صدارت میں کانگرس میں ان کی آخری تقریر تھی، ایران پر ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کا الزام لگایا۔

ابنا: باراک اوباما نے اس دعوے کے ساتھ کہ ایران پہلے سے کہیں زیادہ تنہائي کا شکار ہے، ایران کے خلاف پابندیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ ایران کے خلاف سارے آپشن کھلے ہیں۔

اوباما نے اسی طرح ایران کے تیل کے بائیکاٹ کے سلسلے میں یورپی یونین کے حالیہ فیصلے کو امریکہ کی خارجہ پالیسی کی کامیابی قرار دیا اور دعوی کیا کہ انہوں نے اپنی ڈپلومیسی کے ذریعے دنیا کو متحد کیا کہ جو کسی زمانے میں ایران کے ایٹمی پروگرام کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں اختلافات کا شکار تھی۔

باراک اوباما کی یہ تقریر امریکہ کی انتخابی مہم کو پیش نظر رکھتے ہوئے پروپیگنڈا اور انتخابی مہم کا حصہ ہے اور ایران کے خلاف اسرائیل کے مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے اوباما کی جانب سے صیہونیوں کی حمایت حاصل کرنے کے تناظر میں اس کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

اس کے باوجود اس میں چند قابل توجہ نکتے موجود ہیں۔پہلا یہ کہ امریکہ پابندیوں کی بات کر رہا ہے کہ جو ایران کے خلاف امریکہ کی تین دہائیوں سے زائد عرصے کی دشمنی کے مقابلے میں کوئي حیثیت نہیں رکھتیں۔ درحقیقت باراک اوباما جسے امریکہ کی خارجہ پالیسی میں کامیابی سے تعبیر کر کے اس پر فخر کر رہے ہیں، وہ یورپی یونین کے چند ممالک کی جانب سے ایران سے تیل کی خریداری کا بائیکاٹ ہے کہ جو ایران کے تیل کی برآمدات کا صرف اٹھارہ فیصد ہے اور یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ اس فیصلے نے ایران کے لیے مشکلات پیدا کرنے سے زیادہ ایرانی تیل کے یورپی خریداروں کو مشکل سے دوچار کر دیا ہے۔

اسی بنا پر امریکہ اور یورپی یونین نے ایران کے تیل کے بائیکاٹ سے پیدا ہونے والی مشکل کو حل کرنے کےلیے بعض عرب ملکوں کو تیل کی پیداوار میں اضافے کی ترغیب دلانے جیسے اقدامات کر کے یورپی خریداروں کی اس تشویش کو دور کرنے کی سعی لاحاصل کی ہے۔ سیاسی و اقتصادی ماہرین و مبصرین کے خیال میں ایشیا اور یورپ کی تیل کی ضروریات کو پورا کرنے میں ایران کا کلیدی کردار ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے کسی بھی طرح کے اتحاد کے ٹوٹنے کا باعث بنے گا اس کے ساتھ ہی ساتھ ایران کو اپنے تیل کے خریدار بھی آسانی کے ساتھ مل جائيں گے۔

دوسرا نکتہ خلیج فارس میں بحران کھڑا کرنے کے لیے امریکہ اور برطانیہ کے واضح اقدامات ہیں کہ جن کی ایک جھلک علاقے میں مزید فوجی بھیجنے پر مبنی برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ کے بیان میں نظر آئی۔ یہ چیزیں اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ امریکہ برطانیہ اور فرانس نفسیاتی جنگ کے ذریعے ایران پر علاقائی اور بین الاقوامی دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تیسرا نکتہ ایران کے تیل اور سنٹرل بینک پر پابندی کے مسئلے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور ایران میں مالیاتی اور زرمبادلہ کے بحران کے بارے میں تجزیہ و تحلیل پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔ امریکہ نے گزشتہ چند برسوں کے دوران سلامتی کونسل کی غیرمنصفانہ قراردادوں کے ذریعے اور اسی طرح یکطرفہ طور پر ایران کے خلاف پابندیاں لگائي ہیں۔ اس غیرقانونی عمل میں ایران کے بہت سے اداروں، کمپنیوں، بینکوں اور حتی ایرانی ایٹمی سائنس دانوں کے ناموں اورکوائف کو سلامتی کونسل کی قراردادوں اور پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گيا اور یہ اتفاقی امر نہیں ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران ایران کے پانچ ایٹمی سائنس دانوں کو کہ جن کے نام سلامتی کونسل کی قراردادوں کی فہرست میں موجود تھے، دہشت گردی کا نشانہ بنایا گيا اور ان میں سے بعض شہید ہو گئے۔

ان اقدامات کا مقصد صرف ایک جملے میں خلاصہ ہوتا ہے اور وہ ایٹمی مسئلے میں اپنے قانونی اور مسلمہ حقوق سے پسپائی اختیار کرنے پر ایران کو مجبور کرنے کے لیے مغرب کی کوشش ہے۔ لیکن امریکہ بخوبی یہ بات جانتا ہے کہ اس قسم کے مطالبے کی این پی ٹی معاہدے کے تناظر میں کوئی قانونی اور بین الاقوامی حیثیت اور پوزیشن نہیں ہے۔

ایران نے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں اور وہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کا بھی رکن ہے اور اس ایجنسی کی کسی بھی رپورٹ میں اس بات کا کوئي ثبوت موجود نہیں ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام میں انحراف پایا ہے اور وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ .........

/169