ابنا: رياض سے موصولہ رپورٹ کے مطابق سعودي فرمانروا عبداللہ بن عبدالعزيز نے وزير خارجہ سعود الفيصل اور قومي سلامتي کونسل کے سيکريٹري بندر بن نائف کو حکم ديا ہے کہ عراق ميں جمہوريت اور سياسي عمل کو سبوتاژ کرنے کے لئے ہر ضروري اقدام کریں۔
ادھر عراقي ٍذرائع ابلاغ نے سعودي عرب کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دي ہے کہ سعودي فرمانروا عبداللہ بن عبدالعزيز نے ملک کے اعلي حکام سے کہا ہے کہ رياض نے ايران کے خلاف عراق کي جنگ ميں صدام حکومت کو گرنے سے بچانے کے لئے بيس ارب ڈالر کي رقم صدام کو دي تھي اور اب عراق ميں سياسي عمل اور جمہوريت کي پيشرفت کو روکنے کے لئے دو سو پچـاس راب ڈالر کي رقم مخصوص کي ہے کيونکہ عراق ميں موجودہ سياسي عمل کا جاري رہنا سعودي عرب کے نظام حکومت کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے۔
اسي کے ساتھ بعض ٍذرائع نے طارق الہاشمي کے معاملے ميں امريکا کي مداخلت کي بھي خبر دي ہے۔ امريکا، ان عدالتي تحقيقات کے نتائج کو نظر انداز کرکے جو عراق کے پانچ ججوں نے انجام دي ہيں اور پانچوں ججوں نے طارق الہاشمي کي گرفتاري کا حکم متفقہ طور پر صادر کيا ہے، اس معاملے ميں مداخلت اور طارق الہاشمي کي کھلي حمايت کررہا ہے جس سے عراق ميں دہشتگرد گروہوں اور دہشتگردي کي امريکا کي جانب سے پشتپناہي کي تائيد ہوتي ہے۔......
/169