18 جنوری 2012 - 20:30

اطلاعات ہيں کہ حماس اور جہاد اسلامي تنظيموں نے ايک دوسرے ميں ضم ہونے کے سلسلے ميں صلاح و مشورے شروع کرديئے ہيں-

ابنا: صہيوني ریاست کے ساتھ محمود عباس کي زير قيادت فلسطيني انتظاميہ کي طرف سے مذاکرات جاري رکھنے کے اصرارکے پيش نظر اطلاعات ہيں کہ حماس اور جہاد اسلامي تنظيموں نے ايک دوسرے ميں ضم ہونے کے سلسلے ميں صلاح و مشورے شروع کردئے ہيں غزہ ميں فلسطين کي منتخب حکومت کے وزير اعظم اسماعيل ہنيہ کے دفتر سے جاري ہونے والے ايک بيان ميں کہا گيا ہے کہ اسماعيل ہنيہ نے منگل کو جہاد اسلامي تنظيم کے ايک وفد سے ملاقات ميں ان دونوں فلسطيني گروہوں کے ايک دوسرے ميں ضم ہوجانے کے سلسلے ميں اپني بھرپور حمايت کا اعلان کرديا ہے دريں اثنا حماس کے ايک سينئر ليڈر خليل الحيہ نے بھي بدھ کو اس بات کي تصديق کردي ہے کہ دونوں گروہوں کے ايک دوسرے ميں ضم ہونے کے سلسلے ميں مذاکرات شروع ہوگئے ہيں

انہوں نے کہاکہ حماس پوري نيک نيتي کے ساتھ فلسطيني گروہوں کے اندر ہر قسم کے فاصلے کو کم کرنے اور غرب اردن وغزہ کو دوبارہ ايک دوسرے سے متصل کرنے نيز قومي اتحاد کے لئے کام کررہي ہے حماس کے ليڈر نے کہاکہ فلسطيني گروہوں کے اتحاد کے ذريعے قومي اتحاد کي حکومت تشکيل دي جاسکتي ہے اور اسي طرح صہيوني حکومت کي سازشوں کو بھي ناکام بنايا جاسکتا ہے

حماس کے ايک اور رہنما اسماعيل الاشقر نے بھي حماس اور جہاد اسلامي کے آپس ميں ادغام ہوجانے کے عمل اور کوششوں کي حمايت کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ ہم قومي مفاہمت کے دور ميں ہيں اور حماس و جہاد اسلامي کے مشترکات ان کے نظرياتي اختلافات سے کہيں زيادہ ہيں اسمعيل الاشقر نے ان دونوں گروہوں کے اتحاد سے پہلے فلسطيني گروہوں اور فلسطيني عوام کو فائدہ پہنچے گا حماس کے ايک اور رہنما محمد ا لہندي نے بھي حماس اور جہاد اسلامي کے آپسي اتحاد کي ضرورت پر زور ديتے ہوئے کہکہ حماس اور جہاد اسلامي کے آپس ميں ادغام کا نظريہ کافي عرصے سے پيش کيا جارہا تھا ليکن اب اس وقت اس پر کھل کر بات ہورہي ہے اور اس وقت اس کے امکانات پر پوري سنجيدگي سے جائزہ ليا جارہا ہے

حماس کے رہنما محمد الہندي نے کہاکہ حماس و جہاد اسلامي کا ادغام فلسطيني عوام کي امنگوں کے نفع ميں ہوگا اور اس سے يہ بات بھي ثابت ہوجائے گي کہ فلسطيني عوام صہيوني حکومت کے ساتھ ہر قسم کے ساز باز کے عمل اور مذاکرات کے مخالف ہيں -

فلسطين کے منتخب وزير اعظم اسماعيل ہنيہ نے مشير يوسف رزقہ نے ان دونوں فلسطيني گروہوں کے آپس ميں ضم ہوجانے کے عمل کي حمايت کا اعلان کرتے ہوئے فلسطيني انتظاميہ سے کہا کہ وہ اسرائيل کے ساتھ مجوزہ مذاکرات منسوخ کردے رزقہ نے کہاکہ فلسطين کي منتخب حکومت کي اصولي پاليسي قومي آشتي اور اتحاد کي پاليسي ہے اور حماس اس راہ ميں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے تيار ہے اسما‏عيل ہنيہ نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ امريکا اور اسرائيل فلسطيني گروہوں ميں اتحاد نہيں ديکھنا چاہتے تمام فلسطيني گروہوں سے کہا کہ وہ قومي آشتي کا راستہ انتخاب کريں اور اسے مذاکراتي عمل پر ترجيح ديں.
.........

/169