ابنا: 5 جنوری 1928 کو سر شاہنواز بھٹو کے گھر لاڑکانہ میں پیدا ہونے والا ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں کون جانتا تھا کہ وہ ملک کی قدآور سیاسی شخصیت کے روپ میں ابھر کر سامنے آئے گا۔ 1970 کے انتخابات کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت تشکیل دی اور وزیر اعظم بنے۔ اس حکومت نے پانچ سالہ مدت پوری کی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1973 میں ملک کو پہلا متفقہ آئین دیا۔
یہی نہیں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس کو بھی آج تک ان کی بڑی کامیابی قرار دیا جاتا ہے۔ جبکہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام شروع کرنے کا سہرا بھی ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔ اپنی مدت پوری کرنے کے بعد مارچ 1977 میں ہونے والے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے بھاری اکثریت لیتے ہوئے 155 نشستیں حاصل کیں جبکہ نو جماعتوں پر مشتمل پاکستان قومی اتحاد کے حصے میں صرف 36 نشستیں آئیں۔
لیکن پی این اے نے انتخابی نتائج قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اس دوران ذوالفقار علی بھٹو اور پی این اے کے رہ نما مفتی محمود کے درمیان دو اور تین جولائی کو مذاکرات ہوئے جنہیں نتیجہ خیز بھی قرار دیا جاتا رہا۔ لیکن پھر چار جولائی کو اس وقت کے آرمی چیف جنرل ضیاء الحق نے مارشل نافذ کر کے 90 دن میں انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔
ذوالفقار علی بھٹو کو دو بار نظر بند کر کے رہا کر دیا گیا تاہم انہیں تیسری بار حراست میں لے قتل میں اعانت کا مقدمہ چلایا گیا۔ اور پھر اس مقدمے میں 4 اپریل 1979 کو ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دیدی گئی۔ یوں تو پاکستان میں چار جرنیلوں نے بزور قوت حکومت کی مگر اپنے پیش رو حکمران کا تختہ الٹ کر قتل کے سیاسی مقدمے میں پھانسی دینے کے واقعہ 34 سال گزرنے کے بعد آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔ جبکہ ان کی جماعت پیپلز پارٹی آج بھی ذوالفقار علی بھٹو کے دئیے گئے منشور پر حکومت کر رہی ہے۔ ........
/169