26 دسمبر 2011 - 20:30

مشرق وسطی کے ممالک سنہ 2011 میں مختلف سیاسی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کا شکار رہے اور سعودی مفتی بھی البتہ کسی سے پیچھے نہ تھے جنہوں نے اس دوران متعدد عجیب و غریب فتوے دیئے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق "عرب 48" نامی ویب سائٹ نے یورپ میں سرگرم وہابی مولوی کا ایک فتوی شائع کیا جس میں انھوں نے بعض سبزیوں اور پھلوں کو خواتین کے لئے حرام قرار دیا اور کہا کہ "عورتوں کو کھیرے اور کیلے کو ہاتھ لگانا حرام ہے کیونکہ ان کے بقول یہ اشیاء محرک ہیں!!"۔1۔ ایک اور متنازعہ فتوی مراکش کے تحقیقت و مطالعات مرکز کے سربراہ "شیخ عبدالباری الزمزمی" نے دیا اور وہ یوں کہ: "مرد کے لئے اپنی تازہ انتقال کرنے والی زوجہ کے ساتھ ہمبستری کرنا جائز ہے"!!ان صاحب نے اس سے قبل بھی جنسیات کے حوالے سے کئی عجیب فتوے جاری کئے ہیں۔ 2۔ صومالیہ کے ایک گروپ "الشباب المجاہدین" نے سنہ 1432 کے ماہ مبارک رمضان میں ایک فتوی جاری کرکے سموسے حرام قرار ديئے کیونکہ ان کے بقول سموسہ مثلث ہے اور اس کی شکل عیسائیوں کے ثالوثِ مقدس سے ملتی جلتی ہے۔3۔ مصر کے ایک وہابی سلفی مفتی اور الازہر کی دعوت کمیٹی کے سربراہ "عمرو السطوحی" نے نومبر 2011 کے ابتدائی ایام میں اخبار "روز الیوسف" کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ایک سیاسی فتوی جاری کیا اور کہا: "چونکہ مصر کی سابق حکمران پارٹی حزب الشعبی کے اراکین بدعنوان اور برے ہیں اسی لئے ان کے ساتھ کسی بھی مصری خاتون کی شادی حرام ہے"۔ 4۔ مصر کے صوبہ الدقہلیہ کی سلفی جماعت کے نائب صدر محمد عبدالهادي نے پارلیمانی انتخابات میں سلفیوں کی پیشرفت کو ایک روحانی مسئلہ قرار دیا اور کہا: ہماری کامیابی کا واقعہ قرآن کریم کی آیت میں بیان کیا گیا ہے"۔ 5۔ دریں اثناء ایک مصری مفتی "محمد الزغبی" نے فتوی دیا ہے کہ "اگر دستیاب ہوا تو جن کا گوشت کھانا جائز اور حلال ہے"۔

............

/169

تفصیل کے لئے روجوع کیجئے:

آل سعود کے خلاف عوامی تحریک؛ تازہ ترین واقعات؛ منطقۃالشرقیہ میں مظاہرے