ابنا: ایران کی جانب سے سانحہء مستونگ کے بعد احتجاجا بند کی گئی ایران اور پاکستان کی سرحد تین ماہ کے وقفے کے بعد دوبارہ کھل گئی ہے۔پاکستان سے ایران جانے والے اس اہم زمینی راستے کو تین ماہ قبل زیارت معصومین علیہم السلام کے لئے جانے والے زائرین امام رضا علیہ السلام کے قافلے پر کالعدم دہشت گرد گروہوں کے حملہ کیااور بس سے اتار کر تیس سے زائد زائرین کو شہیدکرنے کے سنگین واقعہ کے ایرانی حکام نے احتجاجاً بند کر دیا تھا ۔گذشتہ دنوں ایراناور پاکستان کے سرحدی حکام کے
درمیان تفتان سرحدپر ایک اجلاس منعقد ہوا جس بعد ایران نے پاکستان کے ساتھ سرحد کو تجارت اور آمد و رفت کے لیے دوبارہ کھول دیا۔ اسسٹنٹ کمشنر تفتان خالق داد بڑیچ نے بی بی سی کو بتایا کہ سرحد بند ہونے کے بعد ڈپٹی کمشنرچاغی نے کئی بار ایرانی سرحدی حکام کو خطوط لکھے تھے جن میں سرحد کھولنے کی استدعا کی گئی تھی ْیہ بات یاد رہے کہ پاکستان سے ہر سال ایران زیارتی قافلوں میںدس لاکھ سے زائد شیعہ زمینی راستوں سے جاتے ہیں جبکہ ایران جانے والے زائرین براستہ کوئٹہ،تفتان اور زاہدان جاتے ہیں،ا یک رپورٹ کے مطابق تین لاکھ زائرین بذریعہ ہوائی جہاز سفر کرتے ہیں ۔
سرحد کی مسلسل بندش کی وجہ سے تفتان اور ایران سے بلوچستان کے دیگر سرحدی علاقوں میں رہنے والوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان سرحدی علاقوں میں زیادہ تر اشیا ضرورت ایران سے انتہائی سستی قیمت پر پاکستان آتی ہیں۔ایران اور پاکستان کے درمیان تفتان سرحد پر روزانہ پانچ ہزار مزدور تجارتی سامان سرحد کے ایک پار سے دوسرے پار لے جاتے ہیں لیکن گزشتہ تین ماہ سے سرحد بند ہونے کے باعث ان مزدوروں کو بے روزگاری کا سامنا تھا۔سرحد پر کام کرنے والے مزدوروں کے مطابق اگرچہ ایران کی جانب سے سرحد کھول دی گئی ہے لیکن باقاعدہ تجارت ابھی تک شروع نہیں ہوئی۔ انہوں نے سرحد کھولنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھرسرحد پرتجارتی سرگرمیاں شروع ہونے سے مزدوروں کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔ .....
/169