اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آل سعود کے خفیہ ایجنٹ عوام کے بھیس میں، آل سعود کی باوردی پولیس کی آنکھوں کے سامنے عوامی املاک اور اموال نیز تجارتی مراکز اور دکانوں پر حملہ آور ہوتے ہیں، سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچاتے اور لوٹ مار کررہے ہیں اور اس فعل قبیح کو انقلابیوں سے منسوب کرکے انہیں بدنام اور تنہا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس قسم کے مذموم اقدامات کے تسلسل میں قطیف کی سعودی پولیس کے کرائم برانچ کی فورسز نے اس شہر کے شارع انقلاب میں ٹریفک سگنلز توڑنے کے بعد دعوی کیا ہے کہ یہ سماج دشمن کاروائی انقلابیوں نے کی ہے۔ یاد رہے کہ منطقۃالشرقیہ کے عوام بحرینیوں کی مانند اپنی پر امن تحریک بڑی احتیاط سے آگے بڑھا رہے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ کسی قسم کی پرتشدد کاروائی ان کی ناکامی پر منتج ہوسکتی ہے۔واضح رہے کہ آل سعود کو اس سلسلے میں اس وقت ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا جب قطیف کی مختلف سماجی اور سیاسی شخصیات نے بیانات جاری کئے اور عوام نے جلوس نکال کر نعرے لگائے، سعودیوں کے اس مکارانہ چال کی مذمت کی اور اعلان کیا کہ یہ آل سعود کی طرف سے عوامی تحریک کو بدنام کرنے کی سازش ہے چنانچہ عوام اور تاجروں کو ہوشیار رہنا چاہئے۔ اور پھر تخریبکاری کی یہ کاروائیاں پولیس اہلکاروں کے سامنے ہوتی رہیں چنانچہ عوام کو ویسے بھی سرکاری کردار پر شبہہ ہوہی چـکا تھا۔ـ سعودی عرب: آل سعود کے گماشتے القدیح سے چار افراد پکڑ کر لے گئےان افراد کو کچھ دن قبل شہداء سے تجدید عہد کے عنوان سے ہونے والی ریلیوں میں شرکت کی بنا پر گرفتار کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی پولیس "احمد عبدالکریم البشراوی" اور "حسن محمد البشراوی" نیز "جراش" اور "صبیحی" خاندانوں کے دو نوجوانوں کو گرفتار کرکے لے گئی ہے۔ ان افراد پر الزام ہے کہ انھوں نے شہداء کے ساتھ یوم تجدید عہد کے پر امن جلوس میں شرکت کی تھی۔مبصرین کا خیال ہے کہ چونکہ آل سعود کی فورسز نے گذشتہ جمعہ کے روز منطقۃالشرقیہ میں جبر و تشدد کا نیا ریکارڈ قائم اور درجنوں افراد کو زخمی کیا اور اس اقدام سے حکومت کا مقصد عوامی تحریک کو دبانا تھا لیکن لگتا ہے کہ عوام ان واقعات کے بعد سخت رد عمل دکھائیں گے اور مظاہروں اور ریلیوں کا سلسلہ زیادہ وسیع اور شدید ہوجائے گا۔
- انقلابی اقوام! خبردار وہابیت اور استبداد کو اقتدار میں نہ آنے دیںجزیرة العرب کے دانشور نے اس ملک میں بنیادی حقوق، آزادی اور انسانی حقوق کی افسوسناک صورت حال کی طرف ضمنی اشارہ کرتے ہوئے علاقے کے انقلابی ممالک کو ان ممالک میں، سعودیوں کی طرح کے حکمرانوں کے برسراقتدار آنے سے خبردار کیا۔اطلاعات کے مطابق مڈل ایسٹ آنلائن نے نام درج کئے بغیر، ایک سعودی دانشور کا پیغام شائع کیا ہے جس میں انھوں نے خطے کے انقلابی ممالک کو خبر دار کیا ہے کہ وہ سعودی عرب جیسا استبداد اپنے معاشروں پر مسلط نہ ہونے دیں۔اس گمنام سعودی دانشور نے وہابیوں کی استبدادی حکمرانی کے سلسلے میں سعودی عوام کے تلخ تجربات اور لاقانونیت کی حکمرانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب قانون نہ ہو تو جج حضرات بے گناہ ملزمان کو بری کرنے کے بجائے انہیں کوڑوں کی سزا سناتے ہیں!!انھوں نے انقلابی اقوام سے مخاطب ہوکر لکھا ہے: ایسی حکومت میں ہرگز توقع نہ رکھیں کہ جج بروقت عدالت میں اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہوجائے یا اپنے آپ کو کام کے مقررہ اوقات کا پابند سمجھے، آپ کا کیس جتنا بھی ملتوی ہوتا رہے آپ کو صبر و انتظام کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہئے کیونکہ اگر ایسے نظام میں صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ اللہ کی نافرمانی کے مرتکب ہوئے ہیں اور ایسی صورت میں آپ جو شاید مدعی تھے مدعا علیہ کی حیثیت اختیار کریں گے اور آپ کا مدعی ہی قاضی بھی ہوگا اور آپ کو خدا کی نافرمانی کی ہر سزا بھگتنے کے لئے تیار رہنا پڑے گا خواہ وہ سزا کتنی ہی سخت کیوں نہ ہو۔ اس سعودی لکھاری نے سعودی عرب میں آزادیوں کی نوعیت، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے عنوان سے وہابی پولیس کے کرتوتوں کی طرف ضمنی اشارہ کرتے ہوئے کہا: آپ کے ملکوں میں وہابی مفتیوں کے سہارے قائم آل سعود کے استبدادی نظام جیسا نظام براقتدار آنے کی صورت میں آپ کو ماننا پڑے گا کہ آپ اپنی عورتوں کے معاملات سدھارنے سے عاجز ہیں اور اپنی نجی معاملات اور ناموس کے تحفظ کے حوالے سے آپ کے پاس غیرت کی بھی کافی کمی ہے چنانچہ یہ نظام آپ کی نمائندگی میں غیرت کی ذمہ داری بھی اپنے ذمے لے گا اور آپ کے لئے نہی عن المنکر فورس تشکیل دے گا، خواتین سرکاری اداروں یا حتی روزمرہ خریداری کے لئے بھی محرم کے ہمراہ گھر سے نکل سکیں گی اور حتی خواتین کے ساتھ کوئی محرم نہ ہو تو اس کو قومی شناختی کارڈ سے محروم رکھا جائے گا اور وہ ووٹ بھی نہیں دے سکے گی کیونکہ یہ سب غیرت کے تقاضے ہیں جسے آپ نہیں سمجھتے۔.......
/110