13 دسمبر 2011 - 20:30

روزنامہ المدینہ بھی گمراہ کن سعودی تشہیری مہم کی دوڑ میں شامل، منطقۃالشرقیہ میں وسیع احتجاجی مظاہروں اور سعودی مفکرین کے مذمتی بیان کے روزنامہ المدینہ بھی آل سعود سے وابستہ دوسرے ذرائع کی صف میں شامل ہوگیا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق  مذکورہ بالا واقعات نے آل سعود اور اس کے وابستگان کو حیرت اور خوف کی ملی جلی کیفیت سے دوچار کردیا ہے اور آل سعود اور اس کے خفیہ اداروں کے پے رول پر چلنے والے اخبارات بھی اسی کیفیت میں مبتلا ہوکر گمراہ کن سعودی تشہیری مہم کا حصہ بن گئے تاہم المدینہ کو شاید بات دیر سے سمجھ میں آئی تھی۔

/169-110

آل سعود کے خلاف سنی راہنماؤں کی احتجاجی کال

کہا جاتا ہے کہ سعودی روزنامے حتی کہ اشتہارات بھی ایجنسیوں کو دکھا کر شائع کرتے ہيں اور ملکی صورت حال پر ان کی نگاہ بہت سطحی ہے۔ بعض لوگوں نے سعودی صحافت کو مبارک دور میں مصری صحافت سے تشبیہ دی ہے مزید برآن سعودی صحافت پر ایک نظر ڈال کر غیرپیشہ ورانہ صحافت کے بے شمار نمونے دیکھے اور دکھائے جاسکتے ہیں۔ اور ان میں عوام کی رائے کی عکاسی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ المدینہ نے اپنے آخری شمارے میں منطقۃالشرقیہ میں 2011 کے شروع سے آغاز ہونے والی عوامی تحریک کو یکسر انداز کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ اس علاقے کے حالات معمول کے مطابق ہیں اور حال ہی میں ایک بلوائی گروپ کی فتنہ انگیزیوں کی ناکامی کے بعد اب وہاں امن و امان برقرارہے۔المدینہ کی عبارات دیکھ کر لگتا ہے کہ چیف ایڈیٹر نے یہ بھی لکھنا چاہا ہوگا کہ "وہاں کے عوام شاہ عبداللہ اور سعودی مفتیوں اور نئے ولیعہد کے لئے شب و روز دعائیں دے رہے ہیں!۔ان روزناموں کی یہ سطحی نگاہ اس بات کا پتہ بھی دے رہی ہے کہ شاید ان کو چلانے والی ایجنسیوں کی نگاہ اتنی ہی سطحی ہے اور خفیہ ایجنسیاں بھی ملک کے حقائق سے بالکل ناواقف ہیں۔المدینہ نے دعوی کیا ہے کہ اس کے نامہ نگار نے شیعہ علاقوں میں جاکر عوام سے رابطہ کیا ہے لیکن انھوں نے کسی قسم کی شکایت ظاہر نہیں کی ہے!!۔.......